The following article, Will There Be a Secret Rapture?, was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
کیا کلیسیا خفیہ طور پر اُٹھائی جائے گی؟
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
قارئین کے سوالات: کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کسی بھی لمحے آ سکتا ہے (یعنی کلیسیا خفیہ طور پر اُٹھائی جائے گی)؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کلیسیا کے اُٹھائے جانے سے بالکل پہلے کے آخری زمانے میں جی رہے ہیں؟
اس نظریہ کے مطابق، جو لوگ کلیسیا کے اُٹھانے جانے میں میں شامل ہوں گے وہ اچانک اور پراسرار طور پر زمین سے غائب ہو جائیں گے اور بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں۔ ہمارا ماننا یہ ہےکہ ہر وہ شخص جو اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ کلیسیا کا اُٹھایا جانا مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی سے پہلے ہوگا لازمی طور پر پر کلیسیا کے خفیہ طور پر اٹھائے جانے پر ایمان نہیں رکھتا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کلیسیا کے خفیہ طور پر اُٹھانے کے نظریہ کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
بائبل مقدس میں کلیسیا کے خفیہ طور پر اُٹھانے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ دو حوالے جو ہزارسالہ بادشاہی سے پہلے کلیسیا کے خفیہ طور پر اُٹھائے جانے کو ثابت کرنے کے لیے سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں یعنی 1 تھسلنیکیوں 14:4–18 اور 1 کرنتھیوں 51:15–53 ایسا واقعہ بیان کرتے ہیں جو کسی بھی طور خفیہ نہیں۔ 1 کرنتھیوں 15 آخری نرسنگے (آیت 52) کا ذِکر کرتا ہے اور 1 تھسلنیکیوں 4 نہ صرف نرسنگے کا ذِکر کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہ خداوند خود آسمان سے للکار اور مقرب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے ساتھ اُتر آئے گا (آیت 16)۔
یہ خفیہ نہیں بلکہ علانیہ ہے۔ مزید یہ کہ دیگر بائبلی حوالہ جات کی روشنی میں نرسنگا، للکار اور مقرب فرشتہ کی آواز اس واقعے کے عوامی اعلان کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتے (متی 29:24–31، متی 6:25، مکاشفہ 17:19)۔
متی 24 باب بھی اس کے برعکس کچھ بیان نہیں کرتا۔ متی 31:24 اسی واقعے کو بیان کرتا ہے جسے 1 تھسلنیکیوں 4 میں بیان کیا گیا ہے کہ اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کریں گے۔ اِس کے ساتھ، متی 30:24 میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اُس وقت زمین کی سب قومیں۔۔۔ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔ ایسا کچھ بھی خفیہ نہیں ہوگا کہ کار چل رہی ہو اور کار کا ڈرائیور اُٹھا لیا جائے۔
اس کے علاوہ، یہ خیال کہ خدا کے لوگ مسیح کی آمد سے بالکل بے خبر ہوں گے، بائبلی تعلیم کے خلاف ہے۔ 1 تھسلنیکیوں 1:5–4 بیان کرتی ہیں کہ خداوند کی آمد یعنی وہی کلیسیا کا خفیہ طور پر اُٹھایا جانا جس کا ذکر باب 4 میں ہے کہ خداوند کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے۔ مسیح ہمارے خداوند کی اِس طرح اچانک آمد سے شریر گھبرا جائیں گے کیونکہ یہ اُن کے لیے ناگہانی واقعہ ہوگا۔ آیت 4 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ لیکن تم اے بھائیو! تاریکی میں نہیں ہو کہ وہ دِن چور کی طرح تم پر آ پڑے۔ اس بات کی تصدیق دیگر حوالوں خاص طور پر دس کنواریوں کی تمثیل سے بھی ہوتی ہے (متی 1:25–13)۔
اگر 1 تھسلنیکیوں 4 میں بیان کی گئی مسیح کی آمد خفیہ ہوتی تو ہمیں جاگتے رہنے اور دعا کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ حالانکہ یہی بات وہ ذمہ داری ہے جس پر خدا کا کلام 1 تھسلنیکیوں 6:5–8 میں زور دیتا ہے۔ یہی کلیسیا کے خفیہ طور پر اُٹھانے کے نظریہ پر ہمارا ایک بڑا اعتراض ہے کیونکہ یہ ہمیں مسیح کی آمد کے انتظار اور ہوشیار رہنے کی ہر معقول وجہ سے محروم کر دیتا ہے۔
یقیناً نہ ہم اُس کے آنے کے دِن کو جانتے ہیں نہ اُس گھڑی کو لیکن ہم وقتوں اور موقعوں کو جان سکتے ہیں (1 تھسلنیکیوں 1:5)۔ پس اوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں (1 تھسلنیکیوں 6:5)۔ ہم خدا کا شکر بھی ادا کریں کہ اُس نے ہمیں تاریکی میں نہیں چھوڑا۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.