This excerpt is taken from Reformed Systematic Theology, Volume 1: Revelation and God by Joel R. Beeke and Paul Smalley, published by Crossway. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
شیطان کی چالوں کا مقابلہ کرنا
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
پولس بیان کرتا ہے، خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم ابلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم رہ سکو (افسیوں 11:6)۔ اِس آیت میں جس یونانی لفظ (میتھوڈیا) کا ترجمہ منصوبوں کیا گیا ہے، وہ ان سازشوں، چالوں یا حکمت عملی (طریقوں) کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے ذریعے شیطان ہمیں دھوکہ دینے اور ہم پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ پولس اِسی طرح ہمیں خبردار کرتا ہے کہ شیطان کا ہم پر داؤ نہ چلے کیونکہ ہم اُس کے حیلوں سے ناواقف نہیں (2 کرنتھیوں 11:2)۔ حیلوں (یونانی میں نوئیما۔صیغہ جمع) سے مراد خیالات، ارادے یا منصوبے ہیں۔
اِس لئے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم شیطان کی چالوں سے واقف ہوں، اُن کے خلاف ہوشیار رہیں اور پوری طاقت سے اُن کا مقابلہ کریں۔ تھامس بروکس کے مطابق، مسیح، بائبل مقدس، اپنے دِل اور شیطان کے حیلے وہ چار بنیادی چیزیں ہیں جن کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مطالعہ اور تحقیق کرنی چاہیے۔ جان کالون کے مطابق، بائبل مقدس میں جو کچھ بھی شیاطین کے بارے میں سکھایا گیا ہے، اس کا مقصد ہمیں ان کی چالوں اور منصوبوں کے خلاف ہوشیار کرنا اور ان ہتھیاروں سے خود کو مسلح کرنا ہے جو اتنے مضبوط اور طاقتور ہوں کہ ان سب سے طاقتور دشمنوں کو شکست دے سکیں۔
شیطان خدا کی مخالفت کرنے میں بے وقوف ہے لیکن وہ ایک انتہائی ذہین بے وقوف ہے۔دھوکہ دہی میں اُس کا کوئی ثانی نہیں کیونکہ وہ کئی قسم کے مختلف طریقوں سے صدیوں سے لوگوں کو دھوکہ دیتا آیا ہے ، اِس لئے اُس کے طریقےصدیوں سے ثابت شدہ ہیں۔ گرنل کے مطابق، کوئی اداکار اسٹیج پر اتنے ملبوسات نہیں بدلتا جتنے شیطان کے پاس بہکانے کے طریقے ہیں۔ مسیحی ایمانداروں کے مدد کے لئے کہ وہ شیطان کی حکمت عملی یعنی طریقوں پر غوروفکر کریں، چند اصولات درج ذیل ہیں۔
پہلا، شیطان ہم سے وعدہ کرتا ہے کہ خدا کی نافرمانی کرنے سے ہمیں خوشی حاصل ہوگی اور فرماں برداری کرنے سے ہماری زندگی برباد ہو جائے گی۔ اِسی حکمت عملی (طریقے) کے ذریعے، بے گناہ آدم اور حوا گناہ میں گرے (پیدائش 1:3–4)، باغ عدن سے نکالے گئے اور اِسی نافرمانی کی وجہ سے بہتیرے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ چارنک کے مطابق، شیطان خدا کو اپنے جیسا ہی حاسد اور بدنیت ظاہر کرتا ہے۔ وہ خود کو بھی خدا کی طرح بھلا ظاہر کرتا ہے اور ہمارے ایمان اور محبت میں خداوند کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اِس کا جواب خدا کی بھلائی اور اُس کے وعدوں کی سچائی پر یقین کرکے دینا چاہیے۔ بروکس کے مطابق، شیطان بہترین کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کے نتائج بدترین ہوتے ہیں۔ عزت کے بدلے رسوائی، سکھ کے بدلے دکھ اور درد، نفع کے بدلے نقصان اور زندگی کے بدلے موت۔لیکن خدا اپنے وعدوں کے مطابق دیتا ہے یعنی اُس کا کلام سونے کی مانند خالص اور بھروسے کے لائق ہے۔
دوسرا، شیطان ہماری سب سے بڑی کمزوری پر حملہ کرتا ہے۔ مثلاً پولس شادی شدہ جوڑوں کو خبردار کرتا ہے کہ جنسی تعلق سے اجتناب نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ غلبہ نفس کے سبب سے شیطان تم کو آزمائے (1 کرنتھیوں 5:7 )۔ ہماری کمزوریاں وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں۔ اسپرستوو کے مطابق، شیطان نوجوان مرد کو جنسی خواہش کے ذریعے، درمیانی عمر کے مرد کو عزت اور بڑا بننے کے لالچ کے ذریعے اور بوڑھے مرد کو حرص اور چڑچڑاہٹ کے ذریعے آزما سکتا ہے۔ اِس لئے، مسلسل جائزہ لیتے رہیں کہ آپ کے حالات کس طرح آپ کو شیطان کے حملے کے لیے کمزور بنا سکتے ہیں۔
تیسرا، شیطان ایک چھوٹے گناہ سے ہمارے دِل میں جگہ بنا کر ہمیں مزید گناہوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔ پولس حکم دیتا ہے، غصّہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔ اور اِبلِیس کو موقع نہ دو (افسیوں 26:4-27)۔ غصے کو اپنے دِل میں جگہ دینا گویا شیطان کو ہیڈکوارٹر دینا ہے جس سے وہ ہم پر مزید حملے کرسکے۔ دیگر گناہوں کے لئے بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ اسپرستوو نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے گناہ اُس ابتدائی تہہ کی مانند ہیں جو کسی ستون یا کھمبے پر مختلف رنگ استعمال کرنے سے پہلے لگائی جاتی ہے۔ اِس لئے، چھوٹی آزمائشوں کے خلاف بھی نبردآزما ہوں۔ اگر آپ سے گناہ سرزد ہوجائے تو اِس آزمائش پر غالب آنے کے لئے اپنی حفاظت کو دوگنا کریں تاکہ وہ گناہ دوبارہ سرزد نہ ہو اور فضل کے لئے مسلسل مسیح کی طرف دیکھتے رہیں۔
چوتھا، شیطان دنیاوی خواہشوں کو ہمارے دِل میں بھڑکانے کے ذریعے خدا کے ساتھ ہماری قربت کو خراب کرتا ہے۔ جیسے بلعام نے موآب کے لوگوں کو سکھایا کہ وہ اسرائیل کو جنسی خواہشات اور بتوں کے ذریعے خدا سے دور کریں (گنتی 1:25–2 اور 16:31)، اسی طرح شیطان بھی ہمیں دنیاوی چیزوں کی محبت سے بہکاتا ہے (2 پطرس 14:2–15, مکاشفہ 13:2–14)۔ وہ جائز چیزوں کا استعمال کر سکتا ہے کیونکہ اگر وہ ہمیں چیزوں سے لوگوں سے زیادہ اور کسی چیز سے زیادہ خدا سے محبت کرنے پر قائل کر سکے تو یہ اس کے لیے اسی طرح فائدہ مند ہے۔ کھانا، تفریح اور محنت میں کوئی برائی نہیں لیکن جیسا کہ اسپرستوو نے فرمایا، ان چیزوں کی خواہش گناہ بن جاتی ہے جب یہ حد سے زیادہ ہو اور کلامِ خدا کے اصول اور اجازت کے مطابق نہ ہو۔ رچرڈ گلپن (1625–1700ء) ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ دنیا اتنی خوش کن نہیں جتنی لوگ سمجھتے ہیں اور مالدار لوگ اکثر مشکلات میں پھنسے ہوتے ہیں۔ شیطان کوشش کرے گا کہ ہمیں زانی مرد اور زانیہ خواتین بنا کر خدا کی غیرت کو بھڑکائے لیکن خداوند ہمیں حکم دیتا ہے، پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور اِبلِیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔ خدا کے نزدِیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدِیک آئے گا (یعقوب 4:4–8)۔
