Day 22 – The Living Water

Reading Time: 3 minutes

Day 22 – The Living Water: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

بائیسواں دِن: زِندگی کا پانی

یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تو خدا کی بخشش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کون ہے جو تجھ سے کہتا ہے مجھے پانی پلاتو تو اُس سے مانگتی اور وہ تجھے زندگی کا پانی دیتا۔ عورت نے اُس سے کہا اے خد اوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کچھ ہے نہیں اور کنواں گہرا ہے۔ پھر وہ زندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟ کیا تو ہمارے باپ یعقوب سے بڑا ہے جس نے ہم کو یہ کنواں دیا اور خود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پیا؟ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا جوکوئی اِس پانی میں سے پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہوگا۔ مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پئے گا جو میں اُسے دوں گا وہ ابدتک پیاسا نہ ہوگا بلکہ جو پانی میں اُسے دوں گاوہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گاجو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہے گا۔ عورت نے اُس سے کہا اے خداوندوہ پانی مجھ کو دے تاکہ میں نہ پیاسی ہوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں  (یوحنا 10:4-15)۔

جب یسوع سامری عورت سے بات کررہاتھا تو اُس نے اُس سے کہا کہ اگر تو جانتی کہ میں کون ہوں تو تو خود مجھ سے پانی مانگتی اور میں تجھے زندگی کا پانی دیتا۔سامری عورت نے بھی نیکدیمس کی طرح یسوع کی بات کو لفظی معنوں میں سمجھنے کی کوشش کی اور اُس کی بات کو صحیح طورپر نہیں سمجھی۔ وہ پوچھتی ہے کہ کیا تو ہمارے باپ یعقوب سے بڑا ہے؟ یعقوب نے ہی تو یہ کنواں کھودا تھا اور دو ہزار برسوں سے اُس کی نسلیں یہی پانی پیتی آ رہی تھیں۔لیکن یہ عورت یہ نہیں سمجھی تھی کہ یسوع پانی کو روح القدّس کے لئے ایک زمینی مثال کے طور پر استعمال کر رہاتھا اور پیاس دِلی اطمینان اور سلامتی کے متلاشی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔

اگر وہ عورت یعقوب کے کنویں کا پانی پی بھی لیتی تو اُس کی پیاس کچھ دیر کے لیے تو بجھ جاتی مگر اگلے دن اُسے پانی بھرنے کے لئے پھر آنا پڑتا۔یسوع اپنی الٰہی حکمت سے یہ جانتا تھا کہ یہ عورت اِسی طرح روحانی اطمینان کی متلاشی ہے۔ وہ خوشی اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے کئی مردوں سے شادی کر چکی تھی اور گناہ میں زندگی گزار رہی تھی لیکن ہر رشتہ ختم ہونے کے بعد وہ پھر اکیلی رہ جاتی اور اس کے دِل کا خالی پن باقی رہ جاتا تھا۔ وہ اب بھی کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھی جو اُسے حقیقی اطمینان دے سکے۔

کیا آپ بھی اپنی روحانی پیاس دنیاوی چیزوں سے بجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟کیا آپ اپنی جسمانی خواہشوں کونشے یا شراب نوشی سے، گھنٹوں فون کے استعمال، کھیلوں کے ذریعے یا گناہ آلودہ تعلقات کے بوجھ تلے دبے رہنے سے پورا کرنا چاہتے ہیں۔یہ سب چیزیں وقتی تسکین دے سکتی ہیں مگر یسوع کے بغیر سب کچھ آپ کے دِل کے خالی پن کو بھر نہیں سکتا۔دنیا کی کوئی بھی چیز عارضی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتی۔

آپ کو اُس زندگی کے پانی کی ضرورت ہے جس کا ذِکر یسوع یہاں کر رہا ہے۔وہ پانی جو ہمیشہ کی زندگی کے چشمہ کے طور پر ہمیشہ جاری رہے گا (آیت 14)۔صرف مسیح کے ساتھ رُوح القدّس کے وسیلہ سے ایک ہونے پر ہی آپ کو اِس زندگی میں حقیقی اطمینان اور ہمیشہ کے لیے حقیقی خوشی مل سکتی ہے۔آسمان پر کوئی پیاس نہ ہوگی اور یسوع خود اپنے لوگوں کو آبِ حیات کے چشموں کے پاس لے جائے گا (مکاشفہ 15:7-17)۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ یسوع کے بغیر آپ کہاں اطمینان حاصل کرنے کی آزمائش میں پڑے؟

٢۔ آخر میں یہ چیزیں آپ کو کس طرح خالی اور نامکمل چھوڑ دیتی ہیں؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ اپنی زندگی میں روح القدس کی بخشش کے لئے خدا کا شکر ادا کریں۔

٢۔ اپنے گناہ کا اقرار کریں کہ آپ نے مسیح کی بجائےبہت کم تر دنیاوی چیزوں کے ذریعے اطمینان تلاش کرنے کی کوشش کی۔

٣۔ خداوند سے درخواست کریں کہ وہ مسیح کے ذریعے آپ کے دل اور دماغ میں وہ اطمینان پیدا کرے جو انسانی سمجھ سے بالکل باہر ہے (فلپیوں 7:4)۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply