Day 22 – Tears by the River
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
بائیسواں دِن: دریا کے کنارے آنسو
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 137
اگر کوئی ایسا درخت جسے دیکھتے ہی معلوم ہو جائے کہ یہ کونسا درخت ہے تو اُس کا جواب ہے، بید مجنوں۔ اس کی لٹکتی ہوئی خوبصورت شاخیں، اس کے لمبے، لہراتے ہوئے پتے جو ہوا کے ہر رخ کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور اس کے ہلکے سبز پتے جو گویا نیچے موجود گھاس کو چھونے کی کوشش کر رہے ہوں، آپ فوراً جان لیتے ہیں کہ یہ کون سا درخت ہے۔ بید مجنوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خدا نے اپنی تخلیقی قدرت سے کس طرح خوشی حاصل کی جب اُس نے تخلیق کے تیسرے دِن اِس درخت کو وجود میں آنے کا حکم دیا ( پیدائش 1 )۔
یہوداہ کی سلطنت کے یہودیوں کے نزدیک جنہیں نبوکدنضر بادشاہ اور بابل کی طاقتور سلطنت نے داؤد بادشاہ کی وفات کے تقریباً 384 سال بعد اسیر بنا لیا تھا، ان کے لیے بید کا درخت صرف غم کی علامت تھا۔ یہ درست ہے کہ اُن کی حالت اسرائیل (شمالی سلطنت) کے لوگوں سے بہتر تھی جنہیں اِس سے پہلے اسوریوں نے اسیر بنایا تھا۔ اسرائیلی وہاں غلاموں کی حیثیت سے رہتے تھے اور تاریخ کی سب سے سفاک سلطنتوں میں سے ایک کے تابع تھے۔ اِس کے برعکس، بابل میں موجود یہودیوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ بابلی ثقافت میں ضم ہو جائیں تو انہیں اچھی زندگی گزارنے کا موقع مل سکتا ہے۔ وہ اپنے خاندانوں کو اکٹھا رکھ سکتے تھے، گھر بنا سکتے تھے، کام کر سکتے تھے حتیٰ کہ انہیں کاروبار کرنے کی بھی اجازت تھی۔ لیکن جو لوگ خدا کے وفادار رہے، اپنے گناہوں اور اپنی قوم کے گناہوں پر دِل سے نادم تھے، اُن کے لیے گہرے غم کی ایک بڑی وجہ تھی۔ وہ صیون سے دُور تھے۔
ہم بابل کی ندیوں پر بیٹھے اور صیون کو یاد کرکے روئے (زبور 1:137)۔ یہودی اپنی محدود آزادی کو استعمال کرتے ہوئے دریائے دجلہ یا فرات کے کنارے جمع ہوتے تھے اور اُن تمام چیزوں پر گفتگو کرتے تھے جنہیں وہ کھو چکے تھے، بادشاہ، ہیکل اور موعودہ سرزمین۔ وہ یروشلیم سے تقریباً نو سو میل دور تھے۔ اُن کی ہیکل اس وقت ٹوٹے ہوئے پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ سب سے بڑھ کر وہ خدا اور اُس کی حضوری کے لیے ترستے تھے جس سے ہیکل معمور تھی۔ وہ قربانیاں اور عبادتی رسومات جن میں وہ خدا کی تعظیم کے لیے شریک ہوتے تھے، سب ختم ہو چکی تھیں۔ وہ ہیکل میں خدا کی عبادت کو یاد کرتے تھے جو اِس دنیا میں خدا کے ساتھ اُن کی سب سے گہری قربت کی علامت تھی۔ چنانچہ وہ وہاں جمع ہوئے۔ دریا کے کنارے۔ روتے ہوئے۔ وہ گیت نہیں گا سکتے تھے۔ وہ اپنے ساز بھی نہیں بجا سکتے تھے۔
وہاں بید کے درختوں پر اُن کے وسط میں ہم نے اپنی سِتاروں کو ٹانگ دِیا (آیت 2)۔ ان کی پسندیدہ ستار یں جو حمد اور شکر گزاری کے ساز تھے، بید کی لٹکتی ہوئی شاخوں پر بے کار پڑی تھیں۔ غم کے عالم میں اُن کے پاس حمد یا شکر گزاری کی کوئی وجہ نہ تھی۔ وہاں سِتاریں ہلتی رہتی تھی اور ہوا خود ایک اُداس اور سوگوار دھن چھیڑ دیتی تھی۔ اِس سے اُن کی حالت مزید خراب ہو گئی۔
بابلی بھی دریا کے کنارے آ پہنچے اور اُن کے اِن الفاظ نے یہودیوں کے غم کی شدت کو اور زیادہ بڑھا دیا اور وہ زارزار رونے لگے۔ ہمیں بھی وہ گیت سناؤ جو تم اپنی ہیکل میں گاتے تھے! بابلیوں کے نزدیک یہ سب مذاق تھا۔ وہ محض تفریح چاہتے تھے۔ لیکن یہودیوں کا جواب یہی تھا، ہم پردیس میں خداوند کا گیت کیسے گائیں؟ (آیت 4)۔ اُن کی سب سے بڑی خوشی یروشلیم اور وہاں خدا کی حضوری میں تھی (آیت 6)۔ کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اِتنے غمگین کیوں تھے؟
بابلی اسیری ستر برس تک رہی لیکن آخرکار خدا نے آزادی عطا کی۔ خدا نے اُس وقت کے سیاسی حالات کو اِس طرح ترتیب دیا کہ یہودیوں کو یروشلیم واپس جانے کی اجازت مل گئی۔ جنہوں نے واپسی اختیار کی، انہوں نے ہیکل کو دوبارہ تعمیر کیا جیسا کہ ہم عزرا کی کتاب میں پڑھتے ہیں اور بعد میں شہر کی فصیلیں بھی دوبارہ بنائیں جس کا ذکر نحمیاہ کی کتاب میں ملتا ہے۔ یوں یہودی ایک بار پھر موعودہ سرزمین میں صیون کے گیت گانے لگے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم تقریباً 538 سال آگے بڑھیں تو خدا نے خداوندوں کے خداوند اور بادشاہوں کے بادشاہ کو بھیجا جب اس کا بیٹا یسوع مسیح اِس دنیا میں آیا تاکہ ہم جیسے گناہ گاروں کو نجات دے۔
اب سوال یہ ہے، کیا آپ صیون کے لیے ترستے ہیں؟ ہمارے لئے صیون کوئی ایسی ہیکل نہیں جہاں قربانیاں یا دیگر رسومات ادا کی جاتی ہوں۔ ہمارے لئے صیون کلیسیا ہے۔ وہ جگہ جہاں ہم بیٹھ کر خدا کے کلام کی آواز سنتے ہیں اور اُس سے گہری رفاقت کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم دوسرے ایمانداروں، مسیح میں بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جمع ہو کر خاندانی رفاقت محسوس کرتے ہیں۔
اگر آپ سے کلیسیا چھین لی جائے تو کیا آپ روئیں گے؟ کیا آپ صیون کو یاد کریں گے؟ کیا آپ اس کے لیے ترسیں گے؟ یہ زمینی صیون آخرکار ابدی صیون یعنی آسمان میں بدل جائے گی۔ وہاں ہم خدا کے ساتھ کامل رفاقت کا تجربہ کریں گے۔ہم ابدلآباد آسمان میں صیون کے گیت گائیں گے جہاں کائنات کی تمام سِتاریں ایک ساتھ ساتھ بج رہی ہوں گی۔ وہاں آنسو نہ ہوں گے۔ نئے آسمان اور نئی زمین میں، بید مجنوں غم کی علامت نہیں رہے گا بلکہ ہماری رہنمائی خدا کی خوبصورتی اور جلال کی طرف کرے گا۔ وہاں ہم برّہ کا گیت گائیں گے؛ اے خداوند خدا! قادرِ مطلق! تیرے کام بڑے اور عجیب ہیں۔ اے ازلی بادشاہ! تیری راہیں راست اور درست ہیں (مکاشفہ 3:15)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.