Our Only Comfort

The following article, “Our Only Comfort“, was written by Rev. Carl Haak and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

ہماری واحد تسلی

مصنف: پادری کارل جے ہاک

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

زندگی میں آپ کی تسلی کیا ہے؟ اور موت میں؟

تسلی وہ چیز ہے جو ہر انسان زندگی میں چاہتا ہے۔ ذہنی سکون حاصل کرنا، مصیبت سے نجات پانا، اطمینان اور دِلی سکون حاصل کرنا، یقیناً ہر کوئی یہی چاہتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت کم لوگوں کو تسلی میسر ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب زندگی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو، جو کچھ وہ چاہتے ہیں، وہ سب اُن کے پاس موجود ہو، صحت اچھی ہو اور مسائل کم ہوں، تب ہی تسلی ہوتی ہے۔ بعض کے مطابق، تسلی یہ ہے کہ ہم برائی اور مشکلات کا مقابلہ کر سکیں، مضبوط ارادہ رکھیں اور تلخ حالات کو برداشت کر کے زندگی میں خوش رہیں۔ اور بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ تسلی زندگی کے کٹھن حقائق سے فرار میں ہے، چاہے وہ چھٹیوں کے ذریعے ہو، ادویات کے استعمال سے یا شراب نوشی کے ذریعے ہو۔

ہمیں اور ہر انسان کو تسلی کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کینسر کی وجہ سے اسپتال میں ہے اور آپ اس سے پوچھیں کہ وہ کن باتوں سے تسلی حاصل کرتا ہے؟ تو اُس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ میرے دوست مجھ سے ملنے آتے ہیں اور میرے لئے مختلف تحائف لاتے ہیں یا میرے علاج کے لئے بہترین ڈاکٹر یہاں موجود ہیں۔آپ اُس شخص کو تسلی دینے کے لئے کیا کہیں گے، اُس کے حالات اور بھی خراب ہو سکتے ہیں یا حوصلہ رکھو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟

ایک اور مثال جنازہ گاہ کی ہے۔ وہاں آپ کیا کہیں گے کہ مرحوم کے لواحقین کو تسلی ملے؟ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی زندگی کے اچھے اعمال یاد رکھنا تسلی ہے۔ کچھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ موت فطری عمل ہے اور اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی سے لطف اٹھائیں جب تک ہم اِس زمین پر زندہ ہیں۔ اور کچھ لوگ، شدید غم کے عالم میں، صاف صاف کہہ دیں گے کہ اس دنیا میں کوئی حقیقی تسلی نہیں اور نہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں انسان نہ روئے۔ ایسے شخص کو کیا تسلی دی جا سکتی ہے؟

دنیاوی تصورات اور غم زدہ شخص کو تسلی دینے کی انسانی کوششوں کے برعکس، ایک مسیحی، چاہے اس کی زندگی کیسی بھی ہو، زندگی اور موت دونوں میں واحد تسلی رکھتا ہے۔ اس کی تسلی بائبل مقدس یعنی خدا کے کلام پر مبنی ہے۔ درحقیقت، بائبل مقدس ، خدا کا اپنے لوگوں کے لیے تسلی کا کلام ہے۔ یسعیاہ نبی کو اِس بات کی منادی کرنے کا حکم دیا گیا کہ تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔ یروشلیم کو دِلاسا دو اور اُسے پکار کر کہو کہ اُس کی مصیبت کے دِن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اُس کے گناہ کا کفارہ ہوا اور اُس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دوچند پایا (یسعیاہ 40: 1-2). یہاں تسلی کا مطلب یہ ہے کہ یروشلیم کے گناہ معاف کر دیے گئے، اسکے جنگ و جدل کے دِنوں کا خاتمہ ہو گیا اور خدا نے اسے اُس کے گناہوں کی معافی دی۔ یسعیاہ یہی تسلی بخش پیغام 9:52 میں بھی بیان کرتا ہے، اے یروشلیم کے ویرانو! خوشی سے للکارو۔ مل کر نغمہ سرائی کرو کیونکہ خداوند نے اپنی قوم کو دِلاسا دیا۔ اُس نے یروشلیم کا فدیہ دِیا۔ یہاں بھی بائبل مقدس واضح کرتی ہے کہ حقیقی تسلی نجات اور خدا کے رحم سے گناہوں کی معافی میں ہے۔ پولس رسول بھی 2 کرنتھیوں 3:1-4 میں ہمیں تسلی کا یہی پیغام دیتا ہے، ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔ وہ ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلی کے سبب سے جو خدا ہمیں بخشتا ہے اُن کو بھی تسلی دے سکیں جو کسی طرح کی مصیبت میں ہیں۔ یہاں خدا کو ہر طرح کی تسلی کا خدا کہا گیا ہے یعنی ہر طرح کی تسلی اُسی سے آتی ہے اور صرف اُس کے ساتھ تعلق میں حاصل ہو سکتی ہے۔ وہی ہمیں ہر مصیبت میں تسلی دے سکتا ہےاور مقصد یہ ہے کہ ہم بھی دوسروں کو تسلی دے سکیں۔

