Two Seeds, One Victor

Reading Time: 4 minutes

Day 21 – Two Seeds, One Victor
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

اکیسواں دِن: دو نسلیں، ایک فاتح

مصنف: مائیک ویلتھاؤس

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

زبور 72

سلاطین کی پہلی کتاب کے آغاز میں ایک اہم، پوشیدہ مگر واضح موضوع سامنے آتا ہے، شیطان پوری طاقت سے سرگرم ہے۔ جب سے خدا نے پیدائش 15:3 میں عورت سے وعدہ اور اعلان کیا ہے، اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ تب سے شیطان کا صرف ایک ہی مقصد رہا ہے، عورت کی نسل کو شکست دینا۔ عورت کی نسل کون ہے؟ پرانے عہد نامہ میں یہ نسلوں کا وہ تسلسل تھا جو آدم سے شروع ہو کر یسوع پر ختم ہوا۔ یہ آج بھی ایمانداروں اور ان کی نسل میں جاری ہے جہاں یسوع خداوند ہے۔

کیا پرانے عہد نامہ میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں شیطان گرجنے والے شیر ببر کی طرح عورت کی نسل کو شکست دینے کی کوشش کرتا رہا؟ اُس کی پہلی کوششوں میں قائن کا اپنے بھائی ہابل کو قتل کرنا تھا (پیدائش 4)۔ اُن شریر لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جنہوں نے بابل کا برج بنانے کی کوشش کی۔ وہ سانپ کی نسل تھے جو آسمان تک پہنچنے، دنیا پر قبضہ کرنے اور عورت کی نسل کو مٹانے کا اِرادہ رکھتے تھے (پیدائش 11)۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ کس طرح شیطان نے فرعون کے ذریعے یہ فرمان جاری کروایا کہ تمام نومولود اسرائیلی لڑکوں کو قتل کر دِیا جائے (خروج 1)۔

یقیناً خدا حاکم ہے اور یہ سب منصوبے ناکام ہوئے۔ اُس نے آدم اور حوا کو ایک اور بیٹا دیا، سیت۔ خدا نے بابل کے برج پر اُن کی زبانوں میں اختلاف ڈال دیا اور اُن کو وہاں سے تمام رویِ زمین میں پراگندہ کیا۔ اُس نے مصر میں ایسی وفادار دائیاں فراہم کیں جو خدا سے ڈرتی تھیں اور اُنہوں نے مصر کے بادشاہ کا حکم نہ مانا اور نومولود اسرائیلی لڑکوں کو جیتا چھوڑ دیتی تھیں۔ کوئی بھی چیز عورت کی حقیقی نسل یعنی مسیح کی پیدائش کو روک نہیں سکتی تھی۔ دو نسلیں ہیں مگر فاتح صرف ایک ہی ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شیطان نے کوشش ترک کر دِی۔ 1 سلاطین 1 میں ہم داؤد کے ایک اور شریر اور سرکش بیٹے ادونیاہ کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اُس نے اپنے سوتیلے بھائی ابی سلوم سے سبق نہیں سیکھا جس نے داؤد سے تخت چھیننے کی تباہ کن کوشش کی تھی۔ ابی سلوم کی طرح اُس نے بھی کافی پیروکار جمع کیے تاکہ زورِ بازو سے تخت حاصل کرے۔ شیطان نے ادونیاہ کے دِل میں بھی غرور اور بادشاہ بننے کی خواہش پیدا کی۔ لیکن خدا کے منصوبے مختلف تھے۔ عورت کی نسل ہمیشہ غالب آتی ہے۔ وہ نسل جو آدم سے یسوع تک پہنچی، ادونیاہ کے ذریعے نہیں بڑھی۔ وہ داؤد کے ایک اور بیٹے سلیمان کے ذریعے آگے بڑھی جسے آخرکار مسح کیا گیا اور اسرائیل کا اگلا بادشاہ مقرر کیا گیا۔

زبور 72 وہ آخری زبور ہے جو داؤد نے اپنی موت سے پہلے لکھا (آیت 20)۔ یہاں وہ اپنے بیٹے سلیمان، اسرائیل کے نئے بادشاہ کے لیے دعا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ دعا اُس خوشحال اور غالب حکومت کے لیے ہے جو سلیمان کو بالآخر ملنی تھی لیکن اس کی نوعیت مسیحائی ہے۔ یاد رکھیں، مسیحائی زبور یا تو یسوع کی ذات اور اُس کے کام کے بارے میں بات کرتے ہیں یا ایسی پیش گوئیوں پر مشتمل ہیں جنہیں اُس نے پورا کیا۔ کیا آپ اس زبور کے دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے مسیح کو دیکھ سکتے ہیں؟

چار مرتبہ داؤد قوم کے محتاجوں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ بادشاہ محتاجوں کی اولاد کو بچائے (آیت 4)، فریاد کرنے والے محتاجوں کو چھڑائے (آیت 12)، غریب اور محتاج پر ترس کھائے (آیت 13) اور محتاجوں کی جانوں کو بچائے (آیت 14)۔ کیا یسوع کے سوا کوئی ہے جو حقیقت میں محتاجوں کے لیے ان دعاؤں کا جواب دے سکے؟ ظاہر ہے کہ بات صرف جسمانی ضرورتوں کی نہیں بلکہ گناہوں اور گناہ آلود فطرت سے نجات کی ہماری ضرورت کی ہے۔ کیا آپ اپنے آپ کو محتاج سمجھتے ہیں؟

داؤد اُن فتوحات کے لیے بھی دعا کرتا ہے جنہیں وہ جانتا تھا کہ سلیمان خدا کے وعدے کے مطابق حاصل کرے گا جو داؤد کی نسل (سلیمان) کے بارے میں 2 سموئیل 13:7 میں کیا گیا تھا، میں اُس کی سلطنت کا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کروں گا۔ چونکہ خدا کے وعدے یقینی ہیں، داؤد جانتا تھا کہ سلیمان کی حکمرانی سمندر سے سمندر تک ہوگی (زبور 8:72)۔ سب بادشاہ اُس کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ کل قومیں اُس کی مطیع ہوں گی (آیت 11)۔ اُس کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔ جب تک سورج ہے اُس کا نام رہے گا (آیت 17)۔ کیا ان آیات میں ہمارا بادشاہ یسوع واضح طور پر نظر نہیں آتا؟ اُس کا تخت ہی وہ تخت ہے جو ہمیشہ کے لیے غالب رہے گا۔

عورت کی نسل یسوع کی پیدائش تک محفوظ رہی لیکن اس کے بعد بھی شیطان نے اُسے مٹانے کی کوششیں بند نہیں کیں۔ اُس نے ہیرودیس بادشاہ کے ذریعے کام کیا جس نے بیت لحم کے تمام نو مولود لڑکوں کو قتل کروا دیا اِس امید میں کہ یہودیوں کا پیدا ہونے والا بادشاہ ختم ہو جائے۔ خود شیطان نے بیابان میں یسوع کو آزمایا تاکہ یسوع صلیب کے ذریعے نجات کے اپنے مقصد کو ترک کر دے۔ شیطان نے یہودی اور رومی رہنماؤں کو بھی استعمال کیا جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ جب انہوں نے یسوع کو مصلوب کیا تو وہ فتح یاب ہو گئے ہیں۔ آج بھی شیطان دنیاداری اور تعلیم میں بگاڑ کے ذریعے مسیح کی کلیسیا کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن خدا ہر چیز کو حتیٰ کہ شیطان کے کام کو بھی عورت کی نسل کے لیے نجات کے شادیانہ کے طور پر مکمل کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس میں آپ بھی شامل ہیں۔ یہ آپ کے لیے ایک عظیم فتح ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply