A Very Bad Man

Day 6 – A Very Bad Man
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

چھٹا دِن: ایک بہت برا آدمی

مصنف: مائیک ویلتھاؤس

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

زبور 52

کیا آپ نے اڈولف ہٹلر اور جوزف استالن وغیرہ کا نام سنا ہے؟ یہ گذشتہ صدی کے چند انتہائی ظالم اور بدکار لوگ تھے۔ یہ شیطان کے آلہ کار تھے اور انہوں نے اُن لوگوں کو قتل کروایا جو ان کی ظالمانہ حکومت کے آگے جھکنے یا اُن کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔

واعظ 9:1 بیان کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نئی نہیں۔بائبل مقدس کے دونوں عہود میں بھی بہت سے برے لوگوں کا ذکر ہوا ہے جیسے کہ شروع میں ہی قائن کا۔ کیا آپ مزید کسی کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ کیا آپ ہیرودیس کے بارے میں جانتے ہیں جس نے بیت لحم کے تمام شیرخوار بچوں کو مروا دِیا تھا یا پھر یا منسی بادشاہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو توبہ سے پہلے خدا کے نبیوں کو مار ڈالتا تھا اور اپنے بچوں کو مولک دیوتا کی آتشیں قربان گاہ پر نذر کر دیتا تھا۔

ایسا ہی ایک اور برا آدمی تھا، ادومی دوئیگ۔ دوئیگ کا ذکر صرف 1 سموئیل 21 اور 22 میں آتا ہے لیکن جو ظلم اُس کے سبب برپا ہوا، وہ تاریخ میں یاد رکھا گیا۔ وہ عیسو کی نسل سے تھا اور ادوم کے علاقے کا رہنے والا تھا، اس لیے وہ اسرائیل سے فطری طور پر دشمنی رکھتا تھا۔ غالباً ساؤل بادشاہ نے اسے ایک جنگ میں اسیر کیا (1 سموئیل 47:14)۔پھر اسے اپنے چرواہوں کا سردار مقرر کر دیا۔ مگر حقیقت میں وہ بادشاہ کے لیے کام کرنے والا ایک سپاہی تھا جو دوسروں پر نگران تھا۔اُسے دو چیزیں پسند تھیں، پیسہ اور بادشاہ کی خوشنودی۔

کیا آپ کو یاد ہے کہ داؤد ساؤل بادشاہ سے بھاگ کر نوب میں اخیملک کے پاس آیا تھا؟ وہاں اخیملک کاہن نے اُسے کھانے کے لئے مقدس روٹیاں اور حفاظت کے لئے جولیت کی تلوار بھی دی۔ خدا کے انتظام کے مطابق، دوئیگ بھی اُس دن نوب میں موجود تھا۔ دوئیگ نے وہاں سے نکل کر ساؤل کو یہ خبر دی کہ اس نے داؤد کو نوب میں دیکھا ہے۔ پھر ساؤل نے اخیملک اور دوسرے کاہنوں کو بلا کر بازپرس کی۔ اُن کے جواب پر ساؤل اتنا برہم ہوا کہ اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ کاہنوں کو یہیں قتل کر دیں۔ لیکن سپاہیوں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ مگر دوئیگ تیار تھا۔

١ سموئیل 22 میں بیان کیا گیا ہے، سو ادومی دوئیگ نے مڑ کر کاہنوں پر حملہ کیا اور اُس دِن اُس نے پچاسی آدمی جو کتان کے افود پہنے تھے قتل کئے۔ اور اُس نے کاہنوں کے شہر نوب کو تلوار کی دھار سے مارا اور مردوں اور عورتوں اور لڑکوں اور دودھ پیتے بچوں اور بیلوں اور گدھوں اور بھیڑ بکریوں کو تہ تیغ کیا۔ سوچیں، ایک ادومی ہونے کے ناتے، اسے اسرائیل کے کاہنوں کو مارنے میں کتنی شیطانی لذت ملی ہوگی! بادشاہ کی خوشنودی، پیسہ، اور انتقام، سب ایک جگہ مگر اُس نے اِسے یہیں ختم نہیں کیا بلکہ پورے کا پورا شہر تباہ کردِیا۔

انہی واقعات پر غور کرتے ہوئے داؤد نے زبور 52 تحریر کیا۔ وہ پہلی ہی آیت میں دوئیگ سے مخاطب ہوتا ہے، اے زبردست! تو شرارت پر کیوں فخر کرتا ہے؟ درحقیقت، دوئیگ شرارت پر فخر کرتا تھا۔ مگر اس کا فخر غرور اور لالچ پر مبنی تھا۔ آیت 3 بیان کرتی ہے کہ تو بدی کو نیکی سے زیادہ پسند کرتا ہے اور جھوٹ کو صداقت کی بات سے۔ اُس کا دِل و دماغ بدی اور شرارت سے پر تھا اور زندگی برائی سے بھری ہوئی۔

یہ ہولناک واقعات دو باتوں کی وجہ سے ہوئے۔ پہلی وجہ داؤد کا اخیملک سے جھوٹ بولنا کہ بادشاہ نے اُسے ایک کام کا حکم کرکے کہا ہے کہ جس کام پر میں تجھے بھیجتا ہوں اور جو حکم میں نے تجھے دیا ہے وہ کسی شخص پر ظاہر نہ ہو۔ سو میں نے جوانوں کو فلاں فلاں جگہ بٹھا دِیا ہے، پس جو کچھ اُس کے پاس کھانے کے لئے موجود ہے وہ دے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ دوئیگ نے جو دیکھا تھا، وہ ساؤل کو بتایا، یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ بادشاہ بدلہ لینے میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ داؤد لکھتا ہے، تیری زبان محض شرارت ایجاد کرتی ہے۔ اے دغاباز! وہ تیز اُسترے کی مانند ہے۔ اے دغاباز زبان! تو مہلک باتوں کو پسند کرتی ہے (آیات 2 اور 4)۔دوئیگ نے اپنے مال کی فراوانی پر بھروسہ کیا اور شرارت میں پکا ہو گیا (آیت 7)۔ سوچیں، اُس نے ایک ہی دن میں کتنے لوگ مار ڈالے ہوں گے؟ کتنی ہولناک بدکاری اور شرارت۔

لیکن خدا نے دوئیگ کا انجام کیا ٹھہرایا؟ آیت 5 اُس کی سزا کے بارے میں بیان کرتی ہے، خدا اُسے پکڑ کر اُس کے خیمہ سے نکال پھینکے گا اور زندوں کی زمین سے اُسے اکھاڑ ڈالے گا اور اُسے ہمیشہ کے لئے ہلاک کر ڈالے گا۔ غور کریں کہ دوئیگ کا تکبر اُسے کہاں لے گیا؟

اگرچہ داؤد بھی دوئیگ کی طرح شرارت اور دھوکا دہی کا مرتکب ہوا لیکن اُس کا توکل خدا کی شفقت پر تھا اور اُس کی پناہ گاہ خدا تھا۔ داؤد اپنے آپ کو خدا کے گھر میں زیتون کے ہرے درخت سے تشبیہ دیتا ہے (آیت 8)۔ ہرا درخت زندہ ہوتا ہے۔ اسرائیلیوں کے نزدیک زیتون کے درخت زندگی اور حفاظت کی علامت تھے۔ زیتون کا درخت دنیا کے اُن درختوں میں سے ایک ہے جو بہت لمبی عمر پاتے ہیں کبھی کبھی ایک ہزار سال سے بھی زیادہ۔ کیا آپ زیتون کے ہرے درخت کی مانند ہیں؟ داؤد کی طرح، ہمیں بھی خدا اور اس کے گھر میں زندگی اور حفاظت ملتی ہے۔ خدا اس دنیا کی برائی کو بھی ہماری بھلائی اور کلیسیا کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اِسی لئے ہم ہمیشہ اُس کی شکرگذاری کرتے ہیں اور ہمیں اُس کے ہی نام کی آس ہے (آیت 8–9)۔

اے زبردست! تو شرارت پر کیوں فخر کرتا ہے؟

خدا کی شفقت دائمی ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Comment