This is the Urdu translation of Chapter 5, Church Planting Principles from the Book of Acts, Part Two: The Method of Planting Churches (pages 61–68) from Planting, Watering, Growing: Planting Confessionally Reformed Churches in the 21st Century, edited by Daniel R. Hyde and Shane Lems, published in 2011 by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
رسولوں کے اعمال کی کتاب سے کلیسیا قائم کرنے کے اصول
مصنف: ڈینی ایل آر ہائیڈ
ترجمہ و تالیف: ارسلان الحق
پہلا اصول: سب سے پہلے اپنے ہی علاقوں میں کلیسیائیں قائم کرنی چاہییں (اعمال 8:1)
ہم اِس پہلے اصول کو یسوع کی اپنے شاگردوں کو دی گئی ہدایت میں دیکھتے ہیں کہ وہ یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک انجیل کے گواہ ہوں (اعمال 8:1)۔ اعمال کی کتاب کے مطابق کلیسیا نے اِسی نمونہ پر عمل کیا جب اس نے انجیل کی منادی کے لئے مبلغین بھیجے؛ یروشلیم (ابواب 1–7) اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں (ابواب 8–12)بلکہ زمین کی انتہا تک (ابواب 13–28)۔
اس کا مطلب ہمارے لیے یہ ہے کہ کلیسیاؤں کو سب سے پہلے اپنے ہی علاقوں میں رسالت کے کام پر توجہ دینی چاہیے اور اِس کے بعد ہی دوسرے ملکوں میں رسالتی خدمت کے لئے رخ کرنا چاہیے۔ کوستا ریکا کے مشنری بل گرین کے مطابق، اپنے علاقے میں رسالتی خدمت ہمیں کلیسیا قائم کرنے کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور ہمیں خدا سے خرد اور قوت حاصل کرنے کے لیے از سرِ نو گھٹنوں پر دعا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اپنے ہی علاقوں سے آغاز کرنا دراصل ہماری کلیسیاؤں کو نئی کلیسیائی جماعتیں قائم کرنے اور رسالت کے عملی کام میں شامل کرے گا بجائے اس کے کہ ہم صرف کسی ادارے یا محکمے کو پیسے بھیجیں۔ اگر ہم اپنے ہمسایہ شہروں، علاقوں اور ملک پر توجہ مرکوز کریں تو ہم لازماً خداوند کے کام میں عملی طور پر شریک ہو جائیں گے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.