Chapter 1.2: The Christian Life by John Calvin

Chapter 1: Scriptural Arguments Exhorting Us to Holiness
Connection between the Christian Life and the Doctrine of Regeneration and Repentance
2. We must be holy because God is holy and He dwells among us.

The following is an Urdu translation of the booklet The Christian Life by John Calvin. The contents of this booklet are taken from chapters 6–10 of Book 3 of Calvin’s Institutes (Henry Beveridge translation, 1845 edition). Since their first publication, these chapters have been printed separately numerous times and in various languages.

The translation has been updated for clarity, with modernized language, revised sentences, and added section headings by Rev. John Marcus of the PRCA. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq of the Reformed Church of Pakistan.

Although Calvin lived in circumstances very different from ours today, the lessons he teaches are Scriptural and always timely.

May the Lord be pleased to bless these words to the hearts of His people.

مسیحی زِندگی

مصنف: جان کالون

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

پہلا باب: پاکیزگی کی ترغیب دینے والے بائبلی دلائل

مسیحی زندگی اور نئی پیدایش و توبہ کے درمیان تعلق

٢۔ لازم ہے کہ ہم پاک ہوں کیونکہ خدا پاک ہے اور ہمارے درمیان رہتا ہے۔

جس بائبلی طریقہ کی ہم بات کر رہے ہیں اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔پہلا مقصد راست بازی سے محبت ہے جس کی طرف ہم فطری طور پر مائل نہیں ہوتے، ہمارے دِل و دماغ میں ڈال دی جائے اور مضبوط کی جائے۔ دوسری یہ ہے (دیکھیں باب 2) کہ ایک ایسا اصول مقرر کیا جائے جو ہمیں راست بازی کی تلاش میں گمراہ ہونے سے بچائے۔ اس میں راست بازی کی ترغیب دینے کے کئی قابل تعریف طریقے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے طریقے اس کتاب کے مختلف حصوں میں پہلے ہی بیان کئے جا چکے ہیں لیکن ہم یہاں بھی اُن میں سے کچھ کا مختصر ذکر کریں گے۔ اس کا آغاز کس بہتر بنیاد پر ہوسکتا ہے، اِس بات کی یاد دہانی سے کہ لازم ہے کہ ہم پاک ہوں کیونکہ خدا پاک ہے (احبار 1:19، 1 پطرس 16:1)؟ جب ہم کھوئی ہوئی بھیڑ کی طرح پراگندہ تھے اور دنیا کی بھول بھلیاں میں بھٹک رہے تھے، خدا ہمیں دوبارہ اپنے گلہ میں واپس لے آیا۔

جب خدا کے ساتھ ہمارے متحد ہونے کی بات کی جائے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکیزگی ہمارے اس اتحاد کا بندھن ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پاکیزگی کی اہلیت کی بدولت اُس کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہیں۔بلکہ اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے اُسی سے جڑیں تاکہ اس کی پاکیزگی سے معمور ہو کر ہم اس کے بلاوے کے مطابق چل سکیں۔ضرور ہے کہ پاکیزگی ہماری یگانگت کابندھن ہو کیونکہ یہ اس کے جلال کے لیے بہت اہم ہے کہ وہ برائی اور ناپاکی کے ساتھ کسی تعلق میں نہ ہو۔ اِس لیے وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہی ہمارے بلائے جانے کا مقصد ہے اور اِسے ہی ہمیشہ ہمیں ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے اگر ہم خدا کے بلاوے کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں اس دنیا کی بدکاری اور نجاست سے بچایا گیا جس میں ہم ڈوب چکے تھے تو آخر کس مقصد کے لیے، اگر ہم اپنی پوری زندگی انہی میں ڈوبے رہیں؟

مزید برآں، اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ہمارا شمار خداوند کی قوم کے طور پر کیا جائے تو ہمیں مقدس شہر یروشلیم میں رہنا چاہیے جو خدا نے اپنے لیے مقدس کیا ہے اور اُس کے باشندوں کے لئے یہ ناپسندیدہ ہوگا کہ وہ اُسے نجاست سے ناپاک کریں ۔ اِس لئے اِسے اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا ہے (زبور 1:15–2 اور 3:24–4)۔ کیونکہ وہ مقدس مقام جہاں خدا رہتا ہے، یقیناً جانوروں کے طویلے کی طرح ایک ناپاک جگہ نہیں ہو سکتی۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Comment