Menu Close

Introduction – Royal Light: Trinity, Theology and Mystery

tall tree growing in park

This booklet contains the fruits of a six year study of Christian systematic theology. Topics include the divine attributes of God, the Trinity, and the subject of union with Christ, among other things.

نورِ شاہانہ: تثلیث، علم الٰہی اور بھید
مصنف: جیسن فرگوسن
مترجم: ارسلان الحق
تعارف
خدا نے میری نوعمری کے آخری برسوں میں مجھے نجات عطا فرمائی۔ مجھے یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے وسط میں، مارچ کے مہینے میں ایک اتوار کی صبح، میں ایک نئے گرجا گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب عبادت ختم ہوئی تو میں اپنی نشست سے باہر نکلنے کے لیے بائیں جانب مڑنے لگا۔ اُسی لمحے اچانک مجھے ایک ایسی کیفیت محسوس ہوئی جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا احساس تھا جس کا تجربہ مجھے اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اِس کے بعد کبھی ہوا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی طرح اپنے گھر یعنی اپنی منزل پر پہنچ گیا ہوں۔ اِس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے اندر بائبل مقدس پڑھنے کی شدید خواہش پیدا ہوگئی۔ بائبل مقدس میرے لئے زندہ حقیقت بن گئی اور مجھے دنیا بھی ایک نئے انداز سے دکھائی دینے لگی۔ اِسی دوران میں مجھے احساس ہوا کہ میں گناہ گار ہوں اور مجھے نجات کی ضرورت ہے۔ چناں چہ، میں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا اور یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ اور خداوند قبول کرلیا۔
بہت سالوں بعد، زندگی کے بے شمار نشیب و فراز سے گزر کر، بالآخر خدا کے فضل سے، اپنی عمر کی تیس کی دہائی کے آخری برسوں میں، میں اصلاحی مسیحیت کی تعلیمات کی طرف راغب ہو گیا۔ میرے کالونسٹ بننے کے اہم اسباب میں سے ایک وہ روحانی انکشاف تھا جو مجھ پر افسیوں 8:2-9 کا مطالعہ کرتے وقت ہوا، کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں۔ خدا کی بخشش ہے۔ اِس آیت نے مجھے چونکا دیا کہ یہ فقرہ ’’یہ خدا کی بخشش ہے‘‘ میں لفظ ’’یہ‘‘ دراصل ایمان ہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ خدا پر حقیقی اور نجات بخش ایمان ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم خود اپنی کوشش سے پیدا کرسکیں۔ دوسرے لفظوں میں، جس ایمان کے وسیلے سے ہم نجات حاصل کرتے ہیں، وہ بھی خدا کی ہی عطا کردہ بخشش ہے۔ اِس کے بعد میں نے ایک مقامی اصلاحی بپتسماوی گرجا گھر میں جانا شروع کردیا۔
اپنی عمر کی چالیس کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں، انٹرنیٹ پر میری ملاقات پولینڈ کے ایک مسیحی سے ہوئی جس کا نام داریوش تھا۔ میں ایک خاص موضوع پر تحقیق کر رہا تھا اور اُس کے ساتھ ساتھ اُس موضوع کے حوالے سے بائبل مقدس کا مطالعہ بھی کر رہا تھا۔ ہماری گفتگو کے دوران میں، میں نے داریوش سے اُس موضوع پر مدد طلب کی اور اُس نے مجھے دو معروف ڈچ علما ہرمن باوِنک اور پیٹرس وان ماسٹرِخت کی لکھی ہوئی چند کتابوں کے مطالعے کا مشورہ دیا۔ میں نے یہ کتابیں خرید لیں اور اُن کا مطالعہ شروع کردیا۔ اُن کتابوں کو پڑھتے ہوئے مجھے ایک ایسے علم سے محبت ہوگئی جسے ہم سسٹیمٹک تھیالوجی یعنی منظم علمِ الٰہی کہتے ہیں۔ منظم علمِ الٰہی سے مراد مسیحی ایمان کے بنیادی عقائد کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت تک مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ منظم علمِ الٰہی نام کا بھی کوئی علم موجود ہے، میں نے سوچا کہ مجھے اپنی پوری زندگی میں اِس علم کے بارے میں پہلے کیوں معلوم نہیں ہوا؟ اِس انکشاف نے میری زندگی بدل دی اور مجھے روحانی اور فکری دونوں اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کردیا۔
چناں چہ، منظم علمِ الٰہی کے مختلف پہلوؤں کا چھ سال تک مطالعہ کرنے کے بعد، میں نے اِس موضوع پر علمی و الٰہیاتی مضامین لکھنا شروع کردیے اور اُنہیں سب اسٹیک نامی آن لائن پلیٹ فارم پر شائع کرنے لگا جو سوشل میڈیا کا ایک متبادل پلیٹ فارم ہے۔ اِس کتابچے میں جو کچھ پیش کیا گیا ہے، وہ میری سیکھی ہوئی باتوں میں سے کچھ کو بیان کرنے کی ایک نہایت معمولی سی کوشش ہے۔ اُمید واثق ہے کہ خداوند اِسے ذہنوں کو منور کرنے کے لیے استعمال کرے۔ میں نے پوری پوری کوشش کی ہے کہ اِس کتابچہ میں جو کچھ لکھوں وہ بائبل مقدس کی تعلیمات کے مطابق ہو اور کلامِ مقدس سے پوری طرح ہم آہنگ رہے۔ میری دعا ہے کہ یہ دوسرے مسیحیوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو۔
فی الحال میں شمال مشرقی ٹینیسی میں واقع ایک اصلاحی پریسبیٹیرین گرجا گھر میں عبادت کے لیے جاتا ہوں۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply