This excerpt is taken from How to Lead Your Family: A Guide for Men Wanting to Be More by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
اپنے خاندان کی قیادت کیسے کریں؟
اُن مردوں کے لئے عملی ہدایات جو شخصی بہتری کے خواہاں ہیں
مصنف: جوئیل آر بیکی
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
خاندان میں بہ طور نبی
کیا آپ نے کبھی ایسے واعظین کو سنا ہے جو خدا کا کلام جذبات کے ساتھ نہیں بلکہ کسی مشین کی طرح سنا رہے ہوں۔ یہ یرمیاہ نبی کے جوش اور ولولے سے کتنا مختلف ہے۔ اُس کا کلام میرے دِل میں جلتی آگ کی مانند ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا اور مجھ سے رہا نہیں جاتا (یرمیاہ 9:20)۔ نبی نے اپنا منہ رکھنے کی کوشش کی لیکن اُس کے اندر موجود خدا کے کلام کی وجہ سے اُسے بولنا ہی پڑا۔
اِسی طرح، ایک عام کسان عاموس کو بھی جب خدا نے بلایا تو اُسے بولنا پڑا۔ اُس نے فرمایا، شیرببر گرجا ہے۔ کون نہ ڈرے گا؟ خداوند خدا نے فرمایا ہے۔ کون نبوت نہ کرے گا (عاموس 8:3)۔ میرا باپ بھی اکثر روتے ہوئے مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو خدا کے کلام کی سچائیاں سکھایا کرتا تھا۔ یہ تدریسی عمل جوش اور ولولہ کے ساتھ ہوتا تھا۔ وہ خدا کے کلام کو خشک اور بیزار کرنے والی معلومات کے طور پر نہیں بلکہ زِندہ، موثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز کلام (عبرانیوں 12:4) کے طور پر سکھاتا تھا۔ اِسی طرح، ہمیں بھی اپنی بیوی اور بچوں کو اِسی جوش اور ولولے کے ساتھ سکھانا چاہیے۔
آپ کی بیوی اور بچے محسوس کر سکتے ہیں کہ آیا واقعی آپ خدا کے کلام سے محبت کرتے ہیں یا نہیں۔ کیا آپ خدا کے کلام کو اپنی ملازمت یا مشاغل سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟ کیا آپ بہ طور ایک نبی کے جذبے کے ساتھ نہ صرف اپنے بچوں بلکہ اپنی بیوی کو بھی کلام مقدس سکھانے کو ترجیح دیتے ہیں؟ بہ طور ایک شوہر کے، اپنی بیوی سے مسیح جیسی محبت کریں جس میں ایثار شامل ہو اور اُسے کلام کے پانی سے پاک کریں (افسیوں 26:5)۔جب آپ اپنی بیوی کو جوش اور ولولے کے ساتھ خدا کا کلام سکھاتے ہیں تو آپ اُس کی زِندگی مٰیں مسیح کے پاک کرنے والے کام میں حصہ لے رہے ہیں (آیات 26–27)۔ یاد رکھیں کہ آپ کی بیوی پہلے بہ طور کلیسیا کا حصہ مسیح کی دلہن ہے اور پھر آپ کی بیوی۔
خدا نے شوہر اور باپ کو اپنے خاندان سے محبت کرنے والے رہنما ہونے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اپنے گھر کی دِین دارانہ قیادت کا پہلا اصول یہ ہے کہ مرد بہ طور نبی اپنی خدمت سر انجام دیں۔ ہائیڈل برگ کیٹی کزم کے سوال و جواب نمبر 31 میں بیان کیا گیا ہے کہ یسوع مسیح کیوں کہلاتا ہے؟ کیونکہ وہ خدا باپ کی طرف سے مخصوص کیا گیا اور روح القدس کے وسیلہ سے مسح کیا گیا تاکہ ہمارا عظیم نبی اور اُستاد بنے۔ ہماری نجات کے لئے اُس نے خدا کی پوشیدہ مرضی اور اِرادہ کو ہم پر ظاہر کیا۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نبی ایسا شخص ہوتا ہے جو مستقبل کی پیش گوئی کرتا ہے۔ کچھ نبی واقعی مستقبل کے واقعات جیسے مسیح کے آنے کی پیش گوئی کرتے تھے لیکن یہ ان کا اصل کام نہیں تھا۔ نبی کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لیے خدا کا ترجمان ہو یعنی خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ دوسرے الفاظ میں، نبی نہ صرف پیش گوئی کرتے تھے بلکہ خدا کا پیغام واضح اور صریح طور پر بیان بھی کرتے تھے۔ روح القدس نے نبیوں اور رسولوں کو خدا کا کلام سنانے اور لکھنے کے لیے تحریک دِی۔ خدا کا بیٹا مطلق اور ہمہ دان نبی ہے۔ اپنے خاندان کے لئے بہ طور نبی، آپ اپنے اِیمان کا اقرار کرتے ہیں اور بائبل مقدس میں دی گئی الٰہی ہدایات کو اپنے گھر والوں کو سناتے ہیں۔ آپ کا کام بائبل مقدس میں اِضافہ کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اِس کی سچائیوں سے اپنی بیوی اور بچوں کو واقف کروائیں۔ بہ طور باپ یہ آپ کی نبی کے طور پر ذمہ داری ہے۔ ہمیں لازماً اِس سوال پر غور کرنا ہے کہ بہ طور خدا کے نبی، ہم کس طرح اپنی بیوی اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام سر انجام دیں؟
خدا کے مجاز خادم کے طور پر تعلیم دیں
اپنے بچوں سے بات کرنے میں ہماری سنجیدگی کا ایک سبب یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا نے ہمیں اُنہیں تعلیم دینے کے لیے مقرر کیا ہے۔ افسیوں 4:6 بیان کرتی ہے، اور اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دِلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُن کی پرورش کرو۔ ہمارے بچوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خدا ہمیں انہیں سکھانے کا حکم دیتا ہے۔ ہم اُن سے کہہ سکتے ہیں، بچو، خدا نے مجھے یہ کام سونپا ہے کہ میں تمہیں تعلیم دوں اور مجھے اس کے احکام پر عمل کرنا ہو گا۔ کلیسیا اور مسیحی اسکول والدین کی کوششوں میں معاونت کر سکتے ہیں لیکن عہد کے فرزندوں کی تعلیم کی اصل ذمہ داری والدین بالخصوص والد پر ہے۔ اِس ذمہ داری کو مکمل طور پر دوسرے اساتذہ پر ڈال کر اپنا کام ختم سمجھنا درست نہیں۔
اِسی طرح، شوہروں کو بھی اپنے ازدواجی تعلقات میں خدا کے مجاز خادم کے طور پر ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ اگر آپ مسیحی اِیماندار ہیں تو رسول آپ اور آپ کی بیوی کو زِندگی کی نعمت کے وارث بیان کرتا ہے (1 پطرس 7:3)۔ قیامت کے دِن، خدا آپ سے آپ کی شادی میں دِئے گئے اختیار کی صلاحیت کے بارے میں حساب طلب کرے گا (متی 14:25–30)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.