Day 18 – Loving Admonition

Reading Time: 3 minutes

Day 18 – Loving Admonition: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

اٹھارہواں دِن: محبت بھری تنبیہ

جو اُس پر اِیمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔ جو اُس پر اِیمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حکم ہوچکا۔ اس لئے کہ وہ خد اکے اکلوتے بیٹے کے نام پر اِیمان نہیں لایا۔ اور سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نور دنیا میں آیا ہے اور آدمیوں نے تاریکی کو نور سے زیادہ پسند کیا۔ اِس لئے کہ اُن کے کام برے تھے۔ کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نور سے دشمنی رکھتا ہے اور نور کے پاس نہیں آتا۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کے کاموں پر ملامت کی جائے۔مگر جو سچائی پر عمل کرتاہے وہ نور کے پاس آتاہے تاکہ اُس کے کام ظاہر ہوں کہ وہ خدا میں کئے گئے ہیں (یوحنا 18:3-21)۔

تمام انسان تاریکی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔گناہ میں گرنے کے بعد سے ہم فطری طور پر اِس کی طرف راغب ہوتے اور نور سے دور بھاگتے ہیں (رومیوں 7:8)۔روح القدس کے کام کے بغیر کوئی بھی انسان نور کی طرف کھینچا نہیں جاتا۔صرف خدا کا فضل ہی ہمارے دِلوں کو بدل سکتا ہے تاکہ ہم اِس کی ضرورت کو سمجھ سکیں۔

جیسا کہ ہم یوحنا کی انجیل کے پہلے باب میں پڑھتے ہیں کہ یسوع سچائی اور نور کے طور پر دنیا میں آیا۔اُس نے ہمارے گناہ کو بے نقاب کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا کہ نور میں اُن کے لئے زندگی ہے جو اِیمان لاتے ہیں۔آج کے مطالعے میں یوحنا دوبارہ نور اور تاریکی کی تصویر پیش کرتا ہے۔کیا آپ اُن لوگوں کے درمیان تضاد دیکھتے ہیں جو انجیل کے پیغام پر ایمان لاتے ہیں اور جو نہیں لاتے؟ جو ایمان نہیں لاتے اُن پر خدا سزاکاحکم کرتا ہے اور اُنہیں اُن کے گناہ کے حوالے کر دیتا ہے۔وہ اُنہیں تاریکی میں زندگی گذارنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اِسی زندگی میں ہی اس سزا کا سامنا کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے جہنم میں اس کا اور بھی شدید انجام بھگتیں گے۔

جو لوگ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں وہ تخلیق میں خد اکے دیئے ہوئے مکاشفہ کو نظر انداز کرتے ہیں۔وہ خدا کا کلام پڑھنے اور اُسے سننے سے انکار کرتے ہیں۔یہ حقیقت پر مبنی بات ہے کیونکہ وہ یہ نہیں سننا چاہتے کہ وہ گناہ میں زندگی گزار رہے ہیں۔وہ کلیسیا ، خاندان اور دوستوں سے کنارہ کرتے ہیں جو اُنہیں محبت کے ساتھ اُن کی غلطی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بطور ایماندار، ہمارے گناہ بھی نور کے وسیلہ سے ظاہر ہوئے۔یہ نوراتوار کے دِن خدا کے کلام کی منادی اور ذاتی مطالعے کے ذریعے حاصل ہوتاہے۔ اسی کے ساتھ یہ نور ہمارے ساتھی ایمان داروں یا کلیسیا کے رہنماؤں کی محبت بھری نصیحتوں کے ذریعے بھی حاصل ہوتاہے۔

ہمیں ان انتباہات یعنی نصیحتوں کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے۔فی الواقع، کتنی بار ہم واقعی اِس بات کی قدر کرتے ہیں جب کوئی ہمارے گناہ کو ظاہر کرتا ہے؟اپنے گناہ آلود تکبر میں، بجائے اس کے کہ شکرگزاری کے ساتھ گناہ کو قبول کریں ہم دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ بھی دوسروں کے گناہ کی نشاندہی کرنے میں ہچکچاتے ہوں کیونکہ آپ اُن کے ردِعمل سے ڈرتے ہیں۔لیکن مسیح میں بطوربھائی بہن ایک دوسرے کو تنبیہ کرناہماری ذمہ داری ہے (امثال17:27، رومیوں 14:15)۔اور یہ آپ کی کلیسیا کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسیحی ضابطے کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو تنبیہ کریں اگر آپ تاریکی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ کیا آپ میں یہ حوصلہ ہے کہ آپ محبت کے ساتھ اپنے دِیندار دوستوں کی زندگی میں موجود گناہ کی نشاندہی کریں؟

٢۔ جب کوئی ایماندار بھائی یا بہن آپ کے گناہ کی نشاندہی کرے تو آپ کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟کیا آپ فروتنی سے شکر گزار ہوتے ہیں؟یا غصہ کرتے اوربہانے بنا تے ہیں؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ فروتنی کے لیے درخواست کریں تاکہ آپ دوسروں کی طرف سے کی گئی تنبیہ کو شکرگزاری کے ساتھ قبول کریں۔

٢۔ اپنے اُس گناہ کا اقرار کریں جس میں خدا سے زیاد ہ کسی اور سے محبت کرنے کی آزمائش میں پڑے اور جسے ترک کرنے سے کتراتے ہیں۔

٣۔ خداوند کا شکر ادا کریں کہ اُس نے نور (یسوع مسیح) کو دنیا میں بھیجاتاکہ وہ اپنے لوگوں کو ابدی تاریکی سے نجات دے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply