A Double Danger

The following article, A Double Danger, was written by Dr. Kevin DeYoung and originally published on the ClearlyReformed.org website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

دوہرا خطرہ

مصنف: ڈاکٹر کیون ڈی ینگ

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

یہ حقیقت ہے کہ 2 تیمتھیس 12:3 میں دیے گئے وعدے سے دِل تسلی نہیں پاتا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ بات سچ ثابت ہو کیونکہ یہ تکلیف دہ ہے۔ دوسری یہ کہ اگر یہ پورا نہ ہو تو مجھے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کہیں میں ہی تو برا نہیں یا میرے ایمان میں ہی کوئی کمی تو نہیں۔ یہ آیت انسان کو سنجیدہ کر دیتی ہے، بلکہ جتنے مسیح یسوع میں دِین داری کی زندگی گذارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے۔ یہ بائبل مقدس کے اُن وعدوں میں سے ایک ہے جو گریجویشن کے موقع پرتحائف میں دی جانے والی، پھولوں سے سجی کتابوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔

یقیناً یہ خطرہ موجود ہے کہ بعض مسیحی جان بوجھ کر ایذا رسانی کو دعوت دیتے ہیں۔ وہ کسی بھی حال میں سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہر معاملے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ ہر مخالفت کو فخر کی علامت سمجھتے ہیں۔ دنیا اُن سے نفرت کرتی ہے اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں۔

لیکن زیادہ تر مسیحیوں کے لئے اصل خطرہ کچھ اور ہے۔ یہ سوچنا کہ اگر ہم اپنا رویہ ٹھیک کرلیں، اپنے ایمان کی سخت باتوں کو نرم انداز میں پیش کریں، عبادت کے طریقوں میں کچھ تبدیلی کرلیں اور کچھ اچھے سماجی کام کرلیں تو لوگ ہمارے بارے میں اچھی رائے قائم کر لیں گے۔ کبھی کبھی ہم ایسا بھی سوچنے لگتے ہیں کہ جیسے خدا نے یہ ضمانت دِی ہو کہ اگر ہم صحیح کام، صحیح نیت اور صحیح رویے کے ساتھ کریں تو دنیا کلیسیا کو ناپسند کرنا چھوڑ دے گی اور قبول کرلے گی۔

لیکن خدا نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

جو وعدہ اُس نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہمارا واحد مقصد مسیح یسوع میں دِین داری کی زندگی گذارنا ہو، اگر ہر صبح ہمارا ہدف یسوع کی پیروی کرنا ہو، اگر ہماری پہلی ترجیح خدا کے راستے پر چلنا اور اُس کے کلام پر ایمان رکھنا ہو تو ہمیں مخالفت اور ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اکثر ایسا سمجھتے ہیں کہ ایذا رسانی وہ چیز ہے جو خدا کبھی بھی کسی مخلص مسیحی سے نہیں چاہے گا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اُن یقینی باتوں میں سے ایک ہے جن کا وہ وعدہ کرتا ہے۔

ایذا رسانی کا خوف، اور یہ خوف مجھ میں بھی موجود ہے اور اس امکان کو بالکل نظرانداز کرنا، ہمیں بہت سے معاملات میں خدا کی فرماں برداری سے روک سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ کسی دوسرے ملک میں جانے کا فیصلہ ہو، یا اپنے بچوں کو کسی جنگ زدہ علاقے میں جانے کی اجازت دینا ہو۔ شاید یہ اپنے ایمان کے بارے میں کھل کر بات کرنے کا معاملہ ہو یا اپنے کام کی جگہ یہ بتانے کا کہ ہم مسیحی ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص خاندان اور دوستوں کے ردِعمل کے خوف سے مسیح کو قبول کرنے میں ہچکچا رہا ہو۔ شاید ہمیں یہ اندیشہ ہو کہ کلیسیا میں شامل ہونے سےہم اپنے وطن یا معاشرے کو ناراض کر دیں گے۔ شاید ہم جنس پرستی یا تخلیق کے عقیدے پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ یہ ہو کہ ہم مذاق یا تنقید سے بچنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے مسیح یسوع میں دِین داری کی زندگی گذارنے کی قیمت کم تعلیمی کارکردگی یا پیشے میں ترقی سے محرومی یا نقصان کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ یا اس کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں نظرانداز کیا جائے، ہماری قدر نہ کی جائے یا ہمیں غلط سمجھا جائے۔ اور بعض حالات میں ایذا رسانی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی جان گنوا دیں یا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہو کہ ہم اپنے پیاروں کو کھو دیں۔

٢ تیمتھیس 12:3 اس لیے خوف زدہ کرنے والی آیت ہے کہ یہ محض ایک تنبیہ نہیں بلکہ خدا کی طرف سے دی گئی پکی ضمانت ہے۔ ایسا ضرور ہوگا یعنی یہ بات لازمی واقع ہوگی۔ اور جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ ضمانت کن لوگوں کے لیے ہے تو اگر یہ ہماری زندگی میں پوری نہ ہو تو آیت کا دوسرا حصہ اور بھی زیادہ ڈراؤنا محسوس ہوتا ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply