Principle 6: Other Pastors Should Be Consulted Before Sending a Church Planter Out (13:1–3)

Reading Time: 2 minutes

This is the Urdu translation of Chapter 5, Church Planting Principles from the Book of ActsPart Two: The Method of Planting Churches (pages 61–68) from Planting, Watering, Growing: Planting Confessionally Reformed Churches in the 21st Century, edited by Daniel R. Hyde and Shane Lems, published in 2011 by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

رسولوں کے اعمال کی کتاب سے کلیسیا قائم کرنے کے اصول

مصنف: ڈینی ایل آر ہائیڈ

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

چھٹا اصول: نئی کلیسیا قائم کرنے والے کو بھیجنے سے پہلے دیگر پاسبانوں سے لازمی مشورہ کریں (1:13–13)

انطاکیہ میں کئی نبی اور اساتذہ موجود تھے جنہیں روح القدس کی رہنمائی حاصل تھی تاکہ پولس کو دنیا کے مختلف حصوں میں خدمت کے لئے بھیجا جائے۔ اگرچہ یہ واقعہ ایک ہی مقامی جماعت تک محدود تھا لیکن اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ کسی نئی کلیسیا قائم کرنے والے کے انتخاب اور اُس کو کلیسیا قائم کرنے کے لئے بھیجنے کا فیصلہ صرف ایک شخص کے اندرونی بلاوے پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ مقامی پاسبانوں اور بزرگوں کو اِس پر متفق ہونا چاہیے اور انہیں چاہیے کہ دیگر تجربہ کار کلیسیا قائم کرنے والوں سے بھی ممکنہ امیدوار کے بارے میں رائے طلب کریں۔

مثال کے طور پر ، جہاں میں خدمت کر رہا ہوں، یہاں بہت سے سیمنری کے طلبہ مختلف ہم عقیدہ کلیسیاؤں میں جاتے ہیں تاکہ خدا کا کلام پہنچائیں۔ یہ ایک عمدہ مکمل نظام فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے کلیسیا امیدوار کی مہارتوں، صلاحیتوں اور شخصیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ یہ اصول دیگر جگہوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مقامی کلیسیائی جماعت جو اِس خدمت کے لئے اپنے امیدوار کو جانتی ہو ، بہتر ہے کہ وہ دیگر پاسبانوں اور بزرگوں سے یہ سوالات کرے جہاں امیدوار نے خدمت کی ہو؛ کیا یہ شخص نئی کلیسیا قائم کرنے کے لیے موزوں ہے؟ کیا یہ شخص بہ طور مبشر لائق ہے؟ کیا یہ بدلتے حالات کے ساتھ ڈھل سکتا ہے؟ کیا یہ نئی کلیسیا قائم کرنے کا رویا رکھتا ہے؟ کیا آپ اسے اپنے لیے نئی کلیسیا قائم کرنے کے لیے منتخب کریں گے؟ کیا آپ کو اس کی صلاحیت یا قابلیت پر کوئی شک ہے؟



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply