Day 21 – Love Without Prejudice: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
اکیسواں دِن: تعصب سے پاک محبت
پھر جب خداوند کو معلوم ہؤا کہ فریسیوں نے سنا ہے کہ یسو ع یوحنا سے زِیادہ شاگرد کرتا اور بپتسمہ دیتاہے۔ (گو یسوع آپ نہیں بلکہ اُس کے شاگرد بپتسمہ دیتے تھے)۔ تو وہ یہودیہ کو چھوڑ کر پھر گلیل کو چلا گیا۔ اور اُس کو سامریہ سے ہو کر جانا ضرور تھا۔ پس وہ سامریہ کے ایک شہر تک آیا جو سو خار کہلاتا ہے ۔ و ہ اُس قِطعہ کے نزدیک ہے جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا۔ اور یعقوب کا کنواں وہیں تھا۔ چنانچہ یسوع سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اُس کنوئیں پر یونہی بیٹھ گیا۔ یہ چھٹے گھنٹے کے قریب تھا۔ سامریہ کی ایک عورت پانی بھرنے آئی۔ یسوع نے اُس سے کہا مجھے پانی پلا۔ کیونکہ اُس کے شاگرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے۔ اُس سامری عورت نے اُس سے کہا کہ تو یہودی ہو کر مجھ سامری عورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟ [کیونکہ یہودی سامریوں سے کسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے] (یوحنا 1:4-9)۔
جب722 قبل از مسیح میں اسوریوں نے اسرائیل پر قبضہ کیا تو انہوں نے زیادہ تر لوگوں کو جلا وطن کر دیا۔ اُنہوں نے صرف بہت غریب اور کمزور لوگوں کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ قید کے قابل نہیں ہیں۔ بعد میں یہ لوگ آس پاس کے غیر یہودی لوگوں سے شادیاں کرنے لگے۔ اُن کی اولاد کو بعد میں سامری کہا جانے لگا۔
جو یہودی قید سے واپس آئے تھے انہوں نے سامریوں کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ نہ رکھا۔ اگرچہ ان کی نسل ایک ہی تھی مگر زیادہ تر یہودی سامریوں کے خلاف تعصب رکھتے تھے اور اُن سے جتنا ہو سکے دور رہتے تھے۔ یہ دشمنی بعض اوقات دونوں کے درمیان کھلم کھلا لڑائیوں تک بھی جا پہنچتی تھی۔لیکن جب یسوع یہودیہ سے گلیل کی طرف سفر کر رہا تھا تو اُس نے عام یہودیوں کی طرح متبادل راستہ اختیار کرنے کی بجائے براہِ راست سامریہ کے راستے سے جانے کا فیصلہ کیا۔
سامریہ میں یسوع سوخار میں یعقوب کے کنویں پر آرام کرنے کے لئے ٹھہرا اور وہیں اُس نے ایک عورت سے کہا کہ وہ اُسے پانی پلائے۔ایک سخت مذہبی یہودی کے لیے یسوع کا سامریہ سے گزرنا ہی حیران کن تھا اور یہ بات اور بھی زیادہ چونکا دینے والی تھی کہ وہ سامری عورت سے بات کریں۔ حتیٰ کہ یسوع کے اپنے شاگرد بھی اُسے اُس عورت سے بات کرتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔
یہ عورت دیگر سامری عورتو ں کی طرح نہ تھی۔ دوپہر کے وقت اکیلی پانی بھرنے آنا جب کہ دوسری عورتیں صبح یا شام کے وقت اکٹھی آتی تھیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سماج کی نظروں میں رسوا تھی۔ وہ حیران تھی کہ یسوع نے اُس سے پانی مانگا۔چونکہ یہودی سامریوں کو ناپاک سمجھتے تھے، اس لیے زیادہ تر لوگ کبھی اس کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی پینے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
لیکن یسوع نے اپنی خدمت میں سماجی روایات یا تعصب کو اہمیت نہ دی۔ وہ ہر طبقے کے انسانوں سے بات کرتاتھا چاہے وہ یہودی مذہبی رہنما ہوں یا اخلاقی طور پر گناہ گار سمجھی جانے والی سامری عورت۔ یسوع کے نزدیک رنگ ،نسل یا سماجی حیثیت کی برتری کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اِسی طرح، یہ باتیں آپ کے لیے بھی کسی انسان کو نظر انداز کرنے کی وجہ نہیں بننی چاہئیں۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ آپ کن کن باتوں یا لوگوں کے خلاف تعصب رکھتے ہیں؟
٢۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ یہ تعصبات آپ کے لئے کسی سے دوستی کرنے یا اُسے اِنجیل سنانے میں رکاوٹ کا باعث بنے ہوں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خداوند کی حمد کریں کہ وہ اپنی مہربانی اور بھلائی سے ہر قوم اور شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو نجات بخشتا ہے۔
٢۔ کلیسیا کے خوبصورت تنوع کے لئے اپنے آسمانی باپ کا شکر ادا کریں۔
٣۔ اپنی رہنمائی کے لیے اُس کے روح کی مدد کی درخواست کریں تاکہ وہ آپ کو طرف داری کے گناہ سے بچائے (یعقوب 1:2–13)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.