اگر ہم بائبل مقدس کی تعلیم کا خلاصہ کریں تو تسلی کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے: تسلی یہ جاننا ہے کہ میرا بدن اور روح زندگی اور موت دونوں میں میرے اپنے نہیں بلکہ یسوع مسیح کی ملکیت ہیں جس نے مجھے اپنے خون سے مجھے خریدا تاکہ میرے گناہ معاف ہوں اور مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو۔

یہی حقیقی تسلی ہے! کتنی قابلِ تعریف اور زبردست بات ہے کہ میں زندگی اور موت دونوں میں، یسوع کا ہوں یا جیسا کہ رومیوں 8:14 میں بیان کیا گیا ہے، اگر ہم جیتے ہیں تو خداوند کے واسطے جیتے ہیں اور اگر مرتے ہیں تو خداوند کے واسطے مرتے ہیں۔ پس ہم جئیں یا مریں خداوند ہی کے ہیں۔

خدا کی طرف سے آنے والی تسلی دو حصوں پر مشتمل ہے۔اوّل، مسیحی تسلی یہ جاننا ہے کہ میں اپنا نہیں ہوں۔ میں خودمختار یا خود پر انحصار کرنے والا نہیں ہوں۔ 1 کرنتھیوں 19:6 میں پولس بیان کرتا ہے کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔ یعنی خدا کا فرزند اپنی تسلی کے لیے خود پر یا اپنی انسانی عقل پر بھروسہ نہیں کرتا۔ یہ اکثر ہمارے فخر کے برعکس ہوتا ہے۔اکثر، فخر یا تکبر کے باعث ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہماری عقل یا طاقت ہمیں مشکلات سے نکال سکتی ہے۔ لیکن مسیحی تسلی کا اقرار اس بات میں ہے کہ میں اپنا نہیں ہوں۔ کیونکہ اگر میں اپنا ہوتا تو میں اپنے گناہوں کا بڑا قرض خود چکاتا جو کبھی ختم نہیں کر سکتا بلکہ ہر روز اُس میں اضافہ کرتا رہتا ہوں۔

دوم، حقیقی تسلی یہ جاننا ہے کہ میں اپنے وفادار نجات دہندہ یسوع مسیح کا ہوں۔ یہ سچ ہے کیونکہ یسوع نے مجھے اپنے خون سے خریدا جو اس نے کلوری پر بہایا جہاں اس نے مجھے گناہوں سے نجات دی اور اپنی ملکیت بنایا۔ 1 پطرس 18:1-19 میں لکھا ہے, تمہاری خلاصی فانی چیزوں یعنی سونے چاندی کے ذریعہ سے نہیں ہوئی۔ بلکہ ایک بے عیب اور بے داغ برّے یعنی مسیح کے بیش قیمت خون سے۔ یسوع نے اپنے فضل سے مجھے، صلیب پر بہائے گئے، اپنے خون سے خریدا اس لیے میں اُس کا ہوں اور اُسی سے تعلق رکھتا ہوں۔

یسوع سے تعلق رکھنے سے کیا مراد ہے؟

یسوع سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ میں ایمان کے ذریعے اس کے ساتھ ناقابل جدا طور پر متحد ہوں۔ میں اس کی ملکیت ہوں، وہ میرا مالک ہے اور میرے بدن اور روح، زندگی اور موت، اِس وقت میں اور ابدیت میں میرا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے اپنے روح اور فضل سے قائم رکھتا ہے اور بطور مالک مجھے جسم اور روح کی ضرورت کی سب چیزیں دیتا ہے۔ میں اس پر بھروسہ کر سکتا ہوں، اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال سکتا ہوں کیونکہ اُسے میری فکر ہے (1 پطرس 7:5)۔ یسوع سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ میں پولس کی طرح کہہ سکتا ہوں کہ اب میں زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے اور میں جو اب جسم میں زندگی گذارتا ہوں تو خدا کے بیٹے پر ایمان لانے سے گذارتا ہوں جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دِیا (گلتیوں 20:2)۔ ہر چیز مسیح کے اختیار میں ہے جو خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا حکومت کرتا ہے۔ میری زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، مسیح اسے میری بھلائی اور میری روحانی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس موجودہ زندگی کے تمام مسائل اور دکھ نہ تو مجھے دبا سکتے ہیں اور نہ ہی اُس مقدس تعلق یا اتحاد کو ختم کر سکتے ہیں جو مسیح نے اپنے فضل سے میرے ساتھ قائم کیا ہے۔ یسوع مسیح کے ہونے کا پختہ یقین ہونے کے سبب ہی پولس لکھتا ہے، کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جدا کرسکے گی نہ زِندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق (رومیوں 38:8-39)۔

متذکرہ بالا خلاصہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں؛ سب سے پہلے، یہ ایک خاص اور واحد تسلی ہے۔ پوری دنیا میں کوئی اور چیز ایسی نہیں جو آپ کو حقیقی تسلی دے سکے۔ یہ سب سے بڑی، سب سے اچھی یا سب سے اہم تسلی نہیں بلکہ یہ واحد تسلی ہے۔ تسلی یہ نہیں کہ میں یسوع سے تعلق رکھتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں صحت مند، مالدار یا مضبوط ہوں۔ تسلی یہ بھی نہیں کہ میں یسوع کا ہوں اور اِس کے ساتھ میرے پاس اچھی بیمہ پالیسی ہے۔ اس واحد تسلی کے ساتھ کسی اور سہارے کو شامل کرنا اس تسلی سے محرومی ہے۔ حقیقی اور واحد تسلی یہ ہے کہ میں زندگی میں بھی اور موت میں بھی مکمل طور پر یسوع مسیح کا ہوں۔

دوم، یہ تسلی ہر طرح سے کافی ہے۔ یہ زندگی کے ہر حال میں اور موت کے تمام خوفناک پہلوؤں کے لیے بھی کافی ہے۔ میری زندگی میں چاہے کیسی ہی برائی کیوں نہ واقع ہو ، یسوع سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھے تسلی دیتا ہے اور اسے میرے فائدے کے لیے آنے دیتا ہے۔ تسلی یہ جاننا ہے کہ میں کبھی بھی یسوع کے ہاتھوں سے باہر نہیں ہوں اور یہ کہ ہر چیز، کسی نہ کسی طرح، میری بھلائی کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم کبھی نہیں جان پاتے کہ ایسا کیسے ہوتا ہے اور نہ ہی ہم ہر بار یہ سمجھا سکتے ہیں کہ برائی کیسے ہماری بھلائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔تسلی اِس بات پر ایمان رکھنا ہے۔ جب ہماری زندگی میں برے حالات آتے ہیں تو تسلی یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے انہیں ہمارے فائدے کے لیے بھیجا ہے اور وہ مسیح میں ہمیں یہ فضل بھی دیتا ہے کہ ہم اُن کو شکرگزاری کے ساتھ برداشت کر سکیں۔ رومیوں 28:8 سے روح القدس کا یہی مطلب ہے، اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

کیا آپ کی واحد تسلی یہ ہے کہ آپ اپنے نہیں بلکہ اپنے باوفا نجات دہندہ یسوع مسیح کے ہیں؟ تو اپنی زندگی کے تمام دِن شکرگزاری کے ساتھ اُسی کے لیے گذاریں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply