Day 23 – Zion or Worldliness
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
تیئیسواں دِن: صیون یا دنیا داری
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 85
یہ ایک معلوماتی سوال ہے، بائبل مقدس میں کس واحد حکمران کا ذِکر ہے جسکا تعلق غیر قوم سے ہے اور اُسے خدا کا ممسوح کہا گیا ہے؟ ہمیں اِس کا جواب یسعیاہ نبی کی کتاب کے پینتالیسویں باب میں ملتا ہے۔ خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اُس کا دہنا ہاتھ پکڑا کہ اُمتوں کو اُس کے سامنے زیر کروں۔۔۔۔۔تاکہ تو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کر بلایا ہے (آیات 1- 3)۔ اِس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نبوت خورس کی پیدائش سے دو سو سال پہلے کی گئی تھی اور اس میں اس کا نام بھی صاف صاف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہمیں اس تسلی بخش حقیقت کی یاد دِلاتی ہے کہ خدا پوری دنیا کی تاریخ، عالمی طاقتوں اور دنیا کے حکمرانوں کو اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔ فارس کے بادشاہ خورسِ اعظم کے لیے خدا نے ایک خاص مقصد مقرر کیا تھا۔
آپ کو یاد ہوگا، خدا نے بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کو مقرر کیا تھا تاکہ وہ یہوداہ کی سلطنت کو اس کی بے اعتقادی اور بت پرستی کے گناہوں کی سزا دے اور انہیں جلاوطنی میں لے جائے۔ بابل کی یہ اسیری ستر برس تک جاری رہی۔ سزا کے ساتھ ساتھ خدا کا اپنی قوم کے لیے آزادی کا منصوبہ بھی تھا۔ بابل کے بادشاہ نابونیدس اور بیلشضر کے مشترکہ دورِ حکومت میں، خدا نے فارس کے خورس کو بابل کے خلاف ایک بڑی فوجی مہم کے لیے تیار کیا۔ خورس کامیاب ہوا اور 539 قبل از مسیح میں بابل کی طاقت ختم ہو گئی اور فارس نئی عالمی طاقت بن کر ابھرا۔
دنیا کی ہر سلطنت اپنے زیرِ حکمرانی لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک کرتی ہے۔ اس سے پہلے اسور کی سلطنت اپنے اسیروں کو سخت غلامی اور ظلم کا نشانہ بناتی تھی۔ بابل نے قوموں کو اسیر تو بنایا لیکن اگر وہ بابلی ثقافت کو اپنا لیتے تو انہیں نسبتاً آرام دہ زندگی گزارنے دی جاتی تھی۔ مگر فارس اور خورس کا طریقہ بالکل مختلف تھا۔ خورس نے ان قوموں کو جنہیں بابل نے اسیر بنایا تھا، اپنے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دی۔ جن علاقوں کو فارس نے فتح کیا اُن کے لوگوں کو زبردستی قیدی نہیں بنایا گیا بلکہ انہیں ان کے اپنے علاقوں میں رہنے دیا گیا۔ چناں چہ، 538 قبل از مسیح میں ہزاروں یہودیوں کو جن کی تعداد چالیس ہزار سے زیادہ تھی، یروشلیم واپس جانے کی اجازت ملی۔
صرف یہی نہیں، خورس نے لوگوں کو اپنے اپنے معبودوں کی عبادت کی آزادی بھی دی اور یہاں تک کہ عبادت گاہوں کی تعمیر کے لیے مالی مدد فراہم کی۔ اس کے بدلے وہ یہ چاہتا تھا کہ یہ قومیں امن کے ساتھ رہیں، فارسی حکومت کا احترام کریں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں۔ اس کے علاوہ انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی۔
اگلے چند برسوں میں یروشلیم کی طرف واپسی کے دو مرحلوں میں مجموعی طور پر تقریباً پچاس ہزار یہودی واپس آئے۔ انہی میں سے کسی ایک واپسی کے بعد زبور نویس نے زبور 85 تحریر کیا، اے خداوند! تو اپنے ملک پر مہربان رہا ہے۔ تو یعقوب کو اسیری سے واپس لایا ہے۔ تو نے اپنے لوگوں کی بدکاری معاف کردِی ہے۔ تو نے اُن کے سب گناہ ڈھانک دئے ہیں (آیات 1–2)۔ یہ شکرگزاری کا زبور ہے۔ اب یہودی ہیکل اور شہر کی دیواریں دوبارہ تعمیر کر سکتے تھے اور صیون میں خدا کے ساتھ رفاقت بحال کر سکتے تھے۔
لیکن کچھ صحیح نہیں لگ رہا۔ حساب کتاب میل نہیں کھا رہا۔کیا بابل کی اسیری سے نکلنے والے سب یہی تھے؟ نہیں۔ تقریباً اسی ہزار یہودی بابل ہی میں رہ گئے تھے یعنی قوم کا آدھے سے بھی زیادہ حصہ۔ یہ بات چونکا دینے والی ہے۔ آخر کیوں؟ کیا صیون، ہیکل اور خدا کی قربت ان کے لیے اتنی اہم نہیں رہی تھی؟ یروشلیم واپسی آسان نہیں تھی۔ سفر طویل اور خطرناک تھا۔ یہوداہ میں ان کی زمینیں ختم ہو چکی تھیں۔ ہیکل اور شہر کی دیواریں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں اور اُنہیں ازسر نو تعمیر کرنے کی ضرورت تھی۔ دشمن یروشلیم کو گھیرے ہوئے تھے۔ اس کے مقابلے میں بابل ایک آرام دہ اور خوشحال شہر تھا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اسی ہزار یہودی بابل میں اپنی زندگی سے بہت زیادہ مطمئن تھے۔ یہاں انہیں ہر دنیوی آسائش میسر تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری سلطنت میں بابل سے زیادہ دلچسپ اور شاندار جگہ کوئی نہیں تھی جسے شہروں کا نگینہ کہا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا شہر جس کی کشادہ سڑکیں، شاہی محلات، شاندار ہیکل، خوبصورت باغات، دریا اور نہریں اور لوگوں سے بھرے بازار آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے۔بہت سے یہودی وہاں امیر ہو گئے تھے۔ ان کے پاس زمینیں، گھر اور کاروبار تھے۔ کئی لوگ شاہی حکومت میں عہدوں پر فائز تھے۔ وہ ایک اچھی اور آرام دہ زندگی گزار رہے تھے۔ اِس لیے بابل میں ہی رہ جانا ان کے لیے بہت آسان فیصلہ تھا۔
آپ کس کا انتخاب کرتے؟ صیون کا یا بابل کی دنیاوی آسائشوں کا؟ دنیوی آسائشیں یقیناً خدا کی طرف سے برکت ہیں لیکن جب وہ خدا کی عبادت یا روحانی ترقی میں رکاوٹ بن جائیں یا غلط فیصلوں کا سبب بنیں تو وہ آسائش سے دنیا داری یعنی دنیا سے محبت بن جاتی ہیں۔ یوحنا رسول ہمیں 1 یوحنا 2 میں نصیحت کرتا ہے، نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اُن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں (آیت 15)۔ پولس رسول کا ایک قریبی ساتھی بھی اسے چھوڑ گیا تھا۔ دِیماس کو یاد کریں جس نے اِس موجودہ جہان کو پسند کرکے پولس کو چھوڑ دِیا (2 تیمتھیس 10:4)۔
اس دنیا کی کون سی چیزیں آپ کے لئے خدا کی عبادت یا روحانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں؟ ویڈیو گیمز؟ دنیوی گانے یا تفریح؟ یا پھر اچھی چیزیں جیسے کہ دوست یا مشغلے جو آہستہ آہستہ آپ کے وقت اور توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں؟ زبور 8:85 میں زبور نویس غالباً اُن لوگوں کے لیے دعا کر رہا ہے جو صیون واپس آئے تھے، پر وہ پھر حماقت کی طرف رجوع نہ کریں۔ یہ حماقت دنیا داری ہے۔ کیا صیون کو چننا آپ کے لیے اِس سے زیادہ اہم ہے؟ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے (1 یوحنا 4:5)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.