Principle 5: As Church Plants Grow, Qualified Men Need to Take Some of the Responsibility from the Pastor (6:1–7)

Reading Time: 2 minutes

This is the Urdu translation of Chapter 5, Church Planting Principles from the Book of ActsPart Two: The Method of Planting Churches (pages 61–68) from Planting, Watering, Growing: Planting Confessionally Reformed Churches in the 21st Century, edited by Daniel R. Hyde and Shane Lems, published in 2011 by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

رسولوں کے اعمال کی کتاب سے کلیسیا قائم کرنے کے اصول

مصنف: ڈینی ایل آر ہائیڈ

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

پانچواں اصول: نئی قائم ہونے والی کلیسیا جب بڑھے تو ضروری ہے کہ اہل مرد اپنے پاسبان سے کچھ ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے لیں (1:6–7)

مسیح کے رسول غیر معمولی انسان تھے۔ انہوں نے کلیسیا کے ابتدائی دور میں کلیسیا قائم کی،منادی کی، پاسبانی کی اور اُس کی ضروریات پوری کیں۔ تاہم، آخر کار جیسے موسیٰ کے ساتھ ہوا (خروج 13:18–27) کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا اور اُس کام کا آغاز ہوا جسے ہم ڈیکن کی خدمت کہتے ہیں۔ ہم اس کو نئی کلیسیا میں اس طرح لاگو کر سکتے ہیں کہ ابتدا سے ہی ایک رہنمائی کرنے والے ذیلی مجلس یا چند لوگوں پر مشتمل کمیٹی کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔ یہ ایک عمدہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دوسرے لوگ کلیسیا کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں میں اپنا حصہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ اِس طرح وہ کلیسیا کی ترقی اور روزمرہ کاموں میں اپنے پاسبان کی مدد کرتے ہیں۔ یہ عمل یقینی بناتا ہے کہ پاسبان کے پاس منادی کرنے، تعلیم دینے، خوشخبری سنانے اور اپنی جماعت کی روحانی ضروریات کی دیکھ بھال کے لیے وقت موجود ہے۔ یہ طریقہ پاسبان کے لیے یہ بھی ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کمیٹی کے افراد کا جائزہ لے اور یہ پرکھے کہ آیا اُن میں کلیسیائی عہدہ سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ مختصر یہ کہ کلیسیا قائم کرنے والے کو اپنے بلاوے یعنی کلیسیا قائم کرنے کے کام کو انجام دینے کے لیے آزادی درکار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چندہ اکٹھا کرنے والا، کاروباری آدمی یا کسی محکمے یا جماعت کا رابطہ کار نہیں ہوتا۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply