Day 20 – Oil and Unity
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
بیسواں دِن: تیل اور اتحاد
مصنف: مائیک ویلتھاؤس
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
زبور 133
آج کل زیتون کا تیل زیادہ تر گھروں میں استعمال ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ اور آپ کے والدین نے اسے کھانا پکانے میں استعمال کیا ہو۔ بائبل مقدس کے زمانے میں زیتون کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی اور اسرائیل میں زیتون کے درخت بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یروشلیم کے مشرق میں واقع گتسمنی کا باغ آج بھی زیتون کے درختوں سے بھرا ہوا ہے اور ان میں سے کچھ درخت تو یسوع کے زمانے سے بھی پہلے کے ہیں۔ اُس وقت لوگ زیتون کے درختوں سے پھل توڑتے، انہیں ایک گول پتھریلے حصے میں رکھتے اور پھر ایک بھاری پتھر کا پہیہ ان پر گھما کر دباتے تھے تاکہ زیتون کا تیل نکالا جا سکے۔
چونکہ اُس زمانے میں لوگ گھی استعمال نہیں کرتے تھے، اِس لیے وہ کھانا پکانے کے لیے زیتون کا تیل استعمال کرتے تھے۔ زیتون کا تیل چہروں اور بالوں کو چمک دیتا تھا (زبور 15:104). بنی اسرائیل اسے زخموں کے علاج کے لیے بطور دوا اور چراغوں کے لیے بطور ایندھن بھی استعمال کرتے تھے۔
ممکن ہے آپ بائبل مقدس میں زیتون کے تیل کے ایک اور استعمال کے بارے میں سوچ رہے ہوں جو شاید سب سے زیادہ اہم تھا۔ زیتون کا تیل مسح کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ بائبل مقدس میں تیل سے مسح کیے جانے کے سو سے زیادہ حوالے ملتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص عاجزی کے ساتھ سر جھکائے ہوئے ایک گھٹنے پر جھکا ہوا ہے اور خدا کا مقرر کیا ہوا بندہ اُس کے سر پر مینڈھے کے سینگ سے تیل انڈیل رہا ہے۔ وہ تیل اُس کے سر سے بہتا ہوا اس کی داڑھی، کپڑوں اور پورے جسم پر پھیل جاتا ہے۔ زیتون کا تیل اس بات کی علامت تھا کہ روح القدس نے اُس مسح ہونے والے شخص کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا ہے اور وہ خدا کی پاک خدمت کے لئے مخصوص اور دوسروں سے جدا کیا گیا ہے۔
زبور 133 میں داؤد تیل سے مسح کو ایک ایسے تصور سے جوڑتا ہے جس کے بارے میں شاید آپ نے پہلے نہ سوچا ہو، کلیسیا میں اتحاد۔ آیت 1 میں داؤد بیان کرتا ہے کہ کسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی (مسیح پر ایمان رکھنےکے ذریعے متحد) باہم مل کر رہیں۔ لیکن آیت 2 میں وہ اس اتحاد کو بیش قیمت تیل سے تشبیہ دیتا ہے جو سر پر لگایا گیا اور بہتا ہوا داڑھی پر بہتا ہے یعنی ہارون کی داڑھی پر آگیا بلکہ اُس کے پیراہن کے دامن تک جا پہنچا۔ تیل کو اتحاد سے جوڑنا آپ کو عجیب لگ سکتا ہے لیکن آئیے، دیکھتے ہیں کہ سردار کاہن کے لئے تیل کی کیا اہمیت تھی۔
سردار کاہن کو اس طرح تیل سے مسح کرنا کہ تیل اس کے پورے جسم پر بہے، اس بات کی علامت تھا کہ وہ لوگوں کا نمائندہ ہے۔ لوگ خود خیمۂ اجتماع میں قربانیاں پیش نہیں کرسکتے تھے یا بخور نہیں جلا سکتے تھے۔ اس کی بجائے کاہن ان کی نمائندگی کرتا تھا۔ تیل کے ذریعے جو اس کے پورے جسم پر بہتا تھا، لوگ اس مقدس کئے ہوئے (مخصوص اور دوسروں سے جدا) سردار کاہن سے متحد سمجھے جاتے تھے۔
یہ بات سب سے زیادہ نمایاں یومِ کفارہ کے دن نظر آتی تھی جو سال کا وہ واحد دن تھا جب سردار کاہن قربانی کے برّے کا خون لے کر پاک ترین مقام میں داخل ہوتا اور عہد کے صندوق کی کفارہ گاہ پر اسے چھڑکتا تھا۔ اگرچہ جسمانی طور پر صرف کاہن وہاں موجود ہوتا تھا لیکن روحانی طور پر ایسا تھا جیسے اسرائیل کی پوری قوم اُس کے ساتھ وہاں موجود ہو، اتحاد کے اس تیل کے سبب۔
اِس بات سے یہ بالکل واضح ہونا چاہیے کہ ہم مسیح کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اُس کو روح القدس سے مسح کیا گیا تھا۔ تصور کریں کہ تیل اُس کے سر سے بہتا ہوا اُس کے کپڑوں اور پاؤں تک پہنچ رہا ہے۔ اس طرح وہ ہمارا نمائندہ بنا جب اُس نے صلیب پر اپنے آپ کو خدا کے حضور قربان کیا اور ہمارے کفارے کے لیے اپنا خون بہایا۔ کیا آپ شکر گزار نہیں کہ اب ہمیں کسی زمینی سردار کاہن کی ضرورت نہیں جو جانوروں کی قربانیاں پیش کرے؟ اب ہمارے لئے یسوع کی حقیقی قربانی موجود ہے جو ہماری خاطر صلیب پر پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔
اتحاد کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ چونکہ ہم سب ایک ہی مسح شدہ سردار کاہن کے ذریعے نمائندگی رکھتے ہیں، اس لیے ہم ایک دوسرے سے بھی متحد ہیں۔ ہم سب مسیح کے بدن کا حصہ ہیں جس پر روح القدس کا تیل سر سے پاؤں تک بہا۔ جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں تو اِس بات پر غور کریں۔ آپ مسیح کے ذریعے اپنے خاندان کے ایماندار افراد سے متحد ہیں۔ آپ مسیح کے ذریعے اپنے نجات یافتہ ہم جماعتوں اور اساتذہ سے متحد ہیں۔ آپ اپنی کلیسیا کے بھائیوں اور بہنوں سے مسیح میں جڑے ہوئے ہیں۔ کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ داؤد نے اس اتحاد کو اچھا اور خوشی کی بات کیوں کہا؟ کیا یہ بات دوسروں کو مختلف انداز سے دیکھنے اور اُن کے ساتھ برتاؤ کرنے کے طریقے کو بدلنے میں مدد فراہم کرتی ہے؟
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.