This excerpt is taken from Beauty and Glory of Christ’s Bride by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Arslan Ul Haq.
ہم علانیہ اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ تم مجھے کیا کہتے ہو؟ شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو زِندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے (متی 15:16-16)۔ پس یسوع اپنے شاگردوں کو (جن میں ہم بھی شامل ہیں) خبردار کرتا ہے کہ پس جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے گا میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِقرار کروں گا۔ مگر جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے گا میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِنکار کروں گا (متی 32:10-33)۔ کلیسیا اور مسیحی، دونوں کی شناخت دنیا کے سامنے علانیہ مسیح کا اِقرار کرنے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پطرس کے اقرار کے فوراً بعد یسوع نے فرمایا، میں اپنی کلیسیا بناؤں گا (متی 18:16)۔ ارل بلیک برن لکھتا ہے، کلیسیائی رکنیت کی پہلی ذِمہ داری کلیسیا کے ساتھ وفاداری ہے۔ کلیسیا کے ساتھ وفاداری سے میری مراد کلیسیا کی تعلیمات کے ساتھ وفاداری ہے بشرطیکہ وہ تعلیمات خدا کے کلام کے مطابق ہوں۔ … لہٰذا یہ بالکل درست ہے کہ ایک کلیسیا اُس شخص سے، جو اُس کا رکن بننا چاہتا ہے، یہ تقاضا کرے کہ وہ اُس کی تعلیمات کے ساتھ وفادار ہو جیسا کہ اُس کلیسیا کے اِقرارالایمان یا عقائد کے تحریری مجموعہ میں بیان کیا گیا ہے۔ بلیک برن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کلیسیا کی رکنیت کے لیے ذاتی طور پر اِیمان کا اِقرار کرنا ضروری ہے۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.