Day 16 – Believing the Basics

Reading Time: 3 minutes

Day 16 – Believing the Basics: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

سولہواں دِن: بنیادی باتوں پر ایمان رکھنا

نیکدیمس نے جواب میں اُس سے کہا یہ باتیں کیوں کر ہو سکتی ہیں؟ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا بنی اسرائیل کا استاد ہو کر کیا تو اِن باتوں کو نہیں جانتا ؟ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کہتے ہیں اور جسے ہم نے دیکھا ہے اُس کی گواہی دیتے ہیں اور تم ہماری گواہی قبول نہیں کرتے ۔ جب میں نے تم سے زمین کی باتیں کہیں اور تم نے یقین نہیں کیا تو اگر میں تم سے آسمان کی باتیں کہوں تو کیوں کریقین کرو گے؟ اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی ابنِ آدم جو آسمان میں ہے (یوحنا 9:3-13)۔

جب نیکدیمس یسوع سے بات کرتا رہا تو وہ اُس کے الفاظ سے حیران تھا اوراُن میں الجھا ہوا تھا۔ آیت9 میں، اُس نے پوچھا، یہ باتیں کیوں کر ہو سکتی ہیں؟ یسوع نے نرمی سے اُسے سرزنش کی اور یاد دِلایا کہ اُسے یہ سب باتیں پہلے سے معلوم ہونی اور سمجھنی چاہیے تھیں۔کیونکہ یہ باتیں صرف فطرت میں ہی نہیں بلکہ پرانے عہد نامے کی کتابوں (جیسے کہ حزقی ایل36اور 37) میں بھی ظاہر کی گئی ہیں۔

یسوع نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ یہ باتیں کیوں سچ سچ سکھا سکتا ہے (آیت 11) یعنی وہ پورے اختیار اور یقین کے ساتھ سکھا رہا ہے۔وہ صرف ایک عظیم نبی ہی نہیں تھا بلکہ خدا کا بیٹا بھی تھا۔وہ براہ راست آسمان سے اُترا (آیت13)جس کی وجہ سے اُس کے پاس وہ اختیار تھا جو کسی اور نبی کے پاس نہیں تھا۔

نئی پیدائش مسیحی ایمان کی ایک بنیادی سچائی ہے ۔ اگر نیکدیمس کو زمین کی باتیں یعنی خدا کے لوگوں کی نجات کے متعلق سمجھ نہیں آ رہی تھی تو پھر وہ یسوع سے آسمان کی باتیں جیسے کہ ابدی زندگی کاجلال کیسے سیکھ سکتا تھا؟

یہ بات اِس حوالے میں واضح نہیں ہوتی کہ نیکدیمس واقعی ایمان لایا یا نہیں۔لیکن یوحنا کی انجیل کے بعد کے حوالوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ نیکدیمس نے سنہیڈرن میں یسوع کا دفاع کیا (یوحنا50:7) اور ارِمتیہ کے رہنے والے یوسف کے ساتھ مل کر یسوع کی تدفین کی تیاری میں شریک ہوا (یوحنا 39:19)۔یہ سب اِس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ وہ واقعی یسوع کی تعلیم پر ایمان لایا۔یسوع کے الفاظ نے اُس پر گہرا اثر چھوڑا جیسے آج بھی اُس کے الفاظ ایمانداروں پر گہرا اثرچھوڑتے ہیں۔

کیا آپ اُس تعلیم کی قدر کرتے ہیں جو آپ کو آپ کے والدین، اساتذہ اور پاسبان سے ایمان کی بنیادی سچائیوں کے بارے میں ملتی ہے؟کیا کبھی آپ ایسی آزمائش میں پڑے کہ آپ کو یہ تعلیم بار بار سنی ہوئی، معمولی اور اکتا دینے والی محسوس ہوئی؟ یاد رکھیں، جو عقائد آپ ابھی سیکھ رہے ہیں وہ آپ کی زندگی کی سب سے اہم باتیں ہیں۔یہ علم آپ کے مسیحی ایمان میں ترقی اور پختگی کے لیے ضروری ہے۔خدا کے کلام کے مسلسل مطالعہ سے آپ اچھائی اور برائی میں امتیاز کرنے کے قابل ہو سکیں گے کیونکہ زندگی میں آپ کو بہت سے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔مگر جیسا کہ عبرانیوں12:5-14 میں بیان کیا گیا ہے، پہلے آپ کو آسان باتیں سمجھنی ہوں گی پھر ہی آپ مشکل اور گہری باتیں سمجھ پائیں گے۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ کیا آپ مسیحی ایمان کی تمام بڑی سچائیوں کو سمجھتے اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں؟

٢۔ کیا حال ہی میں کسی وعظ یا سبق میں آپ نے کوئی ایسی بات سنی ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آئی؟اپنے سوالات لکھ لیں تاکہ آپ اُنہیں اپنے والدین یا پاسبان سے پوچھ سکیں۔

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ خداوند کا شکر ادا کریں کہ اُس نے خود کو آپ پر تخلیق اور اپنے کلام کے ذریعے ظاہر کیا تاکہ آپ ایمان لائیں۔

٢۔ اقرار کریں جب آپ نے اِن باتوں پر ویسی توجہ نہیں دی جیسی توجہ دینا لازم تھی۔

٣۔ خدا سے درخواست کریں کہ وہ آپ کے دِل میں اپنی سچائی سے محبت پیدا کرے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply