Day 27 – The Crimson Worm
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
ستائیسواں دِن: قرمزی کیڑا
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 22
بائبل مقدس کی پہلی کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ سب کچھ جو خدا نے تخلیق کیا دیکھا کہ وہ بہت اچھا تھا۔ تخلیق کے بارے میں سوچتے ہی غالباً ہمارے ذہنوں میں بڑی اور شاندار چیزیں جیسے کہ درخشاں سورج، اونچے پہاڑ، دھاڑتے ہوئے شیر یا بڑے بڑے دریاؤں کا خیال آتا ہے۔ خدا اپنی تمام مخلوقات کے ذریعے ہمیں اپنی قدرت اور جلال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ لیکن نہایت چھوٹی چیزیں، جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں وہ بھی بہت اچھی تخلیق ہیں۔ بعض جاندار حتیٰ کہ وہ جنہیں ہم غیر اہم سمجھتے ہیں،حیران کن اور عجیب و غریب طریقوں سے ہمیں یسوع مسیح کی ذات اور اُس کے کام کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
قرمزی کیڑا ایسی ہی ایک چھوٹی مگر خاص مخلوق ہے۔ یہ عام کیڑوں سے ذرا مختلف ہے کیونکہ یہ ایک حشرہ ہے جس کے پاس ایک خول اور چھ چھوٹی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ اس کی لمبائی تقریباً سات ملی میٹر ہوتی ہے یعنی پنسل کے ربڑ سے بس تھوڑی سی بڑی۔ یہ بہت چھوٹا، حقیر اور بظاہر غیر اہم نظر آتا ہے بلکہ بعض لوگوں کو ناگوار بھی لگ سکتا ہے۔
لیکن خدا نے قرمزی کیڑے کو ایک خاص جگہ یعنی اسرائیل کی سرزمین میں پیدا کیا اور اس کی زندگی کا ایک ایسا سلسلہ ترتیب دیا جو ہمیں ایک بڑے واقعے، یسوع کی نجات بخش صلیبی قربانی کی یاد دِلاتا ہے۔
جب اس کیڑے کی مادہ انڈے دینے کے لیے تیار ہوتی ہے تو وہ ایک خاص قسم کے بلوط کے درخت کی طرف جاتی ہے۔ وہ بڑی مشقت سے درخت کے تنے پر چڑھتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ وہ کبھی واپس نیچے نہیں آئے گی۔ وہ وہاں اس لیے جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو زندگی دے اور پھر اپنی جان قربان کرے۔ جب وہ اپنی جگہ پر پہنچ کر خود کو لکڑی کے ساتھ مضبوطی سے چپکا لیتی ہے تو اس کا خول ایک سخت، قرمزی رنگ کی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ اِسی ڈھانچے کے نیچے اس کے انڈے نکلتے ہیں۔ تین دن تک وہ اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اِسی دوران میں، بچے اُس کے جسم سے خوراک حاصل کرتے ہیں اور یوں وہ ماں کی زندگی کے ذریعے زندہ رہتے ہیں یہاں تک کہ ماں مر جاتی ہے۔ ماں کی موت کے بعد اُس کے جسم سے ایک گہرا قرمزی رنگ نکلتا ہے جو درخت اور اس کے نیچے موجود بچوں کو رنگ دیتا ہے۔ اِس رنگ کی وجہ سے بچے اپنی ساری زندگی قرمزی کیڑے کہلاتے ہیں۔
تین دن گزرنے کے بعد ایک اور حیران کن بات ہوتی ہے۔ مادہ قرمزی کیڑے کی دُم اُس کے سر کے اندر سمٹ جاتی ہے اور اس کا جسم دِل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اگرچہ درخت پر قرمزی رنگ کا نشان باقی رہتا ہے لیکن ماں کا جسم اب قرمزی نہیں رہتا۔ وہ برف کی طرح سفید اور موم مادے میں بدل جاتی ہے جو آہستہ آہستہ ٹوٹ کر جھڑنے لگتا ہے۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کیڑا کس طرح ہماری رہنمائی مسیح کی جانب کرتا ہے؟
غالباً زبور 22 کے علاوہ کوئی دوسرا زبور یسوع کے دکھ اور موت کی اِتنی وضاحت کے ساتھ پیش گوئی نہیں کرتا۔ یہ پورا زبور ہمیں مسیح کے صلیب پر دکھ اُٹھانے کے گھنٹوں کے ایک جیتے جاگتے سفر پر لے جاتا ہے۔ جہاں وہ مصلوب ہوا، بدکاروں کی گروہ اُسے گھیرے ہوئے تھی اور اُنہوں نے اُس کے ہاتھ اور پاؤں چھیدے (آیت 16)۔ وہ اُسے تاکتے اور گھورتے تھے (آیت 17)۔ اُنہوں نے سر ہلا ہلا کر اُس کا مذاق اُڑایا (آیت 7)۔ اُنہوں نے اُس کی پوشاک پر قرعہ ڈالا (آیت 18)۔ آپ صلیب پر یسوع کو تھکا ہوا اور پیاسا تصور کر سکتے ہیں (آیت 15)۔ کون یسوع کی اِس پکار کو بھول سکتا ہے، اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ (آیت 1)
پھر ہم اِس آیت کو پڑھتے ہیں، پر میں تو کیڑا ہوں۔ انسان نہیں (آیت 6)۔ یسوع، کیا ایک کیڑے کی مانند؟ ایک چھوٹے، ناگوار اور ناپسندیدہ حشرے کی مانند؟ جو مٹی میں زمین کے نیچے کی تاریکی میں رہتا ہے؟ جی ہاں، بالکل۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہاں یسوع کو عام کیڑے سے نہیں بلکہ قرمزی کیڑے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
جس طرح مادہ قرمزی کیڑا اپنے بچوں کے لیے اپنی جان دینے کو خود بلوط کے درخت پر جاتی ہے، اِسی طرح یسوع نے بھی خدا کی مرضی کے موافق صلیب پر ہمارے گناہوں کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا (گلتیوں 4:1)۔ جیسے موت کے بعد اس مادہ کیڑے کے جسم سے ایک گہرا رنگ نکلتا ہے، اُسی طرح یسوع نے بھی آپ کے لیے اور اُن سب کے لیے جنہیں باپ نے اُسے دیا، اپنا خون بہایا (یوحنا 9:17)۔ جس طرح ننھے قرمزی کیڑے اپنی ماں کے خون سے رنگے جاتے ہیں، اِسی طرح آپ بھی اپنے گناہوں سے دُھل کر یسوع کے قیمتی خون میں ڈھانپ دیے گئے ہیں (مکاشفہ 5:1)۔ اور جس طرح مادہ قرمزی کیڑا اپنی موت کے تین دِن بعد برف کی مانند سفید ہو جاتی ہے اُسی طرح یسوع بھی تین دِن بعد اپنے بدن کے ساتھ جی اُٹھا تاکہ آپ ہمیشہ کے لیے اُس کی راستبازی سے ملبس ہوں اور برف کی طرح پاک اور سفید ہو جائیں (مکاشفہ 8:19)۔
اِس لئے، خدا کی شاندار تخلیق کے ہر پہلو سے لطف اٹھائیں۔ صرف بڑی اور نمایاں چیزوں مثلاً دریائی گھوڑوں، شان دار اور اونچے درختوں یا بڑے بڑے دریاؤں پر ہی نہیں بلکہ اپنے اِردگرد خدا کی تخلیق کی اُن چھوٹی اور بظاہر غیر اہم چیزوں پر بھی غور کریں، وہ بھی بہت اچھی تخلیق ہیں۔ حتیٰ کہ کیڑے بھی۔غور کریں کہ خدا اُن کے ذریعے ہمیں کیا دِکھانا اور سکھانا چاہتا ہے۔
اب خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چند وہ ارغوانی ہوں تو بھی اُون کی مانند اُجلے ہوں گے (یسعیاہ 18:1)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.