Day 14 – Transformed into True Citizens: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
چودھواں دِن: حقیقی شہری بننا
فریسیوں میں سے ایک شخص نیکدیمس نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔ اُس نے رات کو یسوع کے پاس آکر اُس سے کہا اے ربی ہم جانتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے استاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تو دِکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دِکھا سکتا جب تک خدا اُس کے ساتھ نہ ہو ۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔ نیکدیمس نے اُس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہو گیا تو کیوں کر پیدا ہو سکتاہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہوسکتا ہے؟ یسوع نے جواب دیاکہ میں تجھ سے سچ کہتاہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے (یوحنا 3: 1-6)۔
یوحنا کی انجیل کا تیسرا باب ہمیں نیکدیمس سے متعارف کرواتا ہے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ وہ فریسی تھا اور یہودیوں کا ایک بااثر رہنما تھا۔ وہ سنہیڈرن (یہودی مذہبی عدالت) کا رکن اور ایک مثالی یہودی بھی تھا۔ اپنی فریسی تربیت کی بدولت وہ پرانے عہد نامے کو اچھی طرح جانتا تھا اور یہودی عوام کو اِس کی تعلیم بھی دیتا تھا (یوحنا 10:3)۔
یروشلیم میں نیکدیمس اور سارے یہودی رہنما یسوع کے حیرت انگیز معجزات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ واضح تھا کہ یسوع کے پاس خدا کی طرف سے دِی ہوئی قوت تھی لیکن کیا وہ صرف ایک نبی تھا یا نبی سے بڑھ کر کچھ اور بھی؟ نیکدیمس نے رات کے وقت یسوع کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ بہتر طور پر جان سکے کہ وہ کون ہے۔
اُس نے یسوع کو ربی یعنی استاد کہہ کر سلام کیا جو کہ احترام کا نشان تھا جبکہ نیکدیمس یسوع سے عمر میں بڑا اور دنیاوی لحاظ سے زیادہ تعلیم یافتہ تھا۔ اس نے کہا، ہم جانتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے استادہو کرآیا ہے (یوحنا 2:3)۔شاید وہ سوچ رہا تھا کہ یسوع جواب دے اوروضاحت کرے گا کہ وہ کون ہے۔ بجائے اِس کے، یسوع نے تیسری آیت میں جو جواب دیا وہ بظاہر بالکل عجیب لگتا ہے۔
یسوع نے اُسے اِس طرح جواب دِیا تاکہ اُس پر کچھ ظاہر کرے۔ نیکدیمس کی یہودی برادری میں حیثیت اور صحائفِ مقدسہ کا علم اُسے نجات دلانے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اُس کا یہودی قوم میں پیدا ہونا بھی کافی نہیں تھا بلکہ خدا کا فرزند بننے کے لئے اُس کا روحانی طور پر نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری تھا۔
اپنی نجات کے لئے اپنے کاموں یا شہرت پر بھروسہ کرنا ایسے ہے جیسے آپ کسی دوسرے ملک میں جا کر سوچیں کہ اگر آپ وہاں کے شہریوں کی طرح نظر آئیں اور کام کریں تو خودبخود آپ وہاں کے شہری بن جائیں گے۔ لیکن آسمانی بادشاہی میں داخلے کا یہ طریقہ کار نہیں ہے ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں یا آپ نے کتنے اچھے کام کیے ہیں آپ کے لئے پھر بھی ضروری ہے کہ آپ نئے سرے سے پیدا ہوں یعنی اوپر (خدا کی طرف سے) سے پیدا ہونا تاکہ آپ خدا کی بادشاہی میں اپنا صحیح حصہ حاصل کر سکیں۔ روح القدس کے ذریعے آپ کے دِل کا پاک کیا جانا یعنی آپ کی روحانی تبدیلی ضروری ہے۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ روح القدس کے وسیلہ تبدیل شدہ دِل کے مالک ہو نے کی بجائے آپ کس طرح اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرنے کی آزمائش میں پڑتے ہیں کہ آپ ایک ظاہری مسیحی نظر آئیں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خدا کی حمد کریں کہ اُس نے آپ کے دِل کو تبدیل کیا ہے۔
٢۔ اپنی ریاکاری کا اقرار کریں۔
٣۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُس نے آپ کو آسمانی بادشاہی کا شہری بنایا۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.