This excerpt is from The Church’s Hope: The Reformed Doctrine of the End by David J. Engelsma, Volume 1, Part 1, page 37, published in 2021 by Reformed Free Publishing Association. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
خدا کا جلال
مصنف: ڈیوڈ جے اینگلزما
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
عہد کی تکمیل، بادشاہی کی کاملیت اور کلیسیا کی مخلصی کے طور پر یسوع تثلیثِ اقدس کی طرف سے جسمانی طور پر آ موجود ہو گا۔ بالآخر، تمام چیزوں کی تکمیل اور خاتمہ خدا کے جلال کے لئے ہے۔ عہد کی تکمیل، بادشاہی کی کاملیت اور کلیسیا کو جلال بخشنے کے ذریعے خدا کا مقصد یسوع مسیح میں اپنا جلال ظاہر کرنا ہے۔ یہ بات 1 کرنتھیوں 23:15-28 میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے. یہاں موضوع مسیح کے آنے پر ہمارا جسمانی طور پر زندہ کیا جانا ہے (آیت 23)۔ مسیح کی آمد پر آخرت ہوگی(آیت 24)۔ اور جب سب کچھ اُس کے تابع ہو جائے گا تو بیٹا خود اُس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب چیزیں اُس کے تابع کر دِیں تاکہ سب میں خدا ہی سب کچھ ہو (آیت 28)۔ یسعیاہ نے اِس کی یوں نبوت کی؛ کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہو گی (یسعیاہ 9:11)۔ چنانچہ، علم الآخرت علم الٰہی ہے۔
اگر ہم یہ بھول جائیں کہ تمام چیزوں کی تکمیل اور اختتام خدا کے جلال کے لئے ہے تو ہم علم الآخرت سے متعلق غلط تعلیم سے گمراہ ہو سکتے ہیں۔ مثلاً، ہم یہ ماننے سے انکار کر سکتے ہیں کہ برگزیدہ لوگ بھی قیامت کے دِن اپنے اعمال کے مطابق پیش ہوں گے اور اُن کا حساب ہوگا۔ بعض لوگوں کو لگ سکتا ہے کہ برگزیدوں کی عدالت اُن کی تسلی کے برعکس ہے اور یہ صرف خدا کے فضل سے نجات کی انجیل کے متصادم ہے۔ لیکن جب ہم یاد رکھتے ہیں کہ آخری عدالت کا اصل مقصد خدا کا جلال ظاہر کرنا ہے تو ہم قبول کر لیتے ہیں کہ برگزیدوں کی بھی عدالت ہوگی تاکہ اُس سے دنیا کے سامنے خدا کی سچائی اور عدل ظاہر ہو۔
تمام چیزوں کے اختتام اور تکمیل کے مقصد کی طرح، دنیا کے ہر انسان کی زندگی کا اصل مقصد بھی خدا کا جلال ہے۔ اگر کوئی سمجھے کہ اُس کی زندگی کا مقصد صرف اُس کی اپنی خوشی ہے تو آزمائشوں، بوجھ، غم اور مایوسیوں کی وجہ سے وہ یہ شک کرنے لگے گا کہ خدا اُس کی زندگی کو صحیح انجام کی طرف لے جا رہا ہے یا نہیں۔ لیکن روحانی انسان یہ جان کر خود کو مضبوط رکھتا ہے کہ اُس کی زندگی کا اصل مقصد اُس خدا کا جلال ظاہر کرنا ہے جس پر وہ ایمان رکھتا ہے۔ پھر ایوب کی طرح جو انتہائی گہرے دکھ میں تھا اور جس کی ساری خوشی ختم ہو چکی تھی، وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ خداوند نے دِیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو (ایوب 21:1)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.