Day 26 – True Satisfaction

Reading Time: 3 minutes

Day 26 – True Satisfaction: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

یسوع کون ہے؟

یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)

مصنفہ: ایبی وین سولکیما

مترجم: سنیل سموئیل

چھبیسواں دِن: حقیقی اطمینان

اِتنے میں اُس کے شاگرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اے ربی! کچھ کھا لے۔لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لئے ایسا کھانا ہے جسے تم نہیں جانتے۔ پس شاگردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اُس کے لئے کچھ کھانے کو لایا ہے؟ یسوع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔ کیا تم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہینے باقی ہیں؟ دیکھو میں تم سے کہتا ہوں اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔ اور کاٹنے والا مزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے پھل جمع کرتا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں مل کر خوشی کریں۔ کیونکہ اِس پر یہ مثل ٹھیک آتی ہے کہ بونے والا اور ہے۔ کاٹنے والا اور۔ میں نے تمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لئے بھیجا جس پر تم نے محنت نہیں کی۔ اوروں نے محنت کی اور تم اُن کی محنت کے پھل میں شریک ہوئے (یوحنا 31:4-38)۔

جب شاگرد کھانا خرید کر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ یسوع سامری لوگوں سے بات کرنے میں اِتنا مصروف تھا کہ ابھی تک اُس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔شاگردوں کو اُس کی فکر ہوئی اور اُنہوں نے اُسے کھانے کے لیے کہا۔لیکن یسوع نے اپنی زمینی بھوک کو ایک آسمانی سبق میں بدل دیا۔ اُس نے اِس موقع کو استعمال کرتے ہوئے انہیں اپنے مختصر زمینی قیام کے مقصد کے بارے میں سکھایا اور اپنے شاگرد کے طور پر ان کے بلائے جانے میں اُن کی حوصلہ افزائی کی۔

ہم انسان اپنے جسم کو توانائی دینے کے لیے کھاتے ہیں تاکہ اپنے روزمرہ کے کام انجام دے سکیں۔ لیکن ہم اس لیے بھی کھاتے ہیں تاکہ ہمیں پیٹ بھرنے اور اطمینان کا احساس ہو۔ بھوک صرف یہ احساس نہیں کہ ہمیں کھانا چاہیے بلکہ یہ ایک شدید خواہش ہے جو اِس ضرورت کو پورا کرنا چاہتی ہے۔ اِسی لیے جب کسی کو کھانے کے علاوہ کسی اور چیز کی شدید خواہش ہو جیسے کھیل کا مقابلہ جیتنے یا کسی مقصد کو حاصل کرنے کی تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ اُس کے لیے بھوکا ہے۔

کیا آپ کسی چیز کی شدید خواہش رکھتے ہیں جس کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ اُس سے آپ کو سکون حاصل ہوگا؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ اگر خدا صرف آپ کے خیالات کے مطابق کام کرے تو آپ واقعی خوش ہوں گے؟ یسوع یہاں سکھاتاہے کہ حقیقی اطمینان ہماری زمینی خواہشات کی تکمیل میں نہیں ہے۔ یسوع کی توانائی اور خوشی کا ذریعہ روٹی اور گوشت نہ تھا بلکہ اپنے آسمانی باپ کی مرضی کے موافق عمل کرنا اور اُس کے برگزیدہ لوگوں کو قوموں سے جمع کرنا تھا۔

آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کی زندگی کے لیے کیا بہتر ہے لیکن لامحدود علم اور کامل محبت رکھنے والا خدا بہتر جانتا ہے۔ آپ حقیقی سکون اور اطمینان صرف اُس کام کو انجام دے کر پائیں گے جو خدا نے اِس زمین پر آپ کے لیے مقرر کیا ہے چاہے یہ کام آپ کے منصوبے یا توقعات سے بہت مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ دنیاوی کاموں کے فوائد عارضی ہیں لیکن خدا کے کام کا اجر ابدی ہے۔

شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ

١۔ جب آپ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں تو کیا آپ خدا کی مرضی کے طالب ہوتے ہیں یا صرف اپنی خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں؟

٢۔ آپ اپنی زندگی میں کس طرح خدا کی مرضی کے طالب ہوتے ہیں؟

اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت

١۔ خداوند کی حاکمیت کے لئے اُس کی ستائش کریں۔

٢۔ اقرار کریں کہ یہ ممکن ہے کہ آپ خدا کی رہنمائی کے طریقے سے مطمئن نہیں ہیں۔

٣۔ فضل کی درخواست کریں کہ وہ آپ کو اپنے اِرادوں کو اُس کی مرضی کے تابع کرنے کی توفیق دے اور اپنے فیصلوں کی رہنمائی کے لیے اُس کے کلام کی طرف رجوع کریں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply