The following article, Did the Son of God Leave Heaven When He Came to Earth?, was written by Dr. Kevin DeYoung and originally published on the ClearlyReformed.org website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
کیا خدا کے بیٹے نے زمین پر آنے کے لئے آسمان چھوڑ دیا تھا؟
مصنف: ڈاکٹر کیون ڈی ینگ
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
جب ہم تجسم المسیح پر غور کرتے ہیں یعنی مسیح کی آمد، کرسمس اور یسوع کے چرنی میں پیدا ہونے کے بارے میں تو ہم اِسے اکثر یوں بیان کرتے ہیں جیسے خدا کا بیٹا ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ آ گیا ہو۔ ایمیلی اسٹیل ایلیٹ نے 1864ء میں اپنے ایک مسیحی گیت میں ایسا ہی بیان کیا کہ تونے اپنا آسمانی تخت وتاج چھوڑدِیا جب تو میرے لئے زمین پر آیا۔ درحقیقت، واعظین، شعرا اور والدین اکثر یسوع مسیح کے آسمانی جلال چھوڑ دینے کو اس بات کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ مسیح ہم سے کتنی محبت کرتا ہے۔ اگر مجسم ابن خدا اِس زمین پر بیت لحم میں مریم کے بطن سے پیدا ہوا تو بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس نے اس سے پہلے اپنا آسمانی مسکن چھوڑ دیا ہوگا۔
اگرچہ کرسمس کے موقع پر خدا کے بیٹے کا آسمان کو چھوڑ کر زمین پر آنے کا تصور عام طور پر دلکش لگتا ہے لیکن لازم ہے کہ ہم تجسم المسیح کو اِس انداز میں نہ سمجھیں اور نہ بیان کریں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسیح آسمان سے زمین پر اُترا (یوحنا 13:3، افسیوں 10:4)۔ نقایاہ کے عقیدہ کے مطابق بھی ہم یہی اقرار کرتے ہیں کہ مسیح ہماری نجات کے لئے آسمان پر سے اُتر آیا (موازنہ کریں، یوحنا 50:6–51)۔ یقینی طور پر ہم مسیح کی پست حالی کو بیان کریں گے جس میں اُس نے اپنے آپ کو خالی کردیا اور خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا (فلپیوں 7:2)۔ مسئلہ اُس کے آسمان سے اُتر آنے یا آسمانی جلال کے بدلے زمین کی پست حالی قبول کرنے کے طرزِ بیان میں نہیں ہے (حالانکہ، اگر ٹھیک ٹھیک بیان کیا جائے تو بیٹے کا آسمانی جلال ترک نہیں ہوا بلکہ ایک مدت کے لیے پوشیدہ رہا؛ اس نے اپنی الٰہی صفات کو ترک نہیں کیا)۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اُس کے تجسم یا آسمان سے اُترنے کو محض جگہ بدلنے کے معنی میں سمجھ لیں جیسے کوئی ایک مقام چھوڑ کر دوسرے مقام پر چلا جائے۔ اگر ہم ایسا سوچیں تو ہم نادانستہ طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ خدا کسی خاص جگہ تک محدود ہے حالانکہ خدا کی ذات ہر جگہ موجود ہے۔
دراصل، خدا کا بیٹا اس طرح آسمان سے اُترا کہ وہ پھر بھی آسمان میں موجود رہا۔ اس کے آسمان سے اُترنے میں نہ اس کی الٰہی فطرت بدلی اور نہ اس کی موجودگی کسی خاص جگہ تک محدود ہوئی۔ اگر خدا کے بیٹے کو زمین پر آنے کے لیے آسمان چھوڑنا پڑتا تو اس کا مطلب نہ صرف تثلیثی رفاقت میں خلل ہوتا بلکہ یہ بھی کہ خدا کے بیٹے کے پاس لامحدود وسعت اور ہر جگہ موجود ہونے کی صفات باقی نہ رہتیں اور یوں وہ مکمل طور پر خدا کا بیٹا نہ رہتا۔ اقنومی اتحاد میں انسانی اور الٰہی فطرتیں ایک شخصیت میں متحد ہیں مگر نہ اختلاط کے ساتھ اور نہ تبدیلی کے ساتھ۔ الوہیت اور بشریت اُس کی ذات میں مخلوط نہیں بلکہ الگ الگ حیثیت کھوئے بغیر متحد ہیں (خلقیدونی عقیدہ)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا کے بیٹے نے انسانی فطرت اختیار کی تو وہ واقعی ہمارے مشابہ ہو گیا اپنی الٰہی فطرت کو چھوڑے بغیر جو وہ ازل سے تھا۔
