Day 25 – Just Like You
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
پچیسواں دِن: بالکل آپ کی طرح
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 69
بائبلی تاریخ کے بڑے رازوں میں سے ایک یسوع کی زندگی کےنامعلوم سال ہیں۔ کیا آپ کو متی اور لوقا کی انجیل کے ابتدائی ابواب کے کچھ واقعات یاد ہیں؟ جب یسوع آٹھ دن کا تھا تو اُس کا ختنہ ہوا۔ چالیس دن پورے ہونے پر اُس کے والدین اُسے ہیکل میں لے گئے اور بہ طور پہلوٹھا بیٹا خدا کے حضور پیش کیا۔ پھر خواب میں ہیرودیس کے اِس منصوبے سے آگاہ کیے جانے کے بعد کہ وہ یسوع کو قتل کرنا چاہتا ہے، یوسف مریم اور یسوع کو چند مہینوں کے لیے مصر لے گیا۔ پھر جب فرشتے نے اُنہیں بتایا کہ اب واپس جانا محفوظ ہے تو وہ مصر سے نکل کر اپنے آبائی شہر ناصرت میں آ بسے۔
لیکن اِس کے بعد کیا ہوا؟ بارہ سال کی عمر میں یسوع اپنے والدین کے ساتھ ہیکل میں عید فسح منانے کے لئے یروشلیم گیا (لوقا 41:2–51)، اِس واقعہ کے علاوہ، بائبل مقدس یسوع کی زندگی کے بارے میں خاموش ہے تب تک جب اُس نے تقریباً تیس برس کی عمر میں یوحنا سے بپتسمہ لیا ۔ تو اِن تمام درمیانی برسوں میں یسوع کے ساتھ کیا ہوا؟ اِس سارے عرصے میں یسوع نے کیا کیا؟
اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یسوع بالکل ہماری طرح بڑا ہوا۔
یقیناً بغیر گناہ کے لیکن وہ کامل انسان تھا جو اِنسانی زندگی کے مختلف مراحل سے گذرا پہلے ایک ننھا بچہ، پھر ایک کمسن لڑکا، پھر نوجوان اور بتدریج بالغ ہوا۔ کیا آپ یسوع کو ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جسے آپ کی طرح بڑھنا، سیکھنا اور بالغ ہونا پڑا؟ ہم زیادہ تر اُس کی زمینی خدمت پر دھیان دیتے ہیں، اِس لیے اُس کی تیس سال سے پہلے کی زندگی کو اکثر بھول جاتے ہیں۔ لیکن بائبل مقدس کی کچھ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ وہ واقعی ہماری طرح بڑا ہوا۔ وہ جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر بالغ ہوا بالکل ہماری طرح۔
لوقا کی انجیل کی دو آیات یسوع کی بلوغت سے متعلق واضح کرتی ہیں۔ اور وہ لڑکا بڑھتا اور قوت پاتا گیا اور حکمت سے معمور ہوتا گیا اور خدا کا فضل اُس پر تھا (لوقا 40:2)۔ اور یسوع حکمت اور قدوقامت میں اور خدا کی اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا (آیت 52)۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اگرچہ اُس کے والدین جانتے تھے کہ یسوع خدائے مجسم ہے مگر اُس نے اپنی الٰہی فطرت تیس برس کی عمر میں بپتسمہ تک ظاہر نہ کی۔ وہ ایک عام انسان کے طور پر جسمانی اور ذہنی طور پر بڑا ہوتا گیا اور ذہنی طور پر وہی کچھ سیکھتا رہا جیسا اُس کے والدین اٗسے سکھاتے تھے۔ یسوع نے عبادت میں شرکت کے ذریعے بھی سیکھا اور غالباً اپنے مقامی عبادت خانہ میں تعلیم بھی حاصل کی۔ اگرچہ اُس کا انسانی ذہن عام بچوں سے زیادہ بڑھ کر تھا پھر بھی وہ ایک انسانی ذہن ہی تھا اور یسوع نے بالکل ہماری طرح سب کچھ سیکھا۔
لوقا 2 کے مطابق، جب یسوع کے والدین اُسے غلطی سے یروشلیم چھوڑ کر گھر واپس چلے گئے تو بارہ سالہ یسوع تین دِن ہیکل میں رہا اور وہاں شریعت کے اُستادوں اور علما کے بیچ میں بیٹھ کر روحانی مسائل پر گفت گو کی۔ اور جتنے اُس کی سن رہے تھے اُس کی سمجھ اور اُس کے جوابوں سے دنگ تھے (آیت 47)۔ آپ میں سے بہت سے لوگ جو یہ پڑھ رہے ہیں، تقریباً بارہ سال کے ہیں۔ کیا آپ کسی سیمنری میں جا کر وہاں کے اساتذہ کے ساتھ عقائد پر بات چیت کر سکتے ہیں؟
لڑکے یسوع کو بائبل مقدس کا اتنا علم اس لیے تھا کیونکہ اس نے پہلے ہی اِسے پڑھا، سیکھا اور حفظ کیا ہوا تھا۔ اُس کے والدین اور اساتذہ نے اُسے اُسی طرح بائبل مقدس سکھائی جیسےہمارے والدین اور اساتذہ ہمیں سکھاتے ہیں۔ اُس نے بائبل مقدس کی آیات حفظ کیں بالکل اُسی طرح جس ہم کرتے ہیں۔
ممکن ہے کہ یسوع کی یادداشت کامل ہو جو ہم میں سے کسی کی نہیں لیکن کیا یہ حوصلہ افزا نہیں ہے کہ چاہے ہم گھر کا کام کررہے ہوں، کلاس میں یا گھر پر پڑھائی کر رہے ہیں یا کیٹی کیزم کے سوال و جواب اور آیات یاد کر رہے ہیں، یسوع نے یہ سب کچھ آپ کی طرح ہی کیا؟ کیا یہ ہمیں ترغیب نہیں دیتا کہ یہ سب کام اُس کی تمجید اور عزت کے لیے کریں؟
جیسے جیسے یسوع بڑا ہوا، اُس کے تعلقات دوسرے لوگوں سے بھی تھے، بھائی بہن (کم از کم چار بھائی اور دو بہنیں)، والدین، پڑوسی، دوست اور اپنے علاقہ کے لوگ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دوسرے لوگ یسوع کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے؟زبور 69 ایک مسیحائی زبور ہے جو یسوع کی تکالیف سے بھری زندگی کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ زبور ہم پر واضح کرتا ہے کہ اُس کے بہن بھائی اور دوسرے لوگ اُس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے تھے۔ میں اپنے بھائیوں کے نزدیک بیگانہ بنا ہوں اور اپنی ماں کے فرزندوں کے نزدیک اجنبی (آیت 8)۔ کیا یسوع کے بھائی اور بہنیں اس لیے حسد کرتے تھے کہ وہ ہمیشہ صحیح کام کرتا تھا؟ کیا وہ اِس بات پر اُس کا مذاق اڑاتے تھے کہ اُس کا انسانی باپ وہ نہیں تھا جو اُن کا تھا؟ کیا وہ اِس لیے اُس کی تضحیک کرتے تھے کہ یسوع ہمیشہ یوسف اور مریم کی فرمانبرداری کرتا تھا؟ اس زبور سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب یسوع دوسروں کے گناہوں پر روتا یا اپنے باپ کی تعظیم کے لیے روزہ رکھتا تو لوگ اُس کے خلاف بری باتیں کہتے تھے (آیت 10)۔ ناصرت کے حاکم اور سردار یسوع کی غیبت کرتے تھے۔ شرابیوں کے لئے ، وہ نشہ بازوں کا گیت تھا (آیت 12)۔
غالباً، آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ تو بالکل میری طرح ہے۔ کیا آپ کے بڑے بہن بھائی آپ کو ستاتے ہیں؟ کیا آپ کو اسکول میں تنگ کیا جاتا ہے؟ کیا لوگ صحیح بات پر قائم رہنے کی وجہ سےآپ کا مذاق اڑاتے ہیں؟ یسوع بھی اِنہی آزمائشوں میں سے گزرا۔ بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع نے بھی وہی آزمائشیں برداشت کیں جن کا ہم سامنا کرتے ہیں جن میں مذاق اور رسوائی کا دکھ بھی شامل ہے (عبرانیوں 15:4)۔ بالکل ہماری طرح۔ لہٰذا، ہمیشہ صحیح کام کرنے میں پر اعتماد رہیں چاہے لوگ کچھ بھی کہیں۔
کیا یہ جان کر آپ کو تقویت اور حوصلہ نہیں ملتا کہ وہی یسوع جس نے ہمارے گناہوں کے لیے اپنی جان دی، اُسی نے روحانی ترقی کے اِس راستے پر بھی قدم رکھا جس پر آپ بھی چلتے ہیں؟ اور کیا یہ یاد رکھنا شاندار نہیں ہے کہ جس یسوع نے شیطان کی آزمائشوں کا کامل طور پر مقابلہ کیا وہ ہر دِن آپ کے ساتھ ہے اور آپ کو ان آزمائشوں کے خلاف لڑنے میں مدد کرتا ہے جن کا آپ بھی سامنا کرتے ہیں؟ آسمان اور زمین اُس کی تعریف کریں اور سمندر اور جو کچھ اُن میں چلتا پھرتا ہے (زبور 34:69)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.