The following article, Christ’s Six Comings Before His Second Coming, was authored by Rev. Angus Stewart and originally published on the CPRC website. It has been translated into Urdu by Arslan Ul Haq.
مسیح کی آمدِثانی سے پہلے چھ مرتبہ آمد
مصنف: پادری اینگس اسٹیورٹ
ترجمہ کار: ارسلان الحق
بائبل مقدس ہمارے خداوند یسوع مسیح کی مستقبل میں ہونے والی جلالی آمد کے بارے میں بیان کرتی ہے جب وہ آسمان کے بادلوں پر اپنے فرشتوں کے ساتھ جسمانی صورت میں واپس آئے گا (مثلاً متی 30:24-31 ، مکاشفہ 7:1)۔ نئے عہدنامے کی روشنی میں ہم مسیح کی مزید چھ آمدوں کا ذکر کر سکتے ہیں جو سب اِس زمانے کے اختتام پر اُس کی واپسی سے پہلے واقع ہوں گی۔ پہلی تین صورتوں میں ہمارا نجات دہندہ پہلی صدی عیسوی میں رونما ہونے والے مخصوص واقعات کی پیش گوئی کرتا ہے جبکہ اگلی تین اُس کی اُن مسلسل آمدوں کے بارے میں ہیں جو آخری ایام کے دوران میں ہوتی رہتی ہیں۔ آخری ایام یعنی اخیر زمانہ اُس کی پہلی آمد سے شروع ہو کر اُس کی دوسری آمد تک جاری رہتا ہے۔
پہلی آمد۔ تجلی کے وقت: یسوع نے اپنے شاگردوں سے فرمایا، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک اِبنِ آدم کو اُس کی بادشاہی میں آتے ہوئے نہ دیکھ لیں گے موت کا مزہ ہرگز نہ چکھیں گے (متی 28:16 نیز مرقس 1:9 اور لوقا 27:9 ملاحظہ ہو)۔ اِس کے فوراً بعد، گلیل کے ایک اونچے پہاڑ پر، ہمارے خداوند کا چہرہ سورج کی مانند چمکنے لگا اور اُس کی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی۔ یہ منظر اُس کی آمدِثانی کے وقت ظاہر ہونے والے جلال کی تصویر پیش کرتا ہے (2 پطرس 16:1-18)۔
دوسری آمد۔ پینتی کوست کے وقت: اپنی زمینی زندگی کے آخری ہفتے کے دوران میں، بالاخانے میں مسیح نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کیا، میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔ میں تمہارے پاس آؤں گا (یوحنا 18:14)۔ یہ آمد اُس کے نمائندے، یعنی روح القدس کے وسیلے سے واقع ہونی تھی (آیات 16-17) جو اعمال 2 میں اُس کے شاگردوں پر نازل ہوا۔
تیسری آمد۔ سقوطِ یروشلیم (سن 70ء) کے وقت: ہمارے نجات دہندہ نے مقدس شہر یروشلیم کی تباہی کی پیش گوئی کی اور اُسے اُن طریقوں میں سے ایک قرار دیا جن کے ذریعے وہ آنے والا تھا کہ تم اِسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے کہ اِبنِ آدم آ جائے گا (متی 23:10 نیز 32:23-38 ملاحظہ ہو)۔ جب اُس کے شاگردوں نے اُس کی (دوسری) آمد کے بارے میں سوال کیا (3:24) تو یسوع نے ایسے مقامی اور مستقبل قریب کے واقعات کی طرف اشارہ کیا جوعالم گیر اور آخری واقعات کی پیشگی علامت تھے اور پہلی قسم کے واقعات کے بارے میں فرمایا، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی (متی 34:24)۔
چوتھی آمد۔ منادی کے وقت: اچھے چرواہے کی آواز اپنی بھیڑوں کو نام لے کر بلاتی ہے تاکہ وہ اُس کی پیروی کریں (یوحنا 3:10-4 ، 16 اور 27)۔ افسیوں 17:2 کی روشنی میں، جہاں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اُس نے آ کر تمہیں جو دُور تھے (یعنی غیر قوموں کو) اور اُنہیں جو نزدیک تھے (یعنی یہودیوں کو) صلح کی خوشخبری دِی، مسیح وفاداری کے ساتھ ہونے والی منادی میں، جہاں کہیں اور جب کبھی اُس کی سچائی کا اعلان کیا جاتا ہے، روحانی طور پر آتا ہے، جسمانی طور پر نہیں (رومیوں 10:14 ، افسیوں 21:4)۔
پانچویں آمد۔ ایمان داروں کی موت کے وقت: مصلوب ہونے سے ایک شام پہلے، یسوع نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کیا، اور اگر میں جا کر تمہارے لئے جگہ تیار کروں تو پھر آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو (یوحنا 3:14)۔ پس اِبنِ آدم اپنے ہرایک پیارے مقدس کی موت کے وقت آتا ہے تاکہ اُسے اپنے پاس آسمان پر لے جائے۔
چھٹی آمد۔ مسیح کی واپسی کی نشانیاں: یسوع نے واضح طور پر اعلان کیا، میں تم سے کہتا ہوں کہ اِس کے بعد تم اِبنِ آدم کو قادِرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے (متی 64:26)۔ میں جلد آنے والا ہوں (مکاشفہ 7:22) میں فعل زمانہ حال میں ہے نہ کہ زمانہ مستقبل میں۔ چناں چہ، علما اِس بات کی طرف ہماری توجہ دِلاتے ہیں کہ ایک اہم مفہوم میں مسیح زمانے کی نشانیوں کے ذریعے آتا ہے جس میں جنگیں، زلزلے، ایذا رسانی، برگشتگی وغیرہ شامل ہیں (متی 24 ، مکاشفہ 6-20)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.