تو پھر اُس کے آسمان سے اُتر آنے (نقایاہ کا عقیدہ) اور نہ تبدیلی کے ساتھ (خلقیدونی عقیدہ) کو ایک ساتھ کیسے سمجھیں؟ اِس نکتے کو سمجھنے کے لئے الٰہیات میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے ایکسٹرا کالونسٹِکم (ماورا بہ مطابق کالون) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ الٰہی لوگوس (کلام)، اقنومی اتحاد کے اندر رہتے ہوئے بھی، انسانی جسم کی حدود سے ماورا موجود رہتا ہے۔ مزید آسان الفاظ میں، جب خدا کا بیٹا انسانی جسم اختیار کرتا ہے، تب بھی اس کی الٰہی ذات انسانی جسم کی حدوں میں قید نہیں ہو جاتی۔
لوتھری علما کے ساتھ مباحثوں میں، اصلاحی علما نے مسیح کے جسم کی ہر جگہ موجودگی کے عقیدے کی مخالفت کی۔ لوتھری علما کا دعویٰ تھا کہ مسیح کا جسم ہر جگہ موجود ہو سکتا ہے (اور اسی بنا پر وہ عشائے ربانی میں ازروئے موقع موجود ہو سکتا ہے) جبکہ اصلاحی علمائے الٰہیات نے استدلال کیا کہ کوئی بھی انسانی جسم ہمہ جائی کی صفت نہیں رکھتا کیونکہ ہمہ جائی کی صفت کے ساتھ وہ حقیقی انسانی جسم نہیں ہوسکتا۔
پھر سوال یہ ہے کہ مسیح اپنے لوگوں کے ساتھ ہر وقت اور ہر جگہ اور دنیا کے آخر تک کیسے موجود ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ الٰہی فطرت، انسانی فطرت کے ساتھ متحد ہونے کے باوجود، اس انسانی فطرت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس سے باہر موجود رہتی ہے۔ ہائیڈل برگ کیٹی کزم میں بھی یہی سکھایا گیا ہے، چونکہ الٰہی ذات لامحدود ہے اور ہرجگہ حاضر ہے۔ اِس لئے اُس کی الٰہی ذات انسانی ذات کو اختیار کرنے سے محدود نہیں ہوگئی بلکہ شخصی طور پر اُس کے ساتھ متحد ہے (سوال و جواب نمبر48)۔ کے جے ڈریک کے الفاظ میں، مسیح مکمل طور پر جسم میں بھی موجود ہے اور پھر اِس سے ماورا بھی ہے۔
جان کالون کی تعلیمات میں یہ واضح ہے؛ اِسی طرح وہ آسمان میں بھی ابنِ آدم تھا کیونکہ وہی مسیح جو جسم کے اعتبار سے زمین پر ابنِ آدم کے طور پر رہا، آسمان میں خدا تھا۔ اِس طرح کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی الوہیت کے اعتبار سے اس جگہ اُتر آیا، اِس لئے نہیں کہ الوہیت نے آسمان کو چھوڑ کر خود کو جسم کے قید خانے میں چھپا لیا بلکہ اس لیے کہ اگرچہ وہ ہمہ جا تھی پھر بھی مسیح کی اِسی انسانیت میں وہ جسمانی طور پر یعنی فطرت کے مطابق اور ایک ناقابلِ بیان طریقے سے ساکن ہوئی۔
مابعد کالون نے پوری شخصیت (ٹوٹس۔مذکر) اور پوری فطرت (ٹوٹم۔ بے جنس) میں فرق کے ذریعے اس کو واضح کیا۔ یہ اس بات کو صاف صاف الفاظ میں بیان کرنے کا ایک عام طریقہ تھا کہ مسیح بہ طور شخصیت پوری طرح ہمارے ساتھ موجود ہو سکتا ہے اگرچہ اس کی انسانی فطرت مکانی حدود کی پابند ہے۔ کالون لکھتا ہے، اگرچہ مسیح کی مکمل شخصیت ہر جگہ ہمارے ساتھ موجود ہے پھر بھی جو کچھ اس کے اندر شامل ہے وہ سب کچھ ہر جگہ ایک ساتھ موجود نہیں ہے۔
