The following article, Risen from the Dead, was written by Rev. Marinus Schipper and originally published on the PRCA website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
مردوں میں سے جی اُٹھا
مصنف: پادری مارینس سخیپر
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
فرشتہ نے عورتوں سے کہا تم نہ ڈرو کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہؤا تھا۔ وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اٹھا ہے۔ آؤ یہ جگہ دیکھو جہاں خداوند پڑا تھا۔ اور جلد جا کر اُس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور دیکھو وہ تم سے پہلے گلیل کو جاتا ہے۔ وہاں تم اُسے دیکھو گے۔ دیکھو میں نے تم سے کہہ دِیا ہے (متی 5:28-7)۔
یہ عید قیامت المسیح کا پہلا پیغام ہے جو آسمان کے ایک فرشتے کی طرف سے عورتوں کو سنایا گیا۔
ان عورتوں کی شناخت میں مدد کے لیے اناجیل کا موازنہ مفید ہے کیونکہ یہ وہ پہلی خواتین تھیں جنہوں نے سب سے پہلے اِس خوشخبری کو سنا کہ خداوند مردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔
سب سے پہلے ذِکر کیا گیا ہے مریم مگدلینی کا جس میں سے یسوع نے سات بدروحیں نکالی تھیں۔ وہ اُن عورتوں میں شامل تھی جو صبح سویرے مصلوب اور بظاہر مردہ مسیح کے لئے آخری رسومات ادا کرنے قبر پر آئیں۔ اور آپس میں کہتی تھیں کہ ہمارے لئے پتھر کو قبر کے منہ پر سے کون لڑھکائے گا۔ مگر جب وہ قبر کے قریب پہنچیں تو صبح کی مدھم روشنی میں اُنہوں نے دیکھا کہ پتھر پہلے ہی لڑھکا ہؤا ہے۔ یوحنا کی انجیل کے مطابق، مریم نے غالباً یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی پہلے ہی آ کر لاش کو اُٹھا لے گیا ہے۔ چناں چہ، وہ پطرس اور یوحنا کو اِس کی خبر دینے چلی گئی، اِس لیے وہ اُن عورتوں میں شامل نہ تھی جن سے فرشتے نے بات کی۔
اِس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اُن عورتوں میں مریم ( کلوپاس کی بیوی اور یعقوب اور یوسیس کی ماں جو غالباً یسوع کی ماں مریم کی بہن تھی)، سلومی (زبدی کی بیوی اور یعقوب اور یوحنا کی ماں) اور یوانہ (ہیرودیس کے دِیوان خوزہ کی بیوی) شامل تھیں۔ مرقس کے مطابق، اور بھی بہت سی عورتیں تھیں جو گلیل سے یروشلیم تک یسوع کے ساتھ آئی تھیں اور اُس کے مصلوب ہونے کی گواہ تھیں۔
یہ سب وہ عورتیں تھیں جنہوں نے یسوع کی زمینی خدمت کے دوران میں اُس کی ضروریات کا خیال رکھا، تصلیب کے وقت وہاں موجود تھیں اور جمعہ کے دِن یوسف اور نیکدیمس کے ساتھ اُس کے جسم کو قبر تک لے جاتے دیکھا۔
وہ سبت کے بعد اتوار کو صبح سویرے آئیں تاکہ تدفین کے عمل کو مکمل کریں۔ اُن کے دِل غم سے بھرے ہوئے تھے اور وہ ایک مصلوب اور مردہ خداوند کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے آئی تھیں۔
یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مرد کہاں تھے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ بارہ رسولوں میں سے صرف یوحنا ہی کا ذکر ملتا ہے جو یسوع کی مصلوبیت کے وقت موجود تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ مسیح کی موت کے ساتھ اُن کی تمام امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔ اماؤس کے مسافروں میں سے ایک کلیپاس کے الفاظ شاید اُن کے دِل کی حالت بیان کرتے ہیں، یسوع ناصری کا ماجرا جو خدا اور ساری اُمت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا۔ اور سردار کاہنوں اور ہمارے حاکموں نے اُس کو پکڑوا دِیا تاکہ اُس پر قتل کا حکم دِیا جائے اور اُسے مصلوب کیا۔ لیکن ہم کو اُمید تھی کہ اسرائیل کو مخلصی یہی دے گا۔۔۔
پطرس کی غیرموجودگی کی وجہ قابل فہم ہے۔ اُس کا ضمیر اُسے ملامت کررہا تھا کہ جس لمحے اُسے خداوند کا اقرار کرنا چاہیے تھا اُس نے اُس کا انکار کیا۔ لیکن وہ اپنے گھر پر اِس سب پر پچھتا رہا تھا کیونکہ ہم اُسے صلیب کے پاس نہیں دیکھتے اور ہی نہ مسیح کی قبر پر روتے ہوئے۔
یوں، مردوں کی بجائے، یہ عورتیں ہی تھیں جو سب سے پہلے اُس قبر پر آئیں جو کہ اب خالی تھی۔
اُنہیں ایک فرشتہ ملتا ہے جس نے پتھر کو لڑھکا دیا تھا اور اُس پر بیٹھا ہوا تھا۔
لوقا ہمیں بتاتا ہے کہ عورتوں نے قبر کے اندر جا کر خداوند یسوع کی لاش نہ پائی۔ اور ایسا ہوا کہ جب وہ اِس بات سے حیران تھیں تو دیکھو دو شخص براق پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہوئے۔ جب وہ ڈر گئیں اور اپنے سر زمین پر جھکائے تو فرشتے اُن سے گویا ہوئے۔
اِس مضمون کے کلیدی حوالہ میں ایک فرشتے کا ذکر ہے مگر اس میں کوئی تضاد نہیں۔ کیونکہ بات کرنے والا ایک ہی تھا چاہے ہزار فرشتے ہوں یا صرف ایک۔ اصل زور فرشتوں پر نہیں بلکہ اِس حقیقت پر ہے خدا اپنے برگزیدوں کے لئے آسمان سے ایک پیغام بھیجتا ہے جس کو پہنچانے کے لئے فرشتے مددگار روحوں کے طور پر مقرر ہیں۔ یہ انتہائی اہم پیغام تھا تاکہ مخلصی کی انجیل کی بنیاد بنے جسے اب نجات یافتہ کلیسیا کو دنیا بھر میں پہنچانا ضروری ہے۔ مسیح کے جی اُٹھنے میں موت مغلوب ہو گئی اور اُس کے جی اٹھنے سے ہمیں تصدیق حاصل ہوتی ہے کہ ہم خدا کے سامنے راستباز ٹھہرائے گئے ہیں۔
پریشان اور خوف زدہ عورتوں کے لئے یہ ایک شاندار پیغام ہے۔
کون اُن کے خوف کی وجہ سمجھ نہیں پائے گا؟ سب سے پہلے، وہ لڑھکا ہوا پتھر۔ جس مردہ جسم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وہ عورتیں قبر پر آئی تھیں، وہ موجود نہیں تھا جس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے جو مریم نے اخذ کیا کہ کوئی آ کر اس جسم کو لے گیا ہے۔ ایسے خوف کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ دوسرا، جب انہوں نے اس کا جسم نہیں دیکھا تو اُن کا خوف اور بھی بڑھ گیا۔ اور تیسری بات، یہ خوف اپنی انتہا کو پہنچا جب اُن کا سامنا آسمان کی بلندیوں سے اُتری ہوئی جلالی مخلوق سے ہؤا۔
انہیں ایک ایسے پیغام کی ضرورت ہے جو اُن کے سارے خوف کو ختم کرے۔
تم نہ ڈرو کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔
وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اُٹھا ہے۔
