Day 1 – Jesus is God: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
Contrary to what many believe today, neither the truth that Jesus is both really God and really man nor the way that he views the people on this earth are ideas that you can simply form your own opinion on. These truths are clearly taught in the pages of Scripture and are “profitable for doctrine, for reproof, for correction, for instruction in righteousness” (2 Tim. 3:16).
So who is Jesus? John’s inspired gospel account of our Savior’s ministry will help you answer this question biblically, and it will also help you understand just how important the answer to your question is. When you fall into sin or are tempted to sin or when you suffer hardship and loss, there is great comfort in knowing who Jesus is—the Lamb of God who takes away the sin of the world.
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنف: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
پہلا دِن: یسوع خدا ہے
ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہواہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی (یوحنا 1:1-3)۔
مرقس کی انجیل کا آغاز یسوع کی زمینی خدمت سے ہوتا ہے۔لوقا کی انجیل کا آغاز یسوع کی پیدائش سے ہوتا ہے۔ یسوع کی پیدائش سے پہلے اُس کا نسب نامہ شامل کر کے متی اِس سے بھی پہلے کی بات کرتاہے۔لیکن یوحنا کی انجیل کے ابتدائی الفاظ کہانی کے بالکل آغاز کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ پیدائش 1:1 کی طرف لے جاتا ہے کہ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا ۔پھر یوحنا ہمیں اس سے بھی پیچھے لے جاتا ہے یعنی ازل میں تاکہ واضح کرے کہ خدا بیٹا نہ صرف تخلیق کے وقت موجود تھا بلکہ وہ ہمیشہ سے موجود تھا یعنی وقت کے آغاز سے بھی پہلے۔
تثلیث کے دوسرے اقنوم کا وجود اُس وقت شروع نہیں ہوا جب وہ اِس زمین پر مجسم ہوا۔خدا بیٹا ہمیشہ سے خدا باپ اورخدا روح القدس کے ساتھ رفاقت میں شریک تھا۔بطور کلام، خدائے ثالوث کا ظاہری مکاشفہ، کائنات کی تخلیق میں سرگرم عمل تھا ۔سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے اور اُسی کے واسطے پیدا ہوئی ہیں۔وہ آج بھی تمام چیزوں کو سنبھالتا اور قائم رکھتا ہے (کلسیوں 13:1-18)۔ اپنی انجیل کے بالکل آغاز ہی سے یوحنا اپنا مرکزی نکتہ واضح کرتا ہے کہ یسوع خدا ہے۔
یوحنا کی انجیل کے پہلے قارئین درحقیقت پہلی صدی کے یہودی اور غیر قوم لوگ تھے جو گریکو رومن یعنی یونانی رومی ثقافت اور اُس کے گرد و نواح سے تعلق رکھتے تھے۔ یوحنا کے اِس مضبوط دعوے پر کہ یسوع خدا ہے اُن کے ردعمل مختلف تھے۔ایمان نہ لانے والے یہودیوں نے یوحنا کے اس دعوے کو کفر سمجھا۔کئی ایمان نہ لانے والے غیر قوم لوگ جو بہت سے دیوتاؤں کے تصور کے حامی تھے، انہوں نے اپنی فہرست میں یسوع کو محض ایک اور خدا کے طور پر شامل کر لیا۔لیکن جنہوں نے حقیقی ایمان پایا، چاہے یہودی ہوں یا غیر قوم ، وہ یسوع کی الوہیت کی سچائی پر ایمان لائے اور اُسے قبول کیا۔آج بھی اس بات کی حقیقت پر مختلف ردِعمل پائے جاتے ہیں کہ یسوع کون ہے ۔کچھ لوگ واضح طور پر انکار کرتے ہیں کہ یسوع کا کوئی وجودبھی ہے۔بعض اُسے محض ایک اچھا انسان سمجھتے ہیں جس نے برسوں پہلے زمین پر زندگی گذاری یا ایک عظیم اخلاقی استاد کے۔بعض لوگ یہ تسلیم تو کر سکتے ہیں کہ یسوع آسمان سے اُترا لیکن وہ اپنی زندگی میں اس کی تعلیم کے اختیار کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔لیکن یہ حوالہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یسوع خدا سے کسی طور بھی کم ترنہیں ہے۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ آپ کیا ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع کون ہے؟
٢۔ یسوع کے بارے میں آپ کا ایمان اور عقیدہ اس بات پر کس طرح اثر انداز ہوگا کہ آپ یوحنا کی انجیل میں اُس کی تعلیمات کو کیسے سمجھیں اور اُن پر کیسے عمل کریں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ یہ حوالہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہمارا خداوند یسوع انسانوں کی طرح وقت کی قید میں نہیں ہے۔ اُس کے ازلی و ابدی ہونے کے لیے اُس کی تمجید کریں۔
٢۔ آپ کس طرح اپنے ذہن میں خدا کی ہستی کو اس طرح محدود کر دیتے ہیں کہ آپ کا تصور اُس کے بارے میں بائبل مقدس میں بیان کردہ حقیقت سے کم تر ہے؟ یہ خدا کے بارے میں ایک گناہ آلود سوچ ہے۔ اِس گناہ کا اقرار کریں۔
٣۔ تخلیق کی مسلسل دیکھ بھال اور اُس پر اُس کی حکمرانی کے لئے اپنے آسمانی باپ کا شکرادا کریں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.