Hallel

Reading Time: 4 minutes

Day 26 – Hallel
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

چھبیسواں دِن: ہلیل

مصنف: مائیک ویلتھاؤس

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

زبور 118

اپریل کی ایک ابتدائی رات میں یسوع اور اس کے شاگرد یروشلیم کی گلیوں میں اکٹھے چل رہے تھے۔ آسمان پر پورے چاند اور بے شمار ستاروں کی روشنی کے باعث آدھی رات کے باوجود اندھیرا کم تھا۔ یہ رات پہلے ہی بہت خاص تھی۔ یسوع اور اس کے بارہ شاگرد ایک گھر کے بالاخانے میں فسح کا کھانا کھانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔لیکن جیسے جیسے رات آگے بڑھتی گئی، کچھ ایسے واقعات ہوئے جن سے شاگرد الجھن میں پڑ گئے اور بہت پریشان ہو گئے۔

سب سے پہلے، یسوع جو اُن کا اُستاد تھا،اُس نے اپنے شاگردوں کو حیران کر دیا۔ اُس نے خادم کی طرح برتاؤ کیا اور اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے۔ پھر ، یسوع نے بتایا کہ اُن بارہ میں سے ایک شاگرد اُسے دھوکا دے گا۔ شاگرد بار بار پوچھنے لگے، کیا میں ہوں؟ کیا میں ہوں؟ اے خداوند، کیا میں ہوں؟ وہ سب بہت الجھن میں تھے۔ اِس کے بعد یہوداہ اچانک اٹھ کر چلا گیا۔ پھر، یسوع نے شاگردوں کو بتایا کہ وہ جانے والا ہے اور وہ اُس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ پطرس نے کہا کہ وہ یسوع کے ساتھ کہیں بھی جائے گا لیکن یسوع نے اُس سے کہا کہ نہ صرف وہ ساتھ نہیں جا سکتا بلکہ صبح ہونے سے پہلے وہ تین بار یسوع کا انکار بھی کرے گا۔ یہ سب باتیں شاگردوں کے لیے بہت پریشان کن تھیں۔

اب یسوع اور باقی گیارہ شاگرد چل پڑے۔ وہ بالاخانے سے نکل کر یروشلیم کے گلیوں سے گزرے، شہر کے دروازے سے باہر آئے اور قدرون کی وادی کے پتھروں، جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے زیتون کے باغ گتسنمی پہنچے۔ اس دوران میں، یسوع اور شاگردوں نے وہ کیا جو ہم اکثر اپنے گھروں میں یا خداوند کے دِن اتوار کو کرتے ہیں، اُںہوں نے گیت گائے (متی 30:26)۔ مگر یہ کوئی عام گیت نہیں تھے۔ انہوں نے زبور 113 سے 118 تک کے گیت گائے جو ہلیل کہلاتے ہیں۔ عبرانی زبان میں ہالیلویاہ کا مطلب ہے، خداوند کی حمد کرو یا خداوند کی حمد ہو۔ ہلیل کے گیت پرانے عہدنامے کے یہودی فسح کے ہفتے کے دوران میں گایا کرتے تھے،اور یہ خدا کی حمد اور شکرگزاری کے گیت تھے اس بات پر کہ اُس نے انہیں مصر کی غلامی سے نجات دی اور بحرِ قلزم کے پار محفوظ طریقے سے گزارا۔ زبور 113 سے 118 پڑھیں اور گنیں کہ اِن میں حمد اور برکت کے الفاظ کتنی مرتبہ آئے ہیں۔ بیس سے بھی زیادہ مرتبہ!

جمعرات کی رات ختم ہو چکی تھی اور جمعہ کے دِن کا آغاز ہو چکا تھا۔ شاگردوں کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی گھنٹوں میں کیا ہونے والا ہے۔ مگر یسوع سب کچھ جانتا تھا۔ بنایِ عالم سے پیشتر ہی اُس نے ان سب واقعات کو مقرر کیا تھا۔ چند گھنٹوں میں یسوع کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ شاگرد یسوع کو چھوڑ کر اندھیرے میں بھاگ جائیں گے۔ یسوع کو غیر قانونی مقدمے میں پیش کیا جائے گا جہاں اُسے مارا جائے گا، اُس کے تھپڑ مارے جائیں گے اور اُس کا مذاق اُڑایا جائے گا۔ وہ زخمی ہو گا، اُس پر جھوٹے الزامات لگیں گے اور آخرکار صلیب پر موت کی سزا دی جائے گی۔ پھر شمعون کرینی کی مدد سے یسوع اپنی صلیب اُٹھا کر کوہِ کلوری جائے گا جہاں وہ مصلوب ہو گا اور سب کے سامنے مر جائے گا۔

اس سب کے باوجود، یسوع اور اُس کے شاگرد راستے میں یہ گیت گا رہے تھے۔ جس پتھر کو معماروں نے ردّ کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ یہ وہی دِن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا۔ ہم اِس میں شادمان ہوں گے اور خوشی منائیں گے (زبور 22:118–24)۔ فسح کا یہ گیت جو نسل در نسل یہودی گاتے آ رہے تھے، بہت جلد شاگردوں کی آنکھوں کے سامنے پورا ہونے والا تھا۔ یسوع، وہ ردّ کیا ہوا پتھر جسے نہ صرف یہودی راہنماؤں اور قوم نے بلکہ خود اس کے شاگردوں نے بھی رد کیا، ان کی نجات کی بنیاد کا پتھر بننے والا تھا۔ شاگرد اتنے الجھے ہوئے تھے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پیش آںے والے واقعات پر یسوع کی حاکمیت کے بارے میں گیت گا رہے ہیں۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اس میں کیا تعجب کی بات نہیں کہ یہ ہماری نظر میں عجیب ہے! اپنی باقی زندگی میں شاگرد یسوع کی قربانی کی موت پر حیران رہیں گے اور دنیا بھر میں یہ بیان کرتے رہیں گے کہ یسوع غالب آنے والا فاتح نجات دہندہ ہے۔

تصور کریں کہ یسوع خود بھی یہ گیت گا رہا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ اگلے پندرہ گھنٹوں میں اُسے نہ صرف یہودیوں اور رومیوں کے ہاتھوں دکھ سہنے ہوں گے بلکہ اپنے لوگوں کے گناہوں کے لیے خدا کے غضب کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ یہ وہی دِن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا۔ ہم اِس میں شادمان ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔ وہ جمعہ وہ دِن یعنی ایک خاص دِن بن گیا۔ یہ صرف مبارک جمعہ نہیں بلکہ تاریخ کے سب سے بڑے دِنوں میں سے ایک ہے! کیا آپ بھی اس دِن کی وجہ سے خوشی منائیں گے اور شادمان ہوں گے؟ کیا آپ اپنے پورے دِل سے ہالیلویاہ گائیں گے اس نجات کے کام کے لئے جسے یسوع نے آپ کے لئے مکمل کیا؟

تو میرا خدا ہے۔ میں تیرا شکر کروں گا۔ تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کروں گا۔ خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے (آیات 28–29)۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply