The Word of God and the Glory of God

Reading Time: 3 minutes

This excerpt is taken from Reformed Systematic Theology, Volume 1: Revelation and God by Joel R. Beeke and Paul Smalley, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

خدا کا کلام اور خدا کا جلال

مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی

مترجم: ارسلان الحق

خدا کا کلام خدا کے جلال کو خدا کی عبادت کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ اُس کے احکام کا مقصد یہ ہے کہ ہم خداوند اپنے خدا کا خوف مانیں (استثنا 2:6)۔ شریعت پر غور و فکر اُس کے مقدسوں کو راست شریعت دینے والے اور نجات دہندہ کی حمد وستایش کی ترغیب دیتا ہے (زبور 7:119، 54، 62، 164 اور 171)۔ جب حلیموں کو خوش خبری سنائی جاتی ہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے (یسعیاہ 1:61–3)۔ یسوع مسیح نے جو سچی تعلیم دی وہ اُس کی اپنی نہیں تھی بلکہ اُس خدا کی طرف سے تھی جس نے اُسے بھیجا تھا۔ مسیح کا مقصد یہ تھا کہ وہ اُس کے جلال کو ظاہر کرے جس نے اُسے بھیجا (یوحنا 16:7–18)۔ مسیح کا کام یہ تھا کہ زمین پر خدا کو جلال دے جیسے اُس نے خدا کے نام اور کلام کو اُس کے لوگوں پر ظاہر کیا (4:17- 6)۔ اِسی لیے کلیسیا کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ قوموں میں اُس کے جلال کا۔ سب قوموں میں اُس کے عجائب کا بیان کرے۔ کیونکہ خداوند بزرگ اورنہایت ستایش کے لائق ہے۔ وہ سب معبودوں سے زیادہ تعظیم کے لائق ہے (زبور 3:96–4)۔

روح القدس ہمارے دِل و دماغ کو روشن کرتا ہے تاکہ ہم خدا کے کلام میں خدا کے حیرت انگیز جلال کو دیکھ سکیں (زبور 18:119)۔ خدا کے جلال کے علم کا نور جو یسوع مسیح کے ذریعے ظاہر ہوا، ہمارے تاریک دِلوں میں چمک اُٹھتا ہے (2 کرنتھیوں 6:4)۔ جب ہم اُس کے جلال کو دیکھتے ہیں تو پھر ہم اُسے جلال دیتے ہیں۔ خدا کی تمجید ایمان سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہم خدا کے وعدوں پر ایمان میں مضبوط ہوتے ہیں تو ہم خدا کو جلال دیتے ہیں (رومیوں 20:4)۔ جو کچھ خداوند نے ظاہر کیا ہے اُس پر ایمان لا کر اور یہ جان کر کہ اُسی نے اپنے کو پورا کر کے اپنے لوگوں کو نجات دی ہے، ہم خوشی مناتے اور خدا کی مدح سرائی کرتے ہیں اور تمام اہل زمین کو اپنے ساتھ گانے کی دعوت دیتے ہیں (زبور 1:98–4)۔

اسی وجہ سے موثر بلاوے پر غوروفکر ہمیں علم الٰہی کی روحانی حقیقت کی طرف واپس لے آتا ہے۔ ولیم ایمز کے مطابق، الٰہیات خدا کے لئے زندگی گذارنے کی تعلیم ہے۔ ۔۔ انسان تب خدا کے لئے زندگی گذارتے ہیں جب وہ اُس کی مرضی کے مطابق، اُس کےجلال کے لئے اور اِس یقین کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں کہ خدا اُن کی زندگی میں کام کررہا ہے۔ جان اوون کے مطابق، حقیقی علم الٰہی کا بنیادی اور حتمی مقصد خدا کی حمد اور گناہ گاروں کی ابدی نجات میں اُس کے جلال اور فضل کا اعلان کرنا ہے۔

اگرچہ ہم ابھی خدا کے جلال کے مکمل ظاہر ہونے کے منتظر ہیں پھر بھی ہم ابھی سے اُس کی حمد کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ مسیح کی فتح یقینی ہے۔ خدا کا کلام وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے خدا اپنی قوم کو نجات دے کر اپنے جلال کو ظاہر کرے گا (یسعیاہ 10:55–13)۔ چاہے ہمیں جو اُس کی منادی کرتے ہیں قید کرلیا جائے یا خاموش کرا دیا جائے، خدا کے کلام کو قید یا خاموش نہیں کیا جا سکتا (2 تیمتھیس 9:2)۔ جان کالون نے فرانس کے بادشاہ کو لکھا کہ درحقیقت، ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔۔۔ کہ ہم کس قدر کمزور اور حقیر انسان ہیں۔۔۔لیکن لازم ہے کہ وہ تعلیم جس کی ہم منادی کرتے ہیں دنیا کی ساری شان و شوکت اور ہر طاقت سے بلند اور ناقابل مغلوب رہے کیونکہ یہ ہماری اپنی نہیں بلکہ زندہ خدا اور اُس کے مسیح کی طرف سے ہے جسے باپ نے مقرر کیا کہ اُس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریاؤں سے زمین کی انتہا تک ہو (زبور 8:72)۔ خداوند کا کلام ناکام نہیں ہو سکتا اور اِس لیے مسیح ناکام نہیں ہو سکتا اور یہی ہماری سب سے بڑی اُمید ہے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply