This excerpt is taken from Walking as He Walked by Joel R. Beeke, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Arslan Ul Haq.
صلیب اٹھانا ہماری مسیحی زندگی کی بنیاد ہے
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
یقیناً اپنی صلیب اُٹھانا ایک مشکل موضوع ہے اور لوگ اکثر اِس کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم، صلیب اُٹھانا ہماری مسیحی زندگی کی بنیاد ہے۔ مسیح کی پیروی کرتے ہوئے اپنی صلیب اٹھائے بغیر ہم مسیحی نہیں ہو سکتے۔ لوقا 27:14