Day 13 – God Knows Your Heart: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
تیرہواں دِن: خدا آپ کے دِل سے واقف ہے
جب وہ یروشلیم میں فسح کے وقت عید میں تھا تو بہت سے لوگ اُن معجزوں کو دیکھ کر جو وہ دِکھا تا تھا اُس کے نام پرایمان لائے۔ لیکن یسوع اپنی نسبت اُن پر اعتبار نہ کرتا تھا اِس لئے کہ وہ سب کو جانتا تھا۔ اور اِس کی حاجت نہ رکھتا تھا کہ کوئی انسان کے حق میں گواہی دے کیونکہ وہ آ پ جانتا تھاکہ انسان کے دِل میں کیا کیاہے (یوحنا 2: 23- 25)۔
یسوع کے حیرت انگیز معجزات نے بہت سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جو اُس نے فسح کے ہفتے میں یروشلیم میں کئے تھے ۔ظاہری طور پر یسوع کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔اُن میں سے اکثر لوگ ایمان رکھتے تھے کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جسے خدا کی طرف سے بڑا اختیار ملا ہے۔لیکن وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ یسوع واقعی خدا کا بیٹا ہے۔یسوع نے بھیڑ کی اس قسم کی توجہ سے دھوکہ نہیں کھایاکیونکہ وہ جانتا تھا کہ انسان کے دِل میں کیا کیا ہے (آیت 25)۔
یوحنا نے اِن آیات میں ایک ہی یونانی لفظ دہرایا ہے تاکہ یہ بات واضح ہو کہ اگرچہ یہ بھیڑ یسوع پر ایمان لائی لیکن یسوع نے ان پریقین یا اعتبار نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُن کا ایمان حقیقی نہیں ۔وہ بھیڑ کے ساتھ نہ تو وقت ضائع کرتااور نہ اُن کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ان کی دلچسپی صرف ظاہری تھی ۔یسوع جانتا تھا کہ اُن کے دِل تبدیل نہیں ہوئے ۔یہ علم یسوع کی الوہیت کا ایک اور ثبوت ہے کیونکہ صرف خدا ہی سب کچھ جاننے پر قادر ہے۔ خدا کی یہ صفت ہمہ دانی یا علمِ کل کہلاتی ہے یعنی اُسے سب چیزوں کا مکمل علم ہے۔
جب ہم یوحنا کی انجیل کے پہلے باب میں نتن ایل کی تبدیلی کی کہانی پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے ہمہ دان یعنی علمِ کل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے بارے میں ہر چیز جانتا ہے۔ یہ حوالہ یہ بھی واضح کر تا ہے کہ وہ ہمارے دِل کی اصل حالت سے بھی واقف ہے۔خدا ہماری جھوٹی اور ظاہری عبادت کے بارے میں بھی جانتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق ہمارے دِل کے پوشیدہ راز بھی اُس سے کبھی پوشیدہ نہیں ہیں۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہم اپنے کو نسے گناہوں کے بارے میں خود سے جھوٹ بولتے ہیں یا جنہیں ہم دوسروں سے چھپاتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ ہمارے دِل کے ارادے آسمانی باپ کو پوری طرح معلوم ہیں، ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ گناہ کو چھپانا ناممکن ہے چاہے دوسرے لوگ اُس کے بارے میں نہ جانتے ہوں۔ ہمیں اپنے تمام گناہوں کا اقرار کرنے اوراُن سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن وہ جو سب انسانوں کے دِل کے ارادے سے واقف ہے، وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ کیا اُس کے لوگوں کے دِل روح القدس کے وسیلہ سے تبدیل ہو چکے ہیں یعنی وہ روحانی طور پر نئے سرے سے پیدا ہوچکے ہیں۔وہ ہمارا ہر ایک گناہ معاف کرنے میں نہایت مہربان ہے کیونکہ مسیح نے صلیب پر ہمارے لئے اپنی جان قربان کی ہے۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ گناہ کر کے بھی محفوظ رہ رہے ہیں، صرف اس لئے کہ آپ نے اُسے دوسروں کی نظروں سے چھپا کر رکھا ہے؟
٢۔ جب آپ سوچتے ہیں کہ خدا آپ کے دِل سے واقف ہے تو یہ آپ کے گناہ کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو کیسے بدل دیتا ہے؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خداوند کی حمد کریں کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
٢۔ کسی ایسا گناہ کا اقرار کریں جسے آپ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
٣۔ درخواست کریں کہ خدا آپ کی یہ دعا سن لے جو زبور 139: 23- 24 میں لکھی ہے اے خدا! تو مجھے جانچ اور میرے دِل کو پہچان ۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے۔ اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بری روش تو نہیں اور مجھ کو ابدی راہ میں لے چل۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.