Day 19 – Sons and Daughters
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
انیسواں دِن: بیٹے اور بیٹیاں
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 144
طویل قومی بحران آخرکار اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔ داؤد بادشاہ کی فوج نے ابی سلوم کی باغی فوج کو شکست دے کر فتح حاصل کی اور اسرائیل کو دوبارہ متحد کر دِیا۔ داؤد کئی مہینوں تک اپنے بیٹے سے بھاگتا رہا۔ اب سب کچھ ختم ہو چکا تھا مگر ویسے نہیں جیسے داؤد نے توقع کی تھی۔
ہر وہ ماں باپ جنکا بچہ غلط راستے پر چلا جائے، یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دِن خدا اُس بچے کے دِل کو بدل دے گا۔ والدین کبھی بھی ہمت نہیں ہارتے۔ وہ جانتے ہیں کہ خدا کا فضل اُن کے بچے کے بڑے سے بڑے گناہ سے زیادہ بڑا ہے۔ یقیناً داؤد کی بھی ابی سلوم کے بارے میں یہی سوچ تھی۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ابی سلوم کے بارے میں داؤد کے ذہن میں کیا خیالات ہوں گے؛ کاش میں اُس سے ایک بار اور خدا اور اُس کے وعدوں کے بارے میں بات کر سکتا۔ شاید اِس بار یہ بات اُس پر اثر کر جاتی۔ اگر مجھے ایک اور موقع ملتا کہ میں اُسے ہمارے بادشاہ کے بارے میں بتاؤں جو بغاوت کرنے والوں کا انصاف کرتا ہےمگر توبہ کرنے والوں کو اپنے رحم سے معاف بھی کرتا ہے۔
لیکن اُسے یہ موقع کبھی نہ ملا۔ اگرچہ داؤد نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا تھا کہ اگر وہ ابی سلوم کو پکڑیں تو اُسے نقصان نہ پہنچائیں (2 سموئیل 5:18) مگر داؤد کے سپہ سالار یوآب نے بادشاہ کی نافرمانی کی۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ کیا ہوا تھا؟ جب ابی سلوم اپنے خچر پر بھاگ رہا تھا تو وہ خچر ایک بڑے بلوط کے درخت کی گھنی ڈالیوں کے نیچے سے گیا۔ سو لمبے بالوں کی وجہ سے ابی سلوم کا سر بلوط میں اٹک گیا اور وہ آسمان اور زمین کے بیچ میں لٹکا رہ گیا اور وہ خچر جو اُس کے ران تلے تھا نکل گیا۔ جب یوآب کو اُس کی خبر ملی تو اُس نے ابی سلوم کو تیروں سے چھید ڈالا اور قتل کر دِیا۔
مرنے کی صرف دو ہی حالتیں ہیں، ایمان میں مرنا یا گناہ میں مرنا۔ داؤد جانتا تھا کہ اُس کا بیٹا گناہ کی حالت میں مرا۔ وہ اُس کی خبر پا کر روتا ہوا چلا اور چلتے چلتے یوں کہتا جاتا تھا، ہائے میرے بیٹےابی سلوم! میرے بیٹے! میرے بیٹے ابی سلوم! کاش میں تیرے بدلے مر جاتا! اے ابی سلوم! میرے بیٹے! میرے بیٹے! (2 سموئیل 33:18)۔
اِس شدید دکھ کے باوجود، داؤد نے زبور 144 کو ایک متحد قوم کے لیے دعا کے طور پر لکھا۔ حسب معمول، داؤد اس زبور کا آغاز خدا کی حمد و ثنا کے شاندار الفاظ سے کرتا ہے۔ پہلی دو آیات میں داؤد خدا کو اِن تمام ناموں سے مبارک کہتا ہے، چٹان، شفقت کرنے والا، قلعہ، اُونچا برج، چھڑانے والا ، سپر اور پناہ گاہ جو میرے لوگوں کو میرے تابع کرتا ہے۔ داؤد اُس خدا کے لیے یہ گیت گاتا ہے جو بادشاہوں کو نجات بخشتا ہے اور اپنے بندہ داؤد کو مہلک تلوار سے بچاتا ہے (آیت 10)۔
زبور 144 میں داؤد اپنی قوم کے لیے دعائیں کرتا ہے کہ اُن کی فصلیں خوب پھلیں، مویشیوں کی کثرت ہو اور ملک خوشحال رہے۔ غالباً اپنے بیٹے ابی سلوم کے دکھ کو دِل میں رکھتے ہوئے، داؤد یہ دعا بھی کرتا ہے، جب ہمارے بیٹے جوانی میں قدآور پودوں کی مانند ہوں۔ اور ہماری بیٹیاں محل کے کونے کے لئے تراشے ہوئے پتھروں کی مانند ہوں (آیت 12)۔
اے نوجوانو، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایک پودے کی مانند ہیں؟ یقیناً آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اپنے باغ سے محبت کرتا ہے اور روزانہ اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ داؤد ایسے ہی باغ کے پودے کی بات کر رہا ہے نہ کہ جنگل میں خود رو اُگنے والے پودے کی۔ یہ پودا محبت بھری نگہداشت سے پرورش پاتا ہے، ایک مضبوط پودا جو زمین میں گہری جڑیں پکڑتا ہے۔ یہ آپ کی تصویر ہے کہ آپ خدا کے کلام کی مٹی میں گہری جڑیں پکڑیں جو آپ کی ایمان کی بنیاد ہے اور دِین داری کی زندگی گذاریں۔
اے نوجوان لڑکیو، یہ زبور آپ کو محل کے کونے کے لئے تراشے ہوئے پتھروں کی مانند قرار دیتا ہے۔ یہ شاندار ستون چمکدار اور تراشے ہوئے سنگِ مرمر سے مزین ہوتے تھے تاکہ خوبصورتی ظاہر ہو لیکن وہ محل کو مضبوطی بھی فراہم کرتے تھے۔ یہ ستون بادشاہ کی بیٹیوں کی تصویر ہیں۔ پولس رسول ان خوبصورت بیٹیوں کے فرائض یوں بیان کرتاہے، اپنے شوہروں کو پیار کریں۔ بچوں کو پیار کریں۔ اور متقی اور پاک دامن اور گھر کا کاروبار کرنے والی اور مہربان ہوں اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہیں تاکہ خدا کا کلام بدنام نہ ہو (ططس 4:2–5)۔ اِس طرزِ زندگی کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کلیسیا سے محبت اور اُس کی خدمت کریں گی حتیٰ کہ جب آپ کی زندگی میں مشکلات آئیں بالکل اُسی طرح جیسے داؤد نے اپنے مشکل وقت میں اپنی قوم کی خدمت کی۔
والدین کے لئے اِس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو حق پر چلتے ہوئے سنیں (3 یوحنا 4:1)۔ جب آپ کے والدین آپ کو ایمان میں مضبوط کرنے کے لئے بائبل مقدس کا مطالعہ کرنے، کیٹی کزم کے ذریعے ایمان کی تعلیم دینے اور سنڈے اسکول بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ کی روحانی پرورش کرتے ہیں جیسے کسی پودے کا بیج بونا، اُس کو پانی دینا، اُس کا خیال رکھنا اور اُس کی کانٹ چھانٹ کرنا تاکہ وہ قد آور ہو سکے۔ خاندانی یا شخصی عبادت کے ذریعے آپ کی روحانی ترقی سنگِ مرمر کے ٹکڑے کی مانند ہے جسے تراش کر ایک خوبصورت اور قیمتی ستون بنایا جاتا ہے تاکہ وہ بادشاہ یعنی خدا کے جلال کو ظاہر کرے۔ پودوں یاسنگِ مرمر کے تراشے ہوئے پتھروں کی طرح، وقت کے ساتھ ساتھ ، خدا آپ کو پختگی تک پہنچائے گا اور آپ کو اپنے گھر، کلیسیا اور اُس کے جلال کے لیے دِین دار راہنما بنائے گا۔ داؤد نے اپنی قوم کے نوجوانوں کے لیے یہ دعا کی۔ یہی دعا آپ کے والدین اور اساتذہ بھی آپ کے لیے کرتے ہیں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.