Day 23 – A Savior of Sinners: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
تیئیسواں دِن: گناہ گاروں کا نجات دہندہ
یسوع نے اُس سے کہا جا اپنے شوہر کو یہاں بلالا۔عورت نے جواب میں اُس سے کہا کہ میں بے شوہر ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا تونے خوب کہا کہ میں بے شوہر ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا تو نے خوب کہا کہ میں بے شوہر ہوں۔ کیونکہ تو پانچ شوہر کر چکی ہے اور جس کے پاس تو اب ہے وہ تیرا شوہر نہیں۔ یہ تو نے سچ کہا۔ عورت نے اُس سے کہا اے خداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے (یوحنا 16:4-19)۔
جس سامری عورت کے ساتھ یسوع بیٹھا بات کر رہا تھا اُس کے بارے میں وہاں سب کو معلوم تھا کہ وہ ایک زناکار عورت تھی۔وہ کئی بار شادی کر چکی تھی اور ناجائز تعلقات میں رہ رہی تھی۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کا بیٹا اُس بدکار عورت کے ساتھ بیٹھے اور بات کرے؟ کیا اُسے خود کو اُس سے دور نہیں رکھنا چاہیے تھا جیسا کہ کوئی پرہیزگار یہودی یا شاید اُس کے اپنے شاگرد کرتے؟
لیکن یسوع نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اُس کے ساتھ محبت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ پیش آیا۔اس نے عورت کے ضمیر کو نرمی سے جھنجھوڑا اور اُس سے اُس کے شوہر کے بارے میں پوچھا۔ اُس نے اُس عورت کے گناہ کو اجاگر کیا تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اسے کیوں زِندگی کے پانی کی ضرورت ہے جس کے بارے میں وہ بات کر رہے تھے۔ اور اُس نے اپنی الٰہی حکمت اُس عورت پر واضح کر دی کہ وہ کون ہے کیونکہ وہ اس کے گناہ کو جانتا تھا چاہے وہ اُسے چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔
یسوع کا یہ طرزِ عمل اُس وقت کے سماجی معیار کے خلاف تھا۔ یِسوع کا یہ طرزِ عمل یا رویہ ہمیں تب سمجھ آتا ہے جب ہم اِس بات کو فراموش نہیں کرتے کہ وہ اِس زمین پر کیوں آیا۔ مرقس 17:2 کے مطابق، جب فقیہوں اور فریسیوں نے پوچھا کہ یِسوع گناہ گاروں اور محصول لینے والوں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے تو یسوع نے یہ سن کر اُن سے کہا تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں بلکہ بیماروں کو۔ میں راست بازوں کو نہیں بلکہ گناہ گاروں کو بچانے آیا ہوں۔ یہ گناہ گار عورت خدا کے فرزندوں میں سے ایک تھی جسے یسوع بچانے آیا تھا۔
پولس رسول نے 1 تیمتھیس 15:1 میں لکھا، یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کونجات دینے کے لئے دنیا میں آیا جن میں سب سے بڑا میں ہوں۔آپ کا آسمانی باپ آپ کے تمام گناہوں سے پہلے سے ہی واقف ہے جیسے وہ کنویں پراُس سامری عورت کے گناہوں سے واقف تھا۔ ایسا کوئی بھی گناہ نہیں جو آپ نے ماضی میں کیا ہواور جو اتنا برا یا شرمناک ہو کہ خدا اُسے معاف نہ کر سکے۔ اور کوئی بھی گناہ جس کے آپ ابھی تک غلام ہیں ایسا نہیں ہے جس سے وہ آپ کو نجات نہ دے سکے۔
شیطان اکثر ہمارے کانوں میں یہ سر گوشی کرتاہے کہ اِس بار ہم گناہ کرنے میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں اورخدا ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔لیکن یہ جھوٹ ہے! خدا کی قدرت بے پایاں ہے۔اُس کے روح القدس کی قوت سے، آپ اپنے سب سے شرمناک گناہوں کا اقرار کر کے توبہ کر سکتے ہیں اور اُس سے رجوع کر سکتے ہیں (اعمال 38:2)۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ کیا آپ کی زِندگی میں ایسا کوئی گناہ باقی ہے جس کا آپ نے ابھی تک خدا کے حضور اقرار نہیں کیا کیونکہ آپ سوچتے ہیں وہ آپ کو معاف نہیں کرے گا؟ اگر ایسا ہے تو اُسے دعا میں خدا کے حضور پیش کریں۔
٢۔ اگر آپ واقعی اپنے اِس گناہ پر دِلی طور پر شرمندہ ہیں مگر پھر بھی اُس سے چھٹکارا پانے میں کمزوری محسوس کرتے ہیں تو اپنے والدین یاکسی مخلص دوست سے کہیں کہ وہ آپ سے اس کے بارے پوچھتا رہے۔
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ اُس رحم اور فضل کے لئے خداوند کی حمد کریں جو وہ آپ جیسے غیر مستحق گناہ گار پر ظاہر کرتا ہے۔
٢۔ زبور 51 کے الفاظ کے ساتھ اپنے گناہ کا اقرار کریں،یہ داؤد کی گناہ سے توبہ کی دعا ہے جو اُس نے بت سبع کے ساتھ گناہ کرنے کے بعد خدا کے حضور کی تھی۔
٣۔ روح القدس کی قوت کے وسیلہ سے اپنے گناہ پر غالب آنے کے لئے طاقت کی درخواست کریں۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.