The following is the Urdu translation of God Willing, an abridged and simplified version of Divine Conduct: or The Mystery of Providence, the classic work of John Flavel, an English Puritan Presbyterian minister and author. This edition has been published by Grace Publications Trust, UK, and translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
خدا کی مرضی سے (الٰہی انتظام یا پروردگاری کا بھید )
مصنف: جان فلاوویل
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
پہلا باب: خدا کی اپنے لوگوں کے لیے خصوصی نگہداشت
٢۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر خدا کی خاص پروردگاری نہ ہوتی تو قدرتی اسباب اتنے عجیب طریقوں سے مل کر خدا کے لوگوں کے فائدے کے لیے کام کریں؟
یوسف کی کہانی میں بارہ ایسے مراحل ہیں جن کی وجہ سے وہ مصر کا وزیر اعظم بنا۔ اگر اُن میں سے صرف ایک مرحلہ بھی رہ جاتا تو سب کچھ بالکل مختلف ہوتا۔ آستر کے زمانے میں الٰہی انتظام کے سات ایسے واقعات پیش آئے جو مل کر شریر ہامان کے زوال اور یہودیوں کے بچاؤ کا سبب بنے۔ خدا اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنے پر قادر ہے بالکل اسی طرح جیسے کاریگر اپنے کام میں مختلف اوزار استعمال کرتا ہے۔ جیسے ایک کاریگر ایک کھردری لکڑی کو لے کر اسے فنی شاہکار میں بدل دیتا ہے اُسی طرح، پروردگاری کے اِس انتظام میں خدا اپنی حکمت سے ہر عنصر کو صحیح جگہ اور مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
٣۔ اگر خدا کی نظر خاص طور پر اُس کے لوگوں کے معاملات اور کاموں پر نہ ہو یا خدا کے لوگوں کے معاملات اگر کسی خاص الٰہی انتظام کے تحت نہ ہوں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ طاقتور اور شاطر ذرائع جو انہیں ختم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں،بے اثر رہ جائیں اور وہ نہایت کمزور اور معمولی ذرائع جو ان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، کامیاب ہو جائیں؟
فرعون نے خدا کے لوگوں یعنی بنی اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے جو حکمت اور زبردست طاقت استعمال کی، وہ اس قدر زیادہ تھی کہ فطری عقل کے مطابق ان کا بچ جانا ناممکن لگتا تھا۔ رومی شہنشاہوں، جنہوں نے دنیا پر فتح حاصل کی،اپنی تمام تر طاقت بے بس اور مظلوم کلیسیا کے خلاف استعمال کی لیکن کلیسیا پھر بھی قائم رہی۔ اگر وہی طاقت کسی اور قوم کے خلاف استعمال کی جاتی تو یقیناً وہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتی۔
خدا نے اپنے وعدے پورے کیے، اگرچہ میں سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے تتربتر کیا تمام کر ڈالوں گا تو بھی تجھے تمام نہ کروں گا۔۔۔ (یرمیاہ 11:30)۔ اور کوئی ہتھیار جو تیرے خلاف بنایا جائے کام نہ آئے گا (یسعیاہ 17:54)۔
اِسی طرح، دنیا میں مسیحیت کے پھیلاؤ کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا گیا، وہ نہایت کمزور اور ناقابل یقین تھے۔ مسیح نے طاقتور اور بااثر افراد کو نہیں بلکہ بارہ عام آدمیوں کوچنا جن میں سے زیادہ تر ماہی گیر تھے۔ انہیں ایک ساتھ نہیں بلکہ مختلف ملکوں میں بھیجا گیا اور اِس کے باوجود، بہت مختصر وقت میں انجیل ہر طرف پھیل گئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں کلیسیا قائم ہو گئی۔ تب سے لے کر آج تک، ہر خطرے کے وقت خدا کی خاص نگہداشت مسیحیوں کے ساتھ رہی ہے اور اُنہیں ختم کرنے کی ہر کوشش ناکام رہی ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.