Day 27 – A Prophet Without Honor: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
ستائیسواں دِن: عزت کے بغیر نبی
اور اُس شہر کے بہت سے سامری اُس عورت کے کہنے سے جس نے گواہی دی کہ اُس نے میرے سب کام مجھے بتا دِئے اُس پر ایمان لائے۔ پس جب وہ سامری اُس کے پاس آئے تو اُس سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس رہ وہ چنانچہ وہ دوروز وہاں رہا۔ اور اُس کے کلام کے سبب سے اور بھی بہتیرے ایمان لائے ۔ اور اُس عورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے ایمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نے خود سن لیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقیقت دنیا کامنجی ہے۔ پھر اُن دو دنوں کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوکر گلیل کو گیا۔ کیونکہ یسوع نے خود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔ پس جب وہ گلیل میں آیا تو گلیلیوں نے اُسے قبول کیا۔ اِس لئے کہ جتنے کام اُس نے یروشلیم میں عید کے وقت کئے تھے اُنہوں نے اُن کو دیکھا تھا کیونکہ وہ بھی عید میں گئے تھے (یوحنا 39:4-45)۔
شمال کی طرف گلیل جانے سے پہلے یسوع نے سامری لوگوں کو سکھانے کے لیے دو دِن مزید صرف کیے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں دو گروہوں کا ذکر ہے؛ سامری جو غیر یہودی تھے اور گلیلی جو یہودی تھے۔ ہر گروہ نے یسوع کی تعلیم کو کس طرح قبول کیا؟
زیادہ تر سامری پہلے یسوع پر ایمان لے آئے کیونکہ اُس سامری عورت نے اُس کے بارے میں حیرت انگیز باتیں بتائی تھیں۔لیکن جیسے جیسے وہ اس کی تعلیم سنتے رہے، ان کا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔انہوں نے فی الحقیقت یسوع کو موعودہ مسیح کے طور پر قبول کیا اور یہ اقرار کیا کہ وہ دنیا کا منجی ہے (آیت42)۔
جب یسوع گلیل کو گیا تو وہاں کے یہودیوں نے اُسے خوش آمدید کہا کیونکہ اُنہوں نے یروشلیم میں عید کے دوران یسوع کے بڑے بڑے نشانات اور عجائبات دیکھے تھے۔وہ یسوع کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے لیکن وہ فی الحقیقت ایمان نہ لائے اور نہ ہی انہوں نے مسیح یسوع کو بطورمسیح عزت دی جس کے وہ لائق تھا۔
اگرچہ یسوع یہودیہ کے شہر بیت لحم میں پیدا ہوا پر گلیل کا شہر ناصرت وہ جگہ تھی جہاں وہ بڑاہوا۔ اِسی لیے ناصرت کو اکثر اُس کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہی بات آیت 44 میں ظاہر ہوتی ہے جب وہ گلیل کو اپنا وطن کہتا ہے۔ یسوع کے وطن کے لوگ صرف اُس کے معجزات اور سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے۔بطور قوم، آخرکار وہ یسوع کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔
آج بہت سے لوگ گلیلیوں کی طرح چرچ آنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔وہ اِس لیے آتے ہیں کہ یسوع کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اُن کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ وہ صرف اپنے مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ اُن کی سب سے بڑی ضرورت گناہ سے نجات پاناہے نہ کہ اپنے حالات سے۔ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنی زندگیاں یسوع کے سپرد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ کیا آپ کبھی چرچ جانے یا بائبل مقدس پڑھنے کے دوران فوری حل کی سوچ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں؟
٢۔ یہ یاد رکھنا کیوں ضروری ہے کہ خدا کا کلام بنیادی طور پر ہمارے بارے میں نہیں بلکہ خدا کے بارے میں ہے؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خداوند کا شکر ادا کریں کہ اُس نے دنیا بھر سے اپنے لوگوں کو نجات بخشی۔
٢۔ اپنی زندگی کے اُس پہلو کا اقرار کریں جہاں آپ مکمل طور پر خدا کے اختیار کے تحت نہیں ہیں۔
٣۔ درخواست کریں کہ وہ آپ کو وہ فضل دے کہ آپ اُسے وہ عزت دے سکیں جس کے وہ لائق ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.