The Blessed Man

Reading Time: 4 minutes

Day 30 – The Blessed Man
Journey Through the Psalms: A Thirty-Day Devotional
Written by Mike Velthouse
Translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2024. All rights reserved.

No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.

Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org

تیسواں دِن: مبارک آدمی

مصنف: مائیک ویلتھاؤس

ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق

زبور 1

یہ امر کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ کسی چیز کا اختتام اُس سے کیا جائے جو اُس کی ابتدا میں آتی ہے۔ ہم کوئی کھیل پہلے ہی مرحلے میں ہی ختم نہیں کرتے۔ نہ ہی ہم ایسی کتابیں پڑھتے ہیں جو پہلے ہی باب پر ختم ہو جائیں۔ لیکن ہمارے اِس تیس روزہ مطالعاتی سفر کا اختتام زبور 1 پر ختم کرنا بالکل موزوں ہے۔

ہمیں معلوم نہیں ہے کہ مزامیر کی کتاب میں زبور 1 سے 150 کو کس نے ترتیب دِیا۔ ممکن ہے یہ کام عزرا فقیہ نے کیا ہو یا اُن فقیہوں کے ایک گروہ نے جو یہودیوں کے ساتھ بابل کی ستر سالہ اسیری کے بعد واپس آئے تھے۔ مگر خدا ہم پر یہ بات ظاہر نہیں کرتا۔ البتہ خدا اپنے کلام میں یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ تمام مزامیر کا اصل مصنف اور ترتیب دینے والا روح القدس ہے اور اُسی نے ایک خاص مقصد کے تحت زبور 1 کو سب سے پہلے رکھا۔ پہلا زبور ہونے کی وجہ سے یہ اپنے بعد ترتیب میں آنے والے مزامیر کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ راہ دِکھاتا ہے کہ خدا کے حضور اور اُس کی شریعت کی روشنی میں کیسے زندگی بسر کریں اور درحقیقت یہ ہماری رہنمائی یسوع مسیح کی طرف کرتا ہے جو ہر زبور کا حقیقی مرکز ہے۔

اِس زبور کی پہلی ہی آیت میں ہمارا تعارف ایک مبارک آدمی سے کروایا جاتا ہے۔ یہ آدمی بظاہر کامل دِکھائی دیتا ہے۔ وہ شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا۔ وہ خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا۔ وہ ٹھٹھا بازوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا۔ بلکہ خداوند کی شریعت میں اُس کی خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دِن رات اُس کا دھیان رہتا ہے (آیت 2)۔ کیا آپ بھی اِسی طرح کے ہیں؟ آپ خداوند کی شریعت میں خوشی محسوس کرنے میں کیسے ہیں؟ بالکل کامل؟ یا کم از کم کسی اچھی حد تک؟ یہ کام بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ دِن رات؟ کیا ہم واقعی ایسی زندگی گذار سکتے ہیں جیسے یہ مبارک آدمی گذارتا ہے؟ یہاں مسئلہ واضح ہوتا ہے اور ہمیں اپنی کمزوری نظر آتی ہے۔ ہم گناہ گار ہیں اور اپنے بل بوتے پر ایسی زندگی نہیں گذار سکتے۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں۔ ایک بھی نہیں (رومیوں 12:3)۔ تو پھر یہ سب کچھ ہمارے لئے ناممکن محسوس ہوتا ہے۔ آخر کس طرح ہم ایسے مبارک شخص بن سکتے ہیں؟

لیکن یہاں خوشخبری ہے۔ یہاں جس آدمی کا ذکر ہے وہ آپ نہیں ہیں۔ نہ ہی یہ عام انسانوں کے بارے میں ہے اور نہ ہی کسی بہت خاص اعلیٰ مسیحی کے بارے میں۔ یہ مبارک آدمی ایک خاص شخصیت ہے۔ یہ شخصیت خداوند یسوع مسیح ہے۔ زبور 1 یہ بیان نہیں کرتا کہ آپ کو کیا کرنا ہے بلکہ اِس کے برعکس کہ یسوع نے آپ کے لیے کیا کیا ہے۔ وہ اِنسان بنا اور زمین پر خدا کی شریعت کی کامل فرماں برداری میں زندگی بسر کی اور ہمارے لیے اپنی جان دِی جب کہ ہم خود اُس کی شریعت کو پورا نہ کر سکے۔ اس کے نتیجے میں آپ مسیح کی برکتیں حاصل کرتے ہیں اور ایک مبارک شخص بن جاتے ہیں۔ کیا یہ واقعی خوشخبری نہیں؟

چونکہ یسوع ہی وہ مبارک آدمی ہے وہ اُس درخت کی مانند ہے جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے (آیت 3)۔ ایسا درخت ہمیشہ پانی سے سیراب رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ مضبوط رہتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم مسیح کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں یعنی متحد ہیں تو ہمیں بھی اُس سے روحانی طاقت اور نشوونما حاصل ہوتی ہے۔ اِسی تعلق کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے وہ فرماتا ہے، میں انگور کا درخت ہوں تم ڈالیاں ہو۔ جو مجھ میں قائم رہتا ہے اور میں اُس میں وہی بہت پھل لاتا ہے (یوحنا 5:15)۔ یہ کون سا پھل ہے؟ محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمان داری۔ حِلم اور پرہیزگاری (گلتیوں 5: 22-23)۔

اب آپ دوبارہ آیت 1 پر غور کریں اور اب آپ اِسے ناکامی کے خوف کے بغیر پڑھ سکتے ہیں۔اِس مبارک آدمی کی وجہ سے آپ مبارک ہیں۔ فقط یسوع، اُس کی کامل فرماں برداری اور اُس کے ساتھ متحد ہونے سے ملنے والے فضل کی بدولت آپ اب اُس طرح زندگی گذار سکتے ہیں جس کے لیے آپ بلائے گئے ہیں۔

اب آپ شریعت کے احکام کے تابع نہیں جن کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اب آپ محبت اور شکرگزاری کے ساتھ خدا کی شریعت میں خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں اور دِن رات اُس کی شریعت پر غور کرسکتے ہیں۔ کیا اب آپ سکون محسوس کرتے ہیں؟

یسوع۔ مبارک آدمی۔ کیا ہی شاندار طریقہ ہے کہ ہم مزامیر کے اِس مطالعاتی سفر کو اُسی پر نظریں مرکوز رکھتے ہوئے ختم کریں۔ کیا آپ نے ہر زبور میں مسیح کو دیکھا؟ ہم نے اُسے بیٹے، بادشاہ، نبی، کاہن، مسح کیے ہوئے مسیح ، موعودہ نسل اور ہر زبور کی کامل تکمیل کے طور پر دیکھا۔ ہم نے اُسے بڑے خطرے کے لمحات میں بھی دیکھا اور بڑی فتح کے وقت بھی۔ خوشی ہو یا غم، ہم نے اُس کی موجودگی کو محسوس کیا۔ خوف میں یا اعتماد کے لمحوں میں ، وہی ہماری رہنمائی کرتا رہا۔

کیا یسوع مسیح، مبارک آدمی، صرف موسیٰ، داؤد، سلیمان اور بابل میں اسیر یہودیوں کے لیے موجود تھا؟ نہیں۔ وہ آپ کے لیے بھی موجود ہے۔ آپ کامیابی کے وقت بھی اُسے دیکھیں گے اور مایوسی کے لمحات میں بھی۔ خوشی میں بھی اُس کی موجودگی محسوس کریں گے اور دِلی رنج کے وقت بھی۔ جب زندگی پرسکون ہوگی تب بھی وہ آپ کی رہنمائی کرے گا اور جب مشکلات آئیں گی تب بھی۔ خداوند کی حمد ہو۔

میں عمر بھر خداوند کی حمد کروں گا۔ جب تک میرا وجود ہے میں اپنے خدا کی مدح سرائی کروں گا (زبور 2:146)۔



Discover more from Reformed Church of Pakistan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply