Part 1, Section 3: Biblical Christianity – Institutes of the Christian Religion

Through exploring in turn the Father, the Son, and the Holy Spirit, Calvin’s Institutes sought to achieve a “knowledge of ourselves” in light of “knowledge of God“. This work, foundational to theological thought for five centuries, is presented here in a faithfully edited version – perfect for enriching Bible Studies or devotionals.

بائبلی مسیحیت: دِین مسیحیت کی بنیادی تعلیمات

مصنف: جان کالون

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

حصہ اوّل: خالق خدا کا علم

٣۔ خدا کا علم ہر انسان کے دِل و دماغ میں فطری طور پر موجود ہے۔

ہر انسان کے دِل و دماغ میں کسی نہ کسی طرح سے خدا سے متعلق خیال موجود ہوتا ہے۔ یہ انسان کو خدا کی حقیقت کے لئے قائل کرتا ہے اور یہ قائلیت خدا کی طرف سے انسان کے دِل میں ڈالی گئی ہے اور قائم رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ خدا موجود ہے۔ حتیٰ کہ جب لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ خدا جیسی کوئی اعلیٰ ہستی موجود ہے جو عبادت و تعظیم کے لائق ہے۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہب کو، جیسا کہ ہم ناقدین کہتے ہیں، عام لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لئے ایجاد نہیں کیا گیا۔ یہ سچ ہے کہ بعض لوگوں نےمذہب کو اِس مقصد کے لئے استعمال کیا لیکن وہ ایسا کبھی نہ کرپاتےاگر انسانوں کے ذہن میں خدا کا تصور پہلے سے موجود نہ ہوتا۔ کچھ لوگ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے لیکن حتیٰ کہ وہ بھی ایسے لمحات محسوس کرتے ہیں جب وہ اُس خدا کے وجود پر یقین کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جسے وہ نظر انداز کرنا یا بھولنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے برے اعمال کی سزا سے ڈرتے ہیں۔

خدا کا علم کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان اسکول میں سیکھیں۔ یہ علم انسان کے دِل و دماغ میں فطرتاً موجود ہوتا ہے۔ یہ انسانی شعور کا حصہ ہے اور انسان چاہے جتنی بھی کوشش کریں، اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply