Day 25 – A Passion for Christ: Who is Jesus? Devotions on the Gospel of John for Teens, Book 1
Written by Abby Van Solkema
Translated into Urdu by Sunil Samuel
Translated and used by permission of the Reformed Free Publishing Association
Copyright © 2023. All rights reserved.
No part of this text may be reproduced, stored in a retrieval system, distributed to other web locations for retrieval, published in other media, mirrored at other sites, or transmitted in any form or by any means—for example, electronic—without the prior written permission from the publishers.
Reformed Free Publishing Association
1894 Georgetown Center Drive
Jenison, MI 49428
https://www.rfpa.org
یسوع کون ہے؟
یوحنا کی انجیل میں سےنوجوانوں کے لئے روحانی پیغامات (کتاب اوّل)
مصنفہ: ایبی وین سولکیما
مترجم: سنیل سموئیل
پچیسواں دِن: یسوع کے لئے جوش و جذبہ
عورت نے اُس سے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرستس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔ جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔ یسوع نے اُس سے کہا میں جو تجھ سے بول رہا ہوں وہی ہوں۔ اِتنے میں اُس کے شاگرد آگئے اور تعجب کرنے لگے کہ وہ عورت سے باتیں کر رہا ہے تو بھی کسی نے نہ کہا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ یا اُس سے کس لئے باتیں کرتاہے؟ پس عورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی۔ آؤ۔ ایک آدمی کو دیکھو جس نے میرے سب کام مجھے بتا دئے۔ کیاممکن ہے کہ مسیح یہی ہے؟ وہ شہر سے نکل کر اُس کے پاس آنے لگے (یوحنا 25:4-30)۔
سامری عورت پرستش کے بارے میں یسوع کے جواب سےشاید پوری طرح مطمئن نہیں ہوئی تھی اِسی لئے اُس نے کہا، جب وہ (مسیح) آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔ تب یسوع نے اپنے آپ کو اُس پر ظاہر کیا کہ میں جو تُجھ سے بول رہا ہے وہی ہوں (آیت 26)۔ یہ سن کر عورت خوشی اور حیرت سے بھر گئی کہ اُس کی ملاقات مسیح سے ہو چکی ہے۔ وہ اپنا پانی کا گھڑا وہیں چھوڑ کر چلی گئی کیونکہ اب اُسے پانی کی فکر نہیں رہی تھی۔
پھر وہ بے صبری سے شہر میں چلی گئی، عوامی شرمندگی اور رسوائی کو بھلا کر تاکہ اُن تمام لوگوں کو یسوع کے بارے میں بتا سکے جن سے وہ پہلے چھپتی رہی تھی۔ اُن کے سامنے گواہی دینے کے لیے اُس کے پاس کوئی تعلیمی قابلیت نہیں تھی سوائے اِس حقیقت کے کہ وہ مسیح سے ملی تھی۔ پھر بھی لوگوں نے اُس کی بات پر یقین کیا اور یسوع کو دیکھنے کے لیے چلے آئے۔
کیا آپ کو کبھی کسی نئی چیز کا شوق ہوا ہے یا کسی ایسے شخص سے ملے ہیں جن کے بارے میں آپ بات کرنے سے خود کو روک نہیں پاتے؟ ہم اُن چیزوں کے بارے میں بات کرنے سے خود کو روک نہیں پاتے جو ہمیں خوشی دیتی ہیں۔جو چیز ہمارے خیالات پر چھا جائے وہی ہماری گفت گو کا مرکز بن جاتی ہے۔
کیا آپ بھی ایسا ہی جوش وجذبہ رکھتے ہیں کہ دوسروں کو یسوع کے بارے میں بتائیں؟ یا پھر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ دوسروں کے ساتھ مسیح کے بارے میں زیادہ بات ہی نہیں کرتے؟ جب آپ روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں الجھ جاتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ یسوع کی محبت بانٹنامشکل ہو جاتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ زیادہ وقت بائبل مقدس میں خدا کا جلال دیکھنے میں صرف نہیں کر رہے کیونکہ آپ اسکول، کام کاج، تعلقات اور مشاغل میں بہت زیادہ مصروف ہیں؟
جب آپ یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کررہے ہیں تو اِس موقع کی تلاش میں رہیں کہ اپنے نجات دہندہ کے جلال پر غور کر سکیں۔ یاد رکھیں کہ انجیل کی سچائی کتنی پرجوش اور زندگی بدل دینے والی ہے چاہے آپ اِسے بچپن سے ہی سن رہے ہوں۔ آپ جو کچھ پڑھ رہے ہیں اُسے دوسروں کے ساتھ کیسے بانٹ سکتے ہیں؟ جو کچھ آپ سیکھ رہے ہیں کیا آپ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ اِس پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں یا شاید کسی غیر اِیمان دار ساتھی کے ساتھ؟ کیا آپ اِس کے بارے میں سوشل میڈیا پر تشہیر کر سکتے ہیں؟
شخصی جائزہ: اپنے آپ سے سوال کریں کہ
١۔ کیا آپ دوسروں کو یسوع کے بارے میں بتانے کے لئے پرجوش ہیں؟
٢۔ انجیل کی سچائی کے لیے آپ اپنے جوش وجذبہ کو پھر سے کس طرح تازہ کر سکتے ہیں؟
اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے وقت
١۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُس نے اپنے کلام کے وسیلے سے خود کو آپ پر ظاہر کیا۔
٢۔ اقرار کریں جب آپ نے اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات کو خدا کے کلام میں وقت گزارنے پر فوقیت دی ہو۔
٣۔ خداوند سے درخواست کریں کہ کہ وہ آپ کے دِل میں پھر سے جوش بھر دے تاکہ آپ دوسروں کے ساتھ یہ خوشخبری بانٹ سکیں کہ یسوع کون ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.