لوتھری علما نے طنزیہ انداز میں اس طرزِ فکر کو ایکسٹرا کالونسٹِکم کہا لیکن یہ کالون کی ایجاد نہیں تھی۔ بہتر یہ ہے کہ اسے ایکسٹرا کارنم یعنی انسانی جسم سے ماورا (اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کی موجودگی اس کی انسانی جسم یا انسانی فطرت سے ماورا ہے) یا حتیٰ کہ ایکسٹرا کاتھولکیم (یعنی یہ ایک عام مسیحی تعلیم ہے کہ مسیح کی موجودگی جسمانی یا ظاہری حدود سے باہر تک پھیلی ہوئی ہے) کہا جائے کیونکہ یہ تعلیم ابتدائی کلیسیا اور قرونِ وسطیٰ کے علما میں وسیع طور پر پائی جاتی تھی۔ اینڈریو میک گنس کی اس سے متعلق ایک قابل تحسین کتاب میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ کئی نامور علمائے دین نے سکھایا جن میں اوریجن، اتھناسیس، قیصریہ کا یوسیبیس، نیسا کا گریگوری ، آگسٹین، موپسوستیا کا تھیوڈور، یوحنا دمشقی، پیٹر لمبارڈ، تھامس ایکویناس اور گیبریل بیئل شامل ہیں۔
خاص طور پر ، میک گنس کے مطابق اس طرز فکر کی وجہ صحیح العقیدہ علم المسیح کا ماہر اسکندریہ کا سرل ہے ۔ یوحنا 31:3 (جو آسمان سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے)، یوحنا 23:8 (میں اُوپر کا ہوں۔۔۔میں دنیا کا نہیں ہوں) اور یوحنا 13:3 (اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی ابن آدم جو آسمان میں ہے) جیسے حوالوں سے استدلال کرتے ہوئے، سرل نے بیان کیا کہ بیٹے کےآسمان سے زمین پر اُترنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اُس نے الٰہی صفات چھوڑ دیں اور نہ اس سے مراد ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جانا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ کنواری مریم کی گود میں ایک بچہ تھا تب بھی الٰہی لوگوس(کلام) بہ طور خدا پوری تخلیق میں موجود تھا اور اپنے مولد کے ساتھ شریک السلطنت تھا۔
ایک عجیب ، حیرت انگیز اور شاندار حقیقت
تو کیا خدا کا بیٹا کرسمس پر آسمان سے زمین پر اُتر آیا؟
جی ہاں۔
کیا بیٹا باپ کی طرف سے بھیجا گیا؟
جی ہاں۔
کیا تجسم میں الٰہی کلام کی پست حالی اور اس کی جلالی شان پر عارضی پردہ شامل تھا؟
جی ہاں۔
کیا خدا کے بیٹے نے ہمارے لیے زمین پر آنے کے لئے اپنا آسمانی تخت و تاج چھوڑ دیا؟
نہیں۔
اس مضمون کو لکھتے ہوئے میں نے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ تثلیثی گیت کی کتاب کھولی کہ دیکھوں آیا ایلیٹ کا گیت اب بھی اِس میں شامل ہے یا نہیں۔ یہ گیت شامل تو ہے مگر ایک اہم اور نمایاں ترمیم کے ساتھ۔ اب پہلا مصرع یوں ہے، تو آسمان پر شاہی تخت و تاج کے ساتھ حکمرانی کرتا ہے پھر بھی میرے لیے زمین پر آیا۔ مجھے نہیں معلوم ایلیٹ اس بڑی تبدیلی کے بارے میں کیا سوچتی مگر چونکہ وہ اب آسمان میں خدا کے پاس ہے، غالباً وہ اس سے مطمئن ہو گی۔ بہرحال، یہ ترمیم الہٰیاتی اعتبار سے ایک خوش آئند بہتری ہے۔
ہمیں تجسم المسیح کو قابلِ حمد بنانے کے لیے خدا کے بیٹے کے آسمان چھوڑنے کے تصور کی ضرورت نہیں۔ اِس کی بجائے، ہم کالون کے ساتھ مل کر زور سے یہ کہہ سکتے ہیں؛
یہ ایک حیرت انگیز بات ہے، خدا کا بیٹا آسمان سے زمین پر اس طرح اُترا کہ آسمان چھوڑے بغیر، اُس نے کنواری کے رحم میں پڑنے، زمین پر آنے اور صلیب پر مصلوب ہونے کا ارادہ کیا اور پھر بھی اس کی موجودگی دنیا میں اُسی طرح مسلسل موجود تھی جیسے وہ ابتدا سے موجود تھا۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.