Remember the Value of Prayer

Reading Time: 3 minutes

This excerpt is taken from How Can I Cultivate Private Prayer? by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

دعا کی اہمیت کو یاد رکھیں

مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی

مترجم: ارسلان الحق

یسوع مسیح کے شاگرد دعا کرنا سیکھنا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ دعا ہمارے خداوند کی زندگی کا اہم حصہ تھی (لوقا 1:11)۔ ہمیں ہمیشہ ان پانچ سچائیوں کو یاد رکھنا چاہیے؛

١۔ دعا ہماری روح کی بھلائی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

٢۔ دعا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندان، کلیسیا اور قوم میں اپنے بلاوے اور ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔

٣۔ دعا مسیح کے کاموں کی مانند کرنے والے کاموں میں سے ایک ہے۔

٤۔ دعا خدا کا وہ مقررہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے خدا اپنی بادشاہی کی برکات اور مسیح کی نعمتیں اپنے لوگوں کو عطا کرتا ہے۔

٥۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہماری دعاؤں کا جواب نہ ملنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ دعا ہی نہ کی جائے کیونکہ ہمیں اِس لئے نہیں ملتا کہ مانگتے نہیں (یعقوب 2:4)۔

ہمیں دعا کو اہمیت دینی چاہیے حتیٰ کہ تب بھی جب اُس کا فوری جواب نہ ملے۔ ہمیں اپنی مرضی پر بھروسے اور فرماں برداری میں مضبوط کرنے کے لئے یہ خدا کی شفقت بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ہماری دعا کا فوری جواب نہ دے۔ ایمان کی سب سے مضبوط بنیاد اکثر وہ دعائیں بنتی ہے جو فوراً پوری نہیں ہوتیں۔ ایک ہندو کو مسیح میں شامل ہونے کے لئے بپتسمہ دینے سے پہلے ولیم کیری نے بھارت میں آٹھ سال تک بہ طور مشنری کام کیا۔ ماسوا اس کے، اِن سالوں کے دوران میں ، کیری نےصرف خدا کے جلال کے لئے جینا سیکھا۔ اُس نے لکھا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اپنی جان، اپنا جسم اور سب کچھ خدا کے ہاتھ میں دے دینا ٹھیک ہے۔ تب دنیا چھوٹی معلوم ہوتی ہے، خدا کے وعدے عظیم لگتے ہیں اور خدا بقدر احتیاج کافی بخرہ محسوس ہوتا ہے۔ دعا کے جواب میں تاخیر کیری کے لئے روحانی غذا بن گئی۔ آج بھی ایمانداروں کے ساتھ یہی ہوتا ہےجب وہ دعا کے دوران میں خدا کی خاموشی کو محسوس کرتے ہیں تو اُس کی موجودگی کو زیادہ قریب سے محسوس کرتے ہیں۔ خدا ہمیشہ ہماری درخواستوں اور دعاؤں کے جواب سے زیادہ عظیم اور اہم ہے ۔ سب سے بڑی شفقت خدا کو پانا ہے نہ کہ اُس کی مہربانیوں کو۔پھر ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ جب ہم کوئی چھوٹی چیز مانگتے ہیں، خدا اپنی خاموشیوں میں ہمیں کوئی بڑی اور اُس سے قیمتی چیز لپیٹ کر دے سکتا ہے جو کبھی زائل نہ ہو۔ ولیم برج کے مطابق، دعا گو انسان کبھی بہت زیادہ بدحال نہیں ہو سکتا چاہے اس کی زندگی کی حالت کچھ بھی ہو کیونکہ وہ خدا کے سامنے کسی بھی وقت درخواست کر سکتا ہے۔ اُس سے دعا کرنا ہی شفقت ہے چاہے ہمیں وہ چیز نہ ملے جس کے لیے ہم دعا کر رہے تھے۔

اگر ان دعاؤں کا جواب نہ ملنا فائدہ مند ہو سکتا ہے تو وہ دعائیں کس قدر اہمیت کی حامل ہوں گی جن کا جواب ملتا ہے! ہمارے خداوند یسوع مسیح نے ہمیں بتایا ہے کہ مانگنے، ڈھونڈنے اور دروازہ کھٹکھٹانے والی زندگی ہی ملنے، پانے اور ہمارے لئے دروازہ کھلنے والی زندگی ہے (متی 7:7)۔ خدا کا جواب دینے کا طریقہ ہے،وہ ہماری دعا کا جواب دیتا ہے یا ہمیں کچھ اور بہتر عطا کرتا ہےیعنی وہ چیز جو ہمیں اصل میں مانگنی چاہیے تھی۔ دعا کی اہمیت کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ اعمال 1:12–10 میں درج واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، تھامس واٹسن نے بیان کیا، فرشتہ پطرس کو قید سےچھڑا لایا لیکن دعا ہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے فرشتے کو وہاں بھیجا گیا۔ ایک بار میں ایک بیمار عورت کی عیادت کے لئے گیا اور اس کی جسمانی اور روحانی ضروریات کے لیے دعا کرنے کے بعد میں نے معذرت کی کہ میں کچھ اور نہیں کر سکتا۔ اُس نے دانائی سے مجھے ٹوکا اور کہا، پادری صاحب، آپ نے میرے لیے ڈاکٹروں سے زیادہ اہم کام کیا، آپ نے میرے لیے دعا کی۔

دعا کریں,ہر وقت دعا کرتے رہنا اور ہمت نہیں ہارنا چاہیے (لوقا 1:18)۔ یاد رکھیں کہ بیج بونے اور فصل کاٹنے کے درمیان پودے نشوونما پاتے ہیں ۔اُنہیں اپنی دعاؤں سے پانی دیتے رہیں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply