This is the Urdu translation of Christians and Demonic Activity Today by Michael Horton, originally published on the Core Christianity website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
دورِ حاضر میں مسیحی اور شیطانی سرگرمی
مصنف: مائیکل ہارٹن
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
کیا کوئی ایسا شخص جو حقیقی مسیحی ہو، بدروح گرفتہ ہو سکتا ہے یعنی کسی بدروح کے قبضے میں آسکتا ہے؟ بدارواح اور مسیحیوں کے درمیان تعلق ایک اہم موضوع ہے لیکن مسیحیوں کے درمیان اِس پر اکثر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر ہارٹن نے اس سوال کا جواب کور کرسچینٹی ریڈیو شو کی قسط نمبر 21 میں دِیا ہے۔
مسیحی شیطانی دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی شیطان کے قبضے میں نہیں آ سکتے۔
اناجیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کہیں یسوع گیا، اُس نے بدارواح کو نکالا۔ یسوع کی زمینی خدمت کے دوران ایسا لگتا تھا جیسے بدروحیں زیادہ سرگرم ہو گئی ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شیطان کی عمل داری نے اپنی پوری توجہ یسوع ناصری پر مرکوز کر رکھی تھی اس لیے کوئی حد باقی نہ رہی تھی۔
یہ اُس شخص کو روکنے کا آخری موقع تھا جو شیطان کا سر کچلنے والا تھا۔ یہ خدا کی بادشاہی کی انجیل (خوشخبری) کو ظاہر کرنے والا ایک حقیقی فضل ہے۔ اُسے شیطان پر اختیار حاصل ہے اور اُس نے اپنی موت اور جی اُٹھنے کے ذریعے حقیقی طور پر شیطان کا سر کچل دِیا۔
دورِ حاضرہ میں بھی بعض لوگ بدروحوں کے قبضے میں آ جاتے ہیں۔ میں نے حال ہی میں ٹی وی پر ایک عورت کا دعویٰ سنا کہ اُس نے اپنے مرے ہوئے بھائی کی روح سے رابطہ کیا اور میرے نزدیک یہ شیطانی قبضے کی ایک واضح مثال تھی۔ چند سال پہلے ہندومت کے مرکز وارانسی میں دریائے گنگا کے کنارے گزارا ہوا وقت مجھے آج بھی یاد ہے۔ مجھے وہاں پہلی بار شدید شیطانی دباؤ کا احساس ہوا۔
یہ محض دوسروں سے سنی ہوئی کہانیاں نہیں ہیں۔ میں نے خود اس کا تجربہ کیا۔ وہ گویا ایک شیطانی محفل تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے بدروحیں ہر طرف منڈلا رہی ہوں لیکن وہ آپ کے اندر سکونت نہیں کر سکتیں۔ خدا کا روح ہم میں بسا ہوا ہے اور روح القدس شیطان کو مہمان کے طور پر آنے کی اجازت نہیں دیتا۔
بائبل مقدس ہمیں افسیوں 13:1–14 میں بتاتی ہے کہ مسیحیوں پر روح القدس کی مہر لگی ہے اور روح القدس اُن میں سکونت کرتا ہے۔ بپتسمہ ایک طرح کا اخراجِ ارواح ہے جس میں شیطان اور اُس کے لشکر کو نکال دیا جاتا ہے۔ بدارواح روح کے پھل پیدا کرنے کی بجائے جسم کے کام یعنی گناہ کرنے کے لئے آزمائشوں میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں اور ہمیں ہماری نجات پر شک میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔
اس حوالے سے ایک اہم حوالہ 1 یوحنا 18:5–19 ملاحظہ ہو؛
ہم جانتے ہیں کہ جو کوئی خدا سے پیدا ہؤا ہے وہ گناہ نہیں کرتا بلکہ اُس کی حفاظت وہ کرتا ہے جو خدا سے پیدا ہؤا اور وہ شریر اُسے چھونے نہیں پاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں اور ساری دنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔
خدا کا روح ہم میں سکونت کرتا ہے اور روح القدس کبھی شیطان کو مہمان کے طور پر برداشت نہیں کرے گا۔ مسیحی کبھی بھی شیطان کے قبضے میں نہیں آ سکتے کیونکہ اُنہیں اُس کی حفاظت حاصل ہے جس نے صلیب پر شیطان اور اُس کے لشکر کا سر کچل دِیا۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.