Day 18 – Refreshment in the Valley
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
اٹھارہواں دِن: وادی میں تازگی
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 84
کسی جگہ جانے کے لئے سفر کرنا عموماً ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے والدین مہینوں پہلے ہی اس کی منصوبہ بندی کر لیتے ہیں لیکن شاذ و نادر ہی کوئی دِن گزرتا ہے جب آپ اس کے بارے میں نہ سوچتے ہوں۔ آخرکار، جب وہ دن آ جاتا ہے تو آپ جوش سے بھرے ہوتے ہیں حتیٰ کہ اس بات کی بھی پروا نہیں کرتے کہ آپ کو ڈھائی گھنٹے تک گاڑی میں اپنے بھائی یا بہن کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ اُسی صبح آپ کے والدین آپ سے کہیں کہ معاف کرنا، ہم اپنی منزل تک گاڑی سے نہیں بلکہ پیدل ایک سو میل چل کر جائیں گے۔ نہ کوئی ٹھنڈے مشروبات ہوں گے اور نہ کوئی کھانے کی چیز اور موسم بھی خوشگوار نہیں ہوگا۔ بلکہ جولائی کی شدید گرمی ہوگی۔
پرانے عہد نامہ کے مقدسین بھی اسرائیل میں سالانہ دوروں کے منتظر رہتے تھے لیکن اُن کے سفر ہمارے سفر کے تجربے سے کچھ مختلف ہوتے تھے۔ استثنا 16:16 میں ہم خدا کے اِس حکم کو پڑھتے ہیں کہ سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عید (جس میں عید فسح شامل تھی) اور ہفتوں کی عید اور عید خیام کے موقع پر تیرے ہاں کے سب مرد خداوند اپنے خدا کے حضور عبادت کے لئے حاضر ہوا کریں۔ زیادہ تر، مرد اپنی بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ داؤد بادشاہ کے دور میں ایک یہودی خاندان کے لیے یہ سفر سال کے سب سے نمایاں مواقع میں شمار ہوتے تھے۔ یہ نہ صرف یروشلیم جیسے بڑے شہر کی چمک دمک کو دیکھنے کا موقع تھا بلکہ خدا کی حضوری میں جا کر عبادت کرنے کا بھی ایک خاص موقع تھا بالخصوص سلیمان اور یہوداہ کے بادشاہوں کے دور میں جب ہیکل اپنی شان و شوکت میں موجود تھی۔
یہ سفر اگرچہ روحانی خوشی کا باعث تھے مگر ہرگز آسان نہ تھے۔ اسرائیل کے دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو ایک سو میل یا اس سے بھی زیادہ کا سفر پیدل کرنا پڑتا تھا جس میں سات دِن بھی لگ سکتے تھے۔ گرمیوں میں موسم کا درجہ حرارت ایک سو کے قریب پہنچ جاتا تھا۔ جنگلی جانوروں جیسے گیدڑوں، سانپوں اور بچھوؤں کا خطرہ درپیش رہتا تھا۔ کانٹے دار جھاڑیاں بھی شدید تکلیف کا باعث ہوسکتی تھیں اور کھانے پینے یا آرام کی کوئی سہولت نہ ہونا یہ سب اس سفر کا حصہ تھا۔ اس کے علاوہ ڈاکوؤں کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ سب سے بڑا خوف پیاس کا تھا کیونکہ راستے میں پانی آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا تھا۔
زبور 84 کو مسافروں کا گیت کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ عیدوں کے لیے یروشلیم جاتے ہوئے یہ زبور گایا کرتے تھے۔ داؤد نے یہ زبور اس وقت لکھا ٍ جب وہ اپنے بیٹے ابی سلوم سے جان بچا کر بھاگ رہا تھا۔ اُس نے اپنے اُن ہم وطن اسرائیلیوں کے بارے میں سوچا جو خدا سے اس قدر محبت رکھتے تھے کہ عبادت کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بھی یروشلیم کا سفر کرتے تھے۔ جانوروں، ڈاکوؤں اور پیاس کے خطرات بھی انہیں روک نہیں پاتے تھے۔ لیکن داؤد جلاوطنی میں ہونے کے باعث ان کے ساتھ شامل نہ ہو سکا۔ خدا کے گھر سے دوری کے باعث اُس کا روحانی کرب اور دردِدِل واضح طور پر اُس کے اِن الفاظ میں محسوس کئے جا سکتے ہیں، اے لشکروں کے خداوند! تیرے مسکن کیا ہی دِلکش ہیں! میری جان خداوند کی بارگاہوں کی مشتاق ہے بلکہ گداز ہو چلی (آیت 1اور 2)۔
زبور 6:84 میں وادیِ بکا کا ذکر آتا ہے۔ بائبل مقدس میں یہ نام صرف اِسی حوالے میں ملتا ہے۔ اس کا درست مقام معلوم نہیں مگر غالباً یہ یروشلیم کے قریب کوئی خشک اور دشوار گزار علاقہ تھا۔ لفظ بکا کا مطلب آنسو یا رونا ہے جو اس وادی کی سختیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سفر کا ایک ایسا حصہ تھا جہاں پیاس، تھکن اور خطرات عروج پر ہوتے تھے مگر خدا نے وہاں بھی اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اپنے فضل سے اُن کے لئے بندوبست کیا۔
اگرچہ وادیِ بکا ایک خشک اور گرم علاقہ تھا لیکن خدا نے وہاں کی زمین کو اس طرح بنایا تھا کہ وہاں کنویں کھودے جا سکتے تھے (آیت 6)۔ ان کنوؤں سے زیر زمین چشموں سے پانی حاصل کیا جاتا تھا۔ جب خزاں کے موسم میں موسلادھار بارش ہوتی تو یہی کنویں بارش کے پانی سے بھر جاتے تھے۔ بارش اُسے برکتوں سے معمور کردیتی ہے (آیت 6)۔ یوں مسافر تازہ دم ہو جاتے۔ یہ پانی لوگوں کو وہ طاقت دیتا تھا جس کی اُنہیں خدا کے گھر تک اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے ضرورت ہوتی تھی۔
داؤد نے اپنی زندگی میں بھی ایسی ہی ایک وادیِ بکا کا تجربہ کیا۔ وہ یروشلیم سے کوہِ زیتون، پھر یہودیہ کے بیابان اور آخرکار دریائے یردن کے پار محنایم تک بھاگا۔ وہ خوف، خطرے اور روحانی پیاس کو محسوس کررہا تھا۔ اس کا بیٹا اُس کی جان کا دشمن بن چکا تھا اور وہ خدا کے گھر میں جا کر عبادت نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن داؤد کو یقین تھا کہ جس خدا نے ہیکل جانے والے مسافروں کی تازگی اور قوت کے لیے وادیِ بکا میں پانی کا انتظام کیا، وہی خدا اسے بھی روحانی تازگی اور قوت عطا کرے گا۔ اسے امید تھی کہ ایک دن وہ دوبارہ خدا کی حضوری میں لوٹے گا۔
کیا آپ بھی اپنی زندگی میں کسی ایسی ہی وادیِ بکا کا تجربہ کر رہے ہیں؟ ممکن ہے کہ آپ کو جانوروں یا ڈاکوؤں کا خطرہ نہیں لیکن ممکن ہے آپ روحانی طور پر پیاس محسوس کر رہے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ آنسوؤں اور رونے کی وادی میں سے گذر رہے ہوں۔ کیا اسکول میں پڑھائی مشکل لگ رہی ہے؟ کیا ساتھی طلبہ کے الفاظ آپ کے دِل کو زخمی کر رہے ہیں؟ یا آپ کے گھر میں کوئی کشیدگی اور پریشانی ہے؟
خدا نے آپ کو وادی میں تازگی اور قوت دینے کے لیے اپنے فضل سے کنویں مہیا کیے ہیں۔ یہ قوت بارش کے پانی سے بھرنے والے کنوؤں سے نہیں بلکہ اُس ذات سے آتی ہے جو زندگی کا پانی ہے یعنی یسوع مسیح۔ یہ طاقت آپ کو ابدی گھر یعنی آسمان میں ہمیشہ کی زندگی تک لے جائے گی جہاں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ پیاس۔ جو پانی یسوع آپ کو دیتا ہے وہ آپ کے اندر پانی کا چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہے گا (یوحنا 14:4)۔ کیا آپ خود کو ابھی سے تازہ دم محسوس نہیں کر رہے؟
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.