Day 24 – Worship in Spirit and Truth: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
چوبیسواں دِن: روح اور سچائی سے پرستش
ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستش کی اور تم کہتے ہوکہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہیے یروشلیم میں ہے۔ یسوع نے اُس سے کہا اے عورت ! میری بات کا یقین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یروشلیم میں۔ تم جسے نہیں جانتے اُس کی پرستش کرتے ہو۔ ہم جسے جانتے ہیں اُس کی پرستش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔ مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اور سچائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لئے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔ خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اُس کے پرستار روح اور سچائی سے پرستش کریں (یوحنا 20:4-24)۔
سامری عورت پر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یسوع بڑی آسمانی حکمت کا مالک ہے۔شاید اُس نے سوچا کہ یسوع اُس دیرینہ سوال کا جواب دے سکتا ہے جو یہودیوں اور سامریوں کے درمیان ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے،عبادت کے لیے درست جگہ کہاں ہے؟ یروشلیم میں یا سامریہ میں؟
پرانے عہدنامے میں خدا کی چنیدہ قوم یہودی لوگ تھے۔اُن کے پاس نجات کا زیادہ مکمل علم تھا جبکہ سامری صرف پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں پر اِیمان رکھتے تھے اِس لیے وہ خدا کے بارے میں مکمل علم نہیں رکھتے تھے۔ اِس کم فہمی کے ساتھ ساتھ دونوں گروہان کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے عبادت کی جگہ پر تنازع شروع ہوا۔
یسوع نے اُس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سمجھایا کہ نئے عہد نامہ میں اِیمان داروں کی پرستش کیسے بدل جائے گی۔ جس طرح یروشلیم کی ہیکل میں پرستش مستقل نہیں رہی ،اِسی طرح کوہِ گرزیم پر بھی پرستش مستقل نہیں رہے گی۔ یسوع نے مستقبل کی طرف اشارہ کیا جب سچی اور جھوٹی پرستش میں فرق اِس بات سے نہیں دیکھا جائے گا کہ کون کہاں پرستش کر رہا ہے بلکہ اِس بات سے کہ پرستش روح اور سچائی سے کی جا رہی ہے یا نہیں۔
نئے عہدنامے میں اِیمان دار کسی بھی قوم سے ہو سکتے ہیں اور خدا کی پرستش کہیں بھی کر سکتے ہیں کیونکہ خدا کا روح اُن کے اندر سکونت کرتا ہے۔ ہمارے بدن روح القدس کا مقدِس ہیں (1 کرنتھیوں 19:6)۔لیکن ضرور ہے کہ ہم سچائی کے ساتھ بھی پرستش کریں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خدا کی مرضی اور اُس کے کلام کے مطابق پرستش کرنی چاہیے نہ کہ اپنی خواہشات کے مطابق۔ خدا کا علم اُس کی درست پرستش کے لئے ضروری ہے۔ گو کہ، حقیقی پرستش صرف صحیح الفاظ یا کاموں تک محدود نہیں بلکہ سچے دِل سے ہوتی ہے۔
اِیمان داروں کی عبادت کا انداز آسمان میں پھر سے بدل جائے گا۔ یہ کیسا حیران کن تجربہ ہوگا جب عبادت کے دوران میں آپ اور آپ کے آسمانی باپ کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہے! کیا آپ ابدیت کے منتظر ہیں جب آپ زِندہ خدا کی حقیقی موجودگی میں اُس کی عبادت کرنے کے قابل ہوں گے (مکاشفہ 22:21)؟
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ یسوع کی یہ تعلیم کہ روح اور سچائی سے پرستش کی جائے، دورِ حاضرہ میں مقبول جذبات پر مبنی پرستش سے کس طرح مختلف ہے؟
٢۔ جذبات پر مبنی پرستش کرنے کی بجائے آپ دِل سے خدا کی پرستش کس طرح کر سکتے ہیں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خدا کا شکر ادا کریں روح القدس کی بخشش کے لئے جو آج آپ کو اُس کی پرستش کرنے کے قابل بناتا ہے۔
٢۔ خدا سے درخواست کریں کہ وہ آپ کے دِل اور دماغ میں کام کرے تاکہ آپ اُس کی پرستش روح اور سچائی سے کریں۔
٣۔ لوقا 46:1-47 میں موجود مقدسہ مریم کے اِن الفاظ کے ساتھ خدا کی حمد کریں، میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے اور میری روح میرے منجی خدا سے خوش ہوئی۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.