Menu Close

Christ’s Descent Into Hell

Reading Time: 3 minutes

The following article was authored by Rev. Ronald Hanko and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

مسیح کا عالم ارواح یا برزخ میں اُترنا
مصنف: پادری رونالڈ ہینکو
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
رسولوں کے عقیدہ میں شامل اِن الفاظ کہ وہ عالم ارواح یا برزخ میں اُترا پر ہمیشہ سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسیح مرنے کے بعد اور جی اُٹھنے سے پہلے واقعی اُس مقام میں اُترا جسے عالم ارواح یا برزخ کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اِس کے لئے مستعمل لفظ دوزخ اور جہنم کے لئے بھی مستعمل ہے۔ اِس نظریے کو ثابت کرنے کے لئے 1 پطرس 18:3-20 کو پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، مذکورہ آیات ایک ایسی چیز کو بیان کرتی ہیں جو ”روح کے اعتبار سے“ ہوئی اور قیامت المسیح کے بعد واقع ہوئی۔ مزید برآں، یہ خیال کہ مسیح مرنے کے بعد عالم ارواح، برزخ یا دوزخ میں تھا، یسوع کے اُس وعدے سے متصادم ہے جو اُس نے صلیب پرتائب ڈاکو سے کیا کہ ”آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہو گا“(لوقا 43:23)۔
بعض لوگوں کے مطابق اِن الفاظ سے مراد وہ وقت ہے جو مسیح نے قبر میں گذارا۔ یہ وضاحت اُس ایک بائبلی حوالہ کے ساتھ سب سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے جس میں مسیح کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’تو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا نہ اپنے مقدس کو سڑنے دے گا‘‘(زبور 10:16)۔ آیت کے دوسرے حصے میں سڑنے کا ذِکر اور اِس سے پچھلی آیت میں مسیح کے جسم کا حوالہ، اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زبور 10:16 میں اُس کے دفن ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
لہٰذا، اعمال 31:2 میں زبور 10:16 کا حوالہ مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے تعلق سے دِیا گیا ہے۔ چناں چہ، ویسٹ منسٹر تفصیلی کیٹی کزم میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’مسیح کی موت کے بعد اُس کی فروتنی اِس بات پر مشتمل تھی کہ اُسے دفن کیا گیا اور وہ مردہ حالت میں اور موت کے اختیار کے تحت تین دن تک [قبر میں] رہا جسے دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ عالم ارواح میں اُترا‘‘(سوال و جواب 50)۔
تاہم، اعمال 31:2 میں جس لفظ کا ترجمہ ”عالم ارواح“ کیا گیا ہے، وہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو نئے عہدنامے میں دیگر تمام جگہوں پر ابدی سزا کی جگہ یعنی دوزخ اور جہنم کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ اِس لیے یہاں اِس لفظ کا ایک خاص مفہوم یہ بھی ہے کہ مسیح صرف قبر میں ہی نہیں تھا بلکہ ایک خاص مفہوم کے مطابق ”جہنم“ میں بھی تھا اگرچہ اِس سے یہ مراد نہیں کہ وہ واقعی جہنم میں موجود تھا جہاں بدکاروں کو ابدی سزا دی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہاں ” عالم ارواح، بززخ یا دوزخ میں اترنے“ سے مراد یہ نہیں کہ مسیح صلیب پر مرنے کے بعد جہنم میں گیا بلکہ یہ کہ صلیب پر اُس نے گناہ کے باعث خدا کے غضب، شدید روحانی کرب اور جہنم کے عذاب کی ہولناکی کو اپنے اُوپر برداشت کیا۔ ہائیڈل برگ کیٹی کزم میں اِسے دوزخ کی تلخی اور عذاب کے طور پر بیان کیا گیا ہے (سوال و جواب 44)۔
اُس نے اِس بات کا اظہار اپنے چوتھے صلیبی کلمے میں کیا جب کہا کہ ”اَے میرے خدا، اَے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟“ خدا کی حضوری سے نکال دیا جانا اور اُس کی طرف سے چھوڑ دِیا جانا ہی جہنم ہے۔ مسیح نے یہی عذاب برداشت کیا۔
پس، خواہ مسیح کا عالم ارواح میں اُترنا اُس کی تدفین کی طرف اشارہ کرتا ہو یا اُس اذیت کی طرف جو اُس نے صلیب پر ہماری خاطر برداشت کی یا پھر دونوں کی طرف، بہرحال یہ ہمیں اُس کے ناقابلِ بیان دکھ اور تکلیف کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہماری خاطر دکھ اُٹھانے اور مرنے کے وسیلے سے اُس نے ہماری جانوں کو گہری دوزخ سے نجات دِلائی ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اُنہی مصیبتوں کے وسیلے سے اُس نے اپنے تمام لوگوں کے لئے خدا اور مقدس فرشتوں کی حضوری میں ابدی جلال میں ایک مقام حاصل کیا ہے۔ وہاں نہ صرف وہ خود بلکہ ہم بھی اُس کے ساتھ، ابدی جلال اور مبارک حالی سے لطف اندوز ہوں گے۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.