The following is an Urdu translation of Chapter 1, The Name Dogmatics, from Reformed Dogmatics by Herman Hoeksema, Second Edition, Volume 1, published in 2004 by the Reformed Free Publishing Association. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
Reformed Dogmatics is a clear, systematic study and exposition of Reformed theology written by a man who held the Chair of Dogmatics for some forty years at the Protestant Reformed seminary, the book is divided into the six generally-accepted branches of theology (theology, anthropology, Christology, soteriology, ecclesiology, and eschatology). This scholarly work is logical, Scripturally sound, and faithful to the Reformed creeds and traditions.
اصلاحی علم العقائد
مصنف: ہرمن ہوکسما
ترجمہ کار: ارسلان الحق
پہلا باب: لفظ ڈاگمیٹکس یعنی علم العقائد
ڈاگمیٹکس کے لئے مستعمل مختلف نام
الٰہیات کی اس شاخ ڈاگمیٹکس یعنی علم العقائد کے لئے مختلف نام مستعمل ہیں۔ ہمارے ہاں اسے اصولی، منظم یا باقاعدہ علم الٰہی کہا جاتا ہے۔
قدیم مسیحی علما نے اس پر مختلف کتابیں تحریر کی ہیں۔ اوریجن نے اپنی کتاب ڈی پرنسپیئس یعنی ابتدائی اصولات میں، لاکٹینشیئس نے ڈیوائن انسٹی ٹیوٹس یعنی الٰہی تعلیمات میں اور آگسٹین نے اپنی کتاب اینکیریڈیئن یعنی رہنما کتاب ( یا ہدایت نامہ) جو اُس نے لارینشیئس کے نام تحریر کی، علم العقائد کو بیان کیا۔
ابتدائی طور پر یہ لفظ علم العقائد اِسم صفت کے طور پر استعمال ہوتا تھا یعنی کسی چیز کے متعلق اصولی یا نظریاتی پہلو کی نشاندہی کے لیے۔ اِسی مفہوم میں یہ لفظ ایل. رائنہارڈ کی کتاب مسیحی عقائد کی علم الٰہی کے خلاصہ میں مستعمل ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ علم الٰہی کی ایک مکمل شاخ کے نام کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ اس کے لئے استعمال ہونے والے مختلف ناموں سے واضح ہے کہ اس کا مقصد علم الٰہی یعنی خدا کے بارے میں علم ، اس علم کی اقسام ، اصولات یا ابتدائی اصولات بیان کرنا ہے اور یہ کہ ان اصولوں کو ایک منظم انداز میں کیسے پیش کیا جائے۔
لفظ ڈوگمیٹکس یعنی علم العقائد قابل ترجیح ہے
لفظ ڈوگمیٹکس یعنی علم العقائد کا استعمال لفظ باقاعدہ یا منظم علم الٰہی کے استعمال کی بجائے دو وجوہ کی بنا پر قابل ترجیح ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اِس لفظ باقاعدہ علم الٰہی کا استعمال اِس شاخ کے لئے کوئی منفرد یا مخصوص شناخت نہیں ہوسکتی۔ یقینی طور پر ساری علم الٰہی نہ کہ صرف علم العقائد منظم اور منطقی انداز میں ترتیب دی گئی ہے۔ درحقیقت، اِس بات کا اطلاق ہر علم پر ہوتا ہے۔ اگر ہم علم العقائد کے لیے باقاعدہ علم الٰہی کا نام استعمال کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ باقی الٰہیات منظم نہیں ہے اور یہ باقی الٰہیات کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہو گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ علم العقائد اِس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ علم الٰہی کی وہ شاخ ہے جو ماضی کی کلیسیا کے کام اور اس کے عقائد کا احترام کرتی ہے۔ یہ صرف بائبل مقدس کے مطالعے تک محدود نہیں بلکہ کلیسیا کے تسلیم شدہ عقائد یعنی ڈوگما سے تعلق رکھتی ہے۔ علم العقائد کا عالم نہ تو غیر روایتی انداز میں صرف بائبل مقدس کا مطالعہ کرنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کلیسیائی گروہ سے آزاد۔ وہ بائبل مقدس کا مطالعہ نہ تو پہلی بار کرتا ہے اور نہ ہی انفرادی طور پر بلکہ وہ ماضی کی کلیسیا اور موجودہ کسی خاص فرقہ کا رکن ہونے کے ناطے یہ کام کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم العقائد کا عالم کلیسیا ئے عالم گیر کے عام عقائد اور اپنے فرقہ کے مخصوص عقائد کا احترام کرتا ہے۔ وہ ان عقائد کا پابند ہوتا ہے لیکن یہ پابندی زبردستی نہیں ہوتی بلکہ اپنی مرضی سے ہوتی ہے۔ وہ ان کا پابند اس لیے ہے کہ وہ اپنی کلیسیا کا رکن ہے اور وہ اپنی مرضی سے اس لیے پابند ہے کہ اسے اپنی کلیسیا کی تعلیم میں اپنے ایمان کا سب سے خالص اظہار نظر آتا ہے۔
ڈوگما کی یوں تعریف کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو بائبل مقدس سے اخذ کیا گیا ہو، کلیسیا نے اُسے واضح طور پر بیان کیا ہو اور باقاعدہ طور پر قائم کیا ہو۔ لیکن ایسا عقیدہ ضمیر کو مکمل طور پر پابند نہیں بنا سکتا۔ عقیدے کی حیثیت کبھی بھی حتمی نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ بائبل مقدس کے اختیار کے تابع ہے۔ اِسی لیے عقیدے کی اندھی یا غیر مشروط اطاعت ممکن نہیں۔ اِسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ علم العقائد کا عالم عقیدے کا پابند تو ہوتا ہے مگر اپنی مرضی اور شعوری طور پر۔
علم العقائد کا عالم اِسی ڈوگما یا عقائد کے پورے نظام کے ساتھ کام کرتا ہے۔ وہ اُنہیں ایک منطقی اور مربوط نظام میں ترتیب دیتا ہے۔وہ ان عقائد کا بائبل مقدس کی تعلیمات کے ساتھ تنقیدی طور پر موازنہ کرتا ہے یا واضح کرتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کے مطابق ہیں اور اُس کی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور بائبل مقدس کے مطالعے کے ذریعے کلیسیا کے عقائد کو مزید واضح، مضبوط اور زیادہ مکمل صورت میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.