یہ واقعی ہی شاندار پیغام ہے اور بڑی خوشی کا سبب۔
میں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ جسے اُنہوں نے لعنتی لکڑی پر مصلوب کیا۔ جسے تم نے درد سے تڑپتے دیکھا نہ صرف اُس اذیت سے جو اُسے شریروں کے ہاتھ سے پہنچی بلکہ خاص طور پر جو خدا سے پہنچی جب اُس نے پکارا کہ اُسے خدا نے چھوڑ دِیا۔ وہی یسوع جسے تم نے صلیب پر مرتے ہوئے دیکھا اور جب اُس نے جان لیا کہ اب سب باتیں تمام ہوئیں اور اُس نے نجات کا کام مکمل کر لیا تو اپنی روح کو باپ کے سپرد کیا جس نے اُسے دِیا تھا۔ وہی یسوع جس نے کوئی برائی نہ کی اور نہ وہ کوئی فریبی تھا لیکن پھر بھی اسے سب سے بدترین مجرم کے طور پر سمجھا گیا اور ساری دنیا کی نظروں کے سامنے اُسے سزائے موت دی گئی۔
میں جانتا ہوں کہ تم کسے ڈھونڈتی ہو۔
لیکن وہ یہاں نہیں ہے۔
قبر اُسے روک نہ سکی۔ وہ اب موت اور تاریکی کی جگہ میں نہیں ہے جہاں کمزور، فانی اور جسمانی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔
وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اُٹھا ہے۔
تیسرے دِن ، سبت کے بعد ہفتہ کے پہلے دِن پو پھٹے وقت تمہارے یہاں پہنچنے سے پہلے ایک بڑا بھونچال آیا جس سے چٹانیں تڑک گئیں اور زندگی کے شہزادے نے موت کی زنجیروں کو توڑ دیا اور جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہؤا۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اُس نے تم سے کہا تھا کہ وہ تیسرے دِن جی اُٹھے گا؟ درحقیقت، یہ تیسرا دِن ہے۔ کیونکہ ایک دِن وہ تھا جو صلیب پر اُس کی درد ناک موت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور ایک اور وہ دِن تھا جس میں وہ قبر کی تاریکی میں رہا اور اب، آج، تیسرا دن ہے اور وہ اپنے کہنے کے مطابق جی اُٹھا ہے۔
تم نہ ڈرو۔ اُس کے دشمن ڈریں۔
اور، دیکھو، وہ کس قدر ڈرے ہوئے تھے۔ اُنہیں یاد تھا کہ اُس نے کہا تھا کہ وہ جی اُٹھے گا۔ اِس لئے اُنہوں نے قبر کو محفوظ کرنے کی کوشش کی اور قبر پر پیلاطس کی مہر اور محافظوں کی درخواست کی تاکہ یہ ناممکن ہو جائے کہ یہ خبر پھیل جائے کہ وہ جی اُٹھا ہے۔ جب قبر کے نگہبانوں نے اُس فرشتے کو دیکھا جو قبر کے پتھر کو لڑھکانے اور مسیح کے جی اُٹھنے کی خوشخبری دینے آیا تو اُس کے ڈر سے نگہبان کانپ اٹھے اور مردہ سے ہوگئے۔ تاریکی کی وہ قوت جس نے خداوند کو مصلوب کیا تھا اور اگر موقع ملے تو پھر ایسا کرے، اُس کی قیامت یعنی جی اُٹھنے کی تعلیم سے نفرت کرتی ہے جیسے وہ زندہ خداوند سے نفرت کرتی ہے اور یہ جھوٹی کہانی گھڑتی ہے کہ رات کو جب قبر کے محافظ سو رہے تھے اُس کے شاگرد آکر اُسے چرا لے گئے۔ دنیا خوف زدہ ہے۔ وہ خوف جس کی کوئی انتہا نہیں اُس وقت پھر ظاہر ہوگا جب زندہ اور جلالی خداوند آسمان کے بادلوں پر ظاہر ہوگا اور لوگ پہاڑوں اور چٹانوں سے کہیں گے کہ وہ اُن پر گر جائیں تاکہ وہ اُس کے چہرے سے چھپ جائیں جس کا اُنہیں سامنا کرنا ہے۔
لیکن تم نہ ڈرو۔
کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔
دیکھو، درحقیقت، اگر تم ایک مردہ یسوع کو ڈھونڈتی ہو تو یہ تلاش غلط سمت میں ہے اور بے فائدہ ہے۔ مگر اگر تم مصلوب ہوئے مسیح کو ڈھونڈتی ہو تو یہ درست اور فائدہ مند ہے۔ پھر خوشی منانے کی بکثرت وجہ موجود ہے۔ جو مصلوب مسیح کے طالب ہوتے ہیں وہ جی اُٹھے خداوند کو پاتے ہیں۔ جی اُٹھے ہوئے خداوند کو پانے کے لئے مصلوب ہوئے مسیح کا طالب ہونا ضروری ہے۔ نہ کہ کسی عالی ظرف، ہوشیار اُستاد، کسی کامل نمونہ یا بڑے رہنما کے۔ بلکہ ایک درمیانی اور نجات دہندہ کا جو اپنا خون بہاتا ہے اور ہمارے گناہوں کا کفارہ دیتا ہے اور ہمارے قصوروں کی قیمت کے بدلے لعنتی درخت یعنی صلیب پر خدا کے غضب کو ٹھنڈا کرکے اُس کے عدل کو پورا کرتا ہے۔
جو سچے دِل سے مصلوب ہوئے مسیح کے طالب ہوتے ہیں، وہ یقیناً دیکھیں گے کہ وہ خدا کے حضور اُن کے راست باز ٹھہرائے جانے پر مہر کے طور پر مردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔
شاندار پیغام اور اطمینان بخش دعوت کہ آؤ یہ جگہ دیکھو جہاں خداوند پڑا تھا۔ آؤ اور اُس حقیقت کے تمام شواہد دیکھو کہ خداوند واقعی جی اُٹھا ہے۔
یقینی طور، پہلی بات کہ قبر خالی ہے۔ وہ یہاں نہیں ہے۔ اِس لئے نہیں کہ جس بات سے تم خوف زدہ ہو کہ کوئی اُس کے جسم کو اُٹھا یا چرا لے گیا بلکہ اِس لئے کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق جی اُٹھا ہے۔
لیکن دوسری بات، آؤ یہ جگہ دیکھو جہاں خداوند پڑا تھا۔ صرف وہ جگہ نہیں جس پر اُس کا نحیف بدن رکھا گیا تھا جسے تم نے جمعہ کے روز دیکھا ۔ سوتی کپڑے پڑے ہیں اور رومال جو اُس کے سر سے بندھا ہوا تھا سوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لپٹا ہوا ایک جگہ پڑا ہے۔ خداوند کو قبر سے باہر نکلنے کے لئے کسی کی ضرورت نہیں تھی کہ کوئی پتھر لڑھکائے اور نہ ہی کپڑوں سے آزاد ہونے کے لئے۔
قیامت یعنی جی اُٹھنا، واقعی ایک عجوبہ ہے۔
اور اس سب کا کمال یہ ہے کہ جی اُٹھنا یعنی قیامت واپسی نہیں بلکہ آگے بڑھنا ہے۔ یہ زمینی یا دنیاوی زندگی میں واپسی نہیں بلکہ آسمان کی شاندار زندگی کی طرف صعود ہے۔
مبارک تسلی اور پرمسرت حکم، اور جلد جا کر اُس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور دیکھو وہ تم سے پہلے گلیل کو جاتا ہے۔ وہاں تم اُسے دیکھو گے۔ دیکھو میں نے تم سے کہہ دِیا ہے۔
جو اُس کے جی اُٹھنے کے گواہ ہوں گے، وہی شاگردوں تک یہ خبر پہنچائیں گے تاکہ وہ بھی یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچا سکیں۔ اور یہ ثبوت صرف اُن کے الفاظ پر نہیں بلکہ اس حقیقت پر مبنی ہوگا کہ وہ اپنی آنکھوں سے خود اسے دیکھیں گے جیسا کہ اُس نے وعدہ کیا تھا۔
عورتوں کے لئے پرمسرت حکم کیونکہ وہ خوف اور بڑی خوشی کے ساتھ قبر سے جلد روانہ ہو کر اُس کے شاگردوں کو خبر دینے دوڑیں۔
اِسی طرح، مسیح کی کلیسیا کے لئے پر مسرت حکم جو اِس خوش خبری کے پیغام کو اب پوری دنیا میں پہنچا سکتی ہے۔
مصلوب ہوا نجات دہندہ اب جی اُٹھا خداوند ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.