پانچواں، شیطان ایمانداروں کو اُن خوفناک ظلم و ستم کے ذریعے ڈراتا ہے جو وہ بے ایمانوں کے ذریعے برپا کرتا ہے۔ وہ مسیحیوں کا شکار ایسے کرتا ہے جیسے گرجنے والا شیر ببر۔۔۔ کہ کِس کو پھاڑ کھائے (1 پطرس 8:5)۔ ہمیں اِس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ ہماری تمام مصیبتیں خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے پیش آتی ہیں اور اس کے سامنے فروتنی سے رہیں، اس کا انتظار کرتے ہوئے کہ وہ ہمیں وقت پر سر بلند کرے (آیت 6)۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ باپ کی محبت شیطان کی نفرت پر غالب آتی ہے اور اپنی ساری فِکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فِکر ہے (آیت 7)۔ لازم ہے کہ ہم ہوشیار اور بیدار رہیں تاکہ سمجھوتے سے بچیں بلکہ اِیمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جان کر اُس کا مقابلہ کریں کہ ہمارے بھائی جو دنیا میں ہیں اَیسے ہی دُکھ اُٹھا رہے ہیں (آیات 8–9)۔ ردرفورڈ لکھتا ہے کہ شیطان کی جنگ شیطان کے امن سے بہتر ہے۔۔۔جب کتے کو دروازے کے باہر رکھا جاتا ہے تو وہ دوبارہ اندر آنے کے لیے بھونکتا ہے۔ آخر کار، ہمیں اس امید پر قائم رہنا چاہیے کہ اب خدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے، جِس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لِئے بلایا تمہارے تھوڑی مدّت تک دُکھ اُٹھانے کے بعد آپ ہی تمہیں کامل اور قائِم اور مضبوط کرے گا ۔ ابدُالآباد اُسی کی سلطنت رہے۔ آمین (آیات 10–11)۔
چھٹا، شیطان ایک آزمائش کے ذریعے ہمیں غیر متوازن اور حد سے زیادہ گناہ آلودہ ردِعمل کی طرف دھکیلتا ہے۔ کلیسیا میں اگر کچھ لوگ توبہ نہ کریں تو یہ دوسروں کے لیے بھی گناہ کرنے کی آزمائش بن سکتا ہے (مکاشفہ 20:2)۔ لیکن جب کلیسیا ایسے لوگوں کی ضابطے سے تادیب کرتی ہے تو کبھی وہ دوسری جانب بھی غلطی کر دیتی ہے یعنی جب وہ شخص توبہ کر لے تو اسے معاف نہیں کرتی اور اس سے سختی برتتی ہے۔ یہ بھی شیطان کے حیلوں میں سے ایک ہے (2 کرنتھیوں 10:2–11)۔ اسی طرح شیطان ایمانداروں کو ایک جھولتے ہوئے پنڈولم کی طرح خود پسندی کے غرور سے گناہ پر مایوسی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ وہ انہیں کسی ایک بدعت کے خلاف زیادہ ردِعمل ظاہر کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے اور اس کے برعکس انتہاپسندی پر آمادہ کر سکتا ہے۔ اسپرستوو کے مطابق، کلام مقدس کے اصول کے مطابق خدا کے نزدیک جانا انتہاؤں سے بچنے کا طریقہ ہے۔
ساتواں، شیطان ہمیں مسیح کی پوری طرح پیروی کرنے سے روکنے کے لئے ہمارے بہن بھائیوں کی غلط صلاح اور مشورے کر استعمال کرکے ہماری حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ وہی پطرس جس نے الٰہی تنویر کے ذریعے اقرار کیا کہ یسوع مسیح ہے، اُسی نے یسوع کو ملامت کی اور اُسے صلیب کے راستے پر جانے سے منع کیا (متی 16:16–17 اور 21–22)۔ تب یسوع نے پِھر کر پطرس سے کہا اَے شیطان میرے سامنے سے دُور ہو۔ تو میرے لِئے ٹھوکر کا باعِث ہے کیونکہ تو خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمِیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے (آیت 23 )۔ اِس لئے ہمیں نیک صلاح پر ہی دھیان دینا چاہیے لیکن اگر کوئی بات بائبل مقدس کے خلاف ہو تو ہمیں اُس پر عمل نہیں کرنا چاہیے چاہے وہ کسی اچھے مسیحی کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔
آٹھواں، شیطان ہمیں ایسی آزمائشوں سے اچانک دوچار کر سکتا ہے جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ پطرس سمجھا تھا کہ وہ یسوع کے ساتھ قید ہونے بلکہ مرنے کو بھی تیار ہے لیکن اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ شیطان اُسے گیہوں کی طرح پھٹکے گا (لوقا 31:22 اور 33)۔ اگر آپ روحانی طور پر ترقی کر رہے ہیں تو خدا کا شکر ادا کریں لیکن جو کوئی اپنے آپ کو قائِم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے (1 کرنتھیوں 12:10)۔ اسپرستوو لکھتا ہے کہ اپنے آپ کو ہر گناہ کی طرف مائل سمجھیں، اپنی فطرت یا مزاج پر بھروسا نہ کریں بلکہ دانا مسیحیوں سے صلاح اور دعا کے طالب رہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم ایسی غیر معمولی آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کسی اور نے کبھی تجربہ نہ کیا ہو۔ پولس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تم کسی ایسی آزمایش میں نہیں پڑے جو اِنسان کی برداشت سے باہر ہو اور خدا سچاّ ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زِیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمایش کے ساتھ نِکلنے کی راہ بھی پیدا کر دے گا تاکہ تم برداشت کر سکو (1 کرنتھیوں 13:10)۔
نواں، شیطان اس لیے حکمت عملی کے تحت پیچھے ہٹتا ہے تاکہ دوبارہ حملہ کر سکے۔ مسیح شیطان کے تمام حیلوں پر غالب آیا۔ جب اِبلیس تمام آزمایشیں کر چکا تو کچھ عرصہ کے لِئے اُس سے جدا ہؤا (لوقا 13:4)۔ جب شیطان خاموش ہوتا ہے تو وہ دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ اِس لئے جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو (متی 41:26)۔ اِس لڑائی میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔اسپرستوو کے مطابق، یہ ایسی جنگ ہے جس میں کوئی توقف یا عارضی صلح نہیں۔ مسیحیوں کو ہمیشہ ایک ہاتھ سے خدا کی بادشاہی کے کام میں مصروف اور دوسرے ہاتھ کو روحانی جنگ کے لیے تیار رکھنا چاہیے (نحمیاہ 17:4)۔ اپنے آپ کو مضبوط سمجھ کر آزمائش کے ساتھ ایسے کھیلنا شروع نہ کریں جیسے وہ کوئی خوبصورت پالتو جانور ہو۔ اسپرستوو بیان کرتا ہے کہ گناہ کے مواقع میں قدم رکھنے اور آزمائش کی سرحدوں کے قریب جانے سےخبردار رہیں۔ .. . ہمارے دِل بارود کی مانند ہیں اِس لیے ہمیں چنگاریوں سے بچنا چاہیے۔
دسواں، شیطان جھوٹی دلیلوں کا استعمال کرتا ہے تاکہ ایماندار کے ضمیر کو خوف اور گناہ کے بوجھ تلے دبا دے۔ وہ الزام لگانے والا ہے (مکاشفہ 10:12) جو ہمیں گناہ کرنے پر اکساتا بھی ہے اور پھر جب ہم گناہ کر بیٹھتے ہیں تو ہمیں خدا کی شفقت سے مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ ہمیں اس منطق میں الجھا دیتا ہے کہ سچے مسیحی بعض گناہ نہیں کرتے لیکن چونکہ ہم نے وہ گناہ کیے ہیں، اس لیے ہم سچے مسیحی نہیں ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی گناہ انسان کو ریا کار نہیں بناتا سوائے اس گناہ کے جو اس پر غالب آ جائے (رومیوں 14:6)۔ ہمیں خدا کے لیے اپنی محبت کی سچائی کو اس کی شریعت کے سخت تقاضوں کی مکمل پابندی سے بھی نہیں پرکھنا چاہیے کیونکہ پھر کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا (زبور 3:130 اور 2:143)۔ اسپرستوو کے مطابق، ہمیں اپنی راست بازی پر اعتماد کی قوت پر بھروسہ نہیں رکھنا کہ یہ ہمیں خدا کے حضور امتحان سے بچا لے گی ۔ ہمیں اپنے گناہوں کا سچے دِل سے اقرار کرنا چاہیے اور مسیح پر بھروسا رکھنا چاہیے جو اپنے لوگوں کے لیے کامل کفارہ اور آسمانی شفیع ہے (1 یوحنا 9:1–2:2)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.