Principle 3: Church Planting Should Gather Believers Together and Develop Unity (2:42–47, 4:32–35)

Reading Time: 3 minutes

This is the Urdu translation of Chapter 5, Church Planting Principles from the Book of ActsPart Two: The Method of Planting Churches (pages 61–68) from Planting, Watering, Growing: Planting Confessionally Reformed Churches in the 21st Century, edited by Daniel R. Hyde and Shane Lems, published in 2011 by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.

رسولوں کے اعمال کی کتاب سے کلیسیا قائم کرنے کے اصول

مصنف: ڈینی ایل آر ہائیڈ

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

تیسرا اصول: کلیسیا قائم کرنے کا مقصد ایمانداروں کو جمع کرنا اور یگانگت کو فروغ دینا ہے (42:2–47، 32:4–35)

یہ اصول اِس مثال سے اخذ کیا گیا ہے کہ ابتدائی کلیسیا کن چار چیزوں کے گردا گرد جمع اور متحد تھی؛ رسولوں سے تعلیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دعا کرنے میں مشغول۔ نئی کلیسیا قائم کرنا مشکل مگر فائدہ مند کام ہے کیونکہ اِس میں ایک گروہ کو متحد کرنا ہوتا ہے۔ کلیسیا قائم کرنے والے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ اپنے گروہ کو کس بنیاد پر جمع کرے یا کس چیز کے گرد متحد کرے۔ رسولوں کے اعمال کی کتاب کے مطابق، یہ علم الٰہی (رسولوں کی تعلیم)، عبادت (روٹی توڑنا اور دعا) اور جماعت (رفاقت) ہے ۔

شروع ہی سے، اِس سے مراد یہ ہے ایک نئی کلیسیا کو اپنے اقرارالایمان کے بارے میں واضح اور مضبوط ہونا چاہیے۔ خدا کے کلام کو جس کا مسیحی عقائد اور مشترکہ ایمان کی تین دستاویز اور ویسٹ منسٹر کے عقائدی معیارات میں خلاصہ کیا گیا ہے، کلیسیا کی تعلیم اور زندگی کا مرکز ہونا چاہیے۔ یہ کافی نہیں کہ ان عقائد کو صرف شام کی عبادات اور کیٹی کزم کے ذریعے سکھایا جائے بلکہ انہیں عبادات، منادی اور کلیسیائی ارکان سے اُن کے گھروں میں ملاقات میں بھی استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اپنے ایمان کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

ایک نئی کلیسیا کی بنیاد عبادتی بھی ہونی چاہیے۔ بالخصوص دورِ حاضرہ میں، دعاؤں پر زور دینا یعنی خداوند کے دِن کی باقاعدہ عوامی عبادت، ایک نئی کلیسیا کی نمایاں خصوصیت ہونی چاہیے۔کلیسیا کی اجتماعی عبادت علم الٰہی میں ہماری تربیت کرتی اور روحانی طور پر ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ مثلاً، میں جس کلیسیائی جماعت میں خدمت کرتا ہوں، وہاں صبح کی عبادت میں سب مل کر آمین کہتے ہیں، تثلیتِ اقدس کی تمجید کرتے ہیں، عشائے ربانی کے دوران میں روحانی دعائیں شامل ہوتی ہیں، اجتماعی طور پر گناہ کا اقرار کیا جاتا ہے ، عقائد کو دہرایا جاتا ہے اور بائبل مقدس سے ماخوذ جوابات شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عناصر کے ذریعے ہر ہفتے یکدل اور یک زبان ہو کر بہ طور ایک اُمت روحانی طور پر متحد ہوتے ہیں۔ نیز ، لوقا اعمال 42:2 میں ذکر کرتا ہے کہ ابتدائی کلیسیا روٹی توڑنے میں مشغول تھی۔ وہ روٹی سے پہلے اِسم معرفہ استعمال کرتا ہے تاکہ واضح کرے کہ وہ کس روٹی کی بات کر رہا ہے یعنی عشائے ربانی کی روٹی کی (لوقا 19:22)۔ اکثر عشائے ربانی کا اہتمام کرنے یعنی روٹی توڑنے کی ایک وجہ یہ ہے اِس سے کلیسیا کے بہت سے ارکان تجرباتی طور پر ایک ہی روٹی میں شریک ہوتے ہیں (1 کرنتھیوں 16:10–17)۔ اس لئے عشائے ربانی پر زور دینا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمیں مسیح اور ایک دوسرے سے متحد کرنے کے وسائل میں سے ایک ہے۔

آخر میں، ایک نئی کلیسیا کو ایسی جماعت ہونا چاہیے جو جمع ہونے اور یگانگت کو فروغ دے۔ یگانگت کو فروغ دینے کے عملی طریقوں میں ماہانہ ضیافتیں، گھروں میں بائبل مقدس کا باقاعدہ مطالعہ، تہواروں کی تقریبات، اجتماعی دعائیں اور خاص طور پر یہ کہ ہم اپنے کلیسیا کے ارکان خاندانوں کی مہمان نوازی کریں اور خداوند کے دِن کو مل کر رفاقت میں گذاریں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply