Day 19 – He Must Increase: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
اُنیسواں دِن: ضرور ہے کہ وہ بڑھے
اِن باتوں کے بعد یسوع اور اُس کے شاگردیہودیہ کے ملک میں آئے اور وہ وہاں اُن کے ساتھ رہ کر بپتسمہ دینے لگا۔ اور یوحنا بھی شالیم کے نزدیک عینون میں بپتسمہ دیتا تھا کیونکہ وہاں پانی بہت تھا اور لوگ آکر بپتسمہ لیتے تھے ۔ کیونکہ یوحنا اُس وقت تک قید خانہ میں ڈالا نہ گیا تھا۔ پس یوحنا کے شاگردوں کی کسی یہودی کے ساتھ طہارت کی بابت بحث ہوئی۔ اُنہوں نے یوحنا کے پاس آکر کہا اے ربی! جو شخص یردن کے پار تیرے ساتھ تھا جس کی تونے گواہی دی ہے دیکھ وہ بپتسمہ دیتا ہے اور سب اُس کے پاس آتے ہیں۔ یوحنا نے جواب میں کہا اِنسان کچھ نہیں پاسکتا جب تک اُس کو آسمان سے نہ دیا جائے۔ تم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا میں مسیح نہیں مگر اُس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔ جس کی دلہن ہے وہ دلہا ہے مگر دلہا کا دوست جو کھڑا ہؤا اُس کی سنتا ہے دلہا کی آواز سے بہت خوش ہوتا ہے ۔ پس میری یہ خوشی پوری ہوگئی۔ ضرور ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں (یوحنا 22:3-30)۔
یہودیوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے، یوحنا بپتسمہ دینے والے کے چند وفادار شاگردوں نے اپنے قریبی علاقہ یہودیہ ہی میں یسوع کی خدمت کے بارے میں سنا اور اس حقیقت کے بارے میں بھی کہ وہاں بڑی بھیڑ اُس کے پیچھے ہوتی جارہی ہے۔یہ شاگرد بہت فکرمند تھے کہ اِتنے زیادہ لوگ یسوع کی پیروی کر رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ سمجھتے تھے گویا یسوع اور یوحنا بپتسمہ دینے والاایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں کہ کس کے زیادہ پیروکار ہیں۔
جب اُنہوں نے اپنی فکرمندی کا اِظہار یوحنا کے سامنے کیا تو اُس کے جواب سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔سب سے پہلے، یوحنا نے بیان کیا کہ اُس کی خدمت خدا کی طرف سےبخشش ہے (آیت 27)۔پھر اُس نے اُنہیں دوبارہ یاد دِلایا کہ وہ مسیح نہیں ہے۔اُسے تو صرف یہ ذِمہ داری ملی تھی کہ وہ یسوع کے لیے راہ تیار کرے (آیت 28)۔یہ خدا کی مرضی تھی کہ یسوع بڑھے اور وہ گھٹے۔
یوحنا بپتسمہ دینے والے نے شادی کی ضیافت کی مثال پیش کی تاکہ وہ اپنی خدمت اور یسوع کی خدمت کے درمیان فرق واضح کرسکے۔یسوع دولہاہے اور اُس کے لوگ دلہن ہیں۔یوحنا بپتسمہ دینے والا دولہا کا بہترین دوست ہے۔شادی میں دولہا کے دوست کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دولہا کا ساتھی اور مدد گارہو جب تک وہ اپنی دلہن سے شادی نہ کر لے۔یہ نامناسب اور خود غرضی پر مبنی بات ہو گی اگر دولہا کا دوست شادی میں بجائے دولہا کے اپنی طرف توجہ مبذول کروانے کی کوشش کرے ۔اپنے شاگردوں کے برعکس، یوحنا بپتسمہ دینے والا خوش تھا کہ یسوع کی خدمت افزون ہو رہی ہے کیونکہ اِس کا مطلب یہ تھا کہ اُس نے اپنے بلاوے یعنی ذِمہ داری کوبطور دولہا کادوست وفاداری سے پورا کیا۔
یہ مثال ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ خدمت میں رشک یا حسد کے لئے کوئی جگہ نہیں۔پاسبانوں اور کلیسیاؤں کوکبھی بھی ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اُن کا بلاوا یعنی ذِمہ داری خود کی بجائے خدا کو جلال دینا ہے۔اُن کا دھیان انجیل کو پھیلانے پر ہونا چاہیے نہ کہ اپنی شہرت بڑھانے پر۔ہمیں یہ بھی یاد دِلایا گیا ہے کہ کلیسیا میں حسد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
جب دوسروں کو آپ سے مختلف روحانی نعمتیں دی گئی ہوں تو آپ کو رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ہم سب کو خدا کے جلال کے لیے اپنی اپنی روحانی نعمتوں کے مطابق مل کر خدمت کرنا ضروری ہے (رومیوں 3:12-8)۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ آپ کو کون سی روحانی نعمتیں دِی گئی ہیں جنہیں آپ مسیح کے بدن(کلیسیا) کی خدمت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟
٢۔ کیا آپ کبھی کلیسیا میں خدمت کرتے ہوئے خدا کے جلال کی بجائے اپنے جلال کی خواہش کرنے کی آزمائش میں پڑے ہیں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خداوند کا شکر ادا کریں اُن اچھی نعمتوں کے لیے جو اُس نے آپ کو بخشی ہیں۔
٢۔ اقرار کریں کہ کب آپ نے خود کو اُس سے زیادہ جلال دینے کی کوشش کی۔
٣۔ درخواست کریں کہ وہ بڑھے اور آپ گھٹیں (آیت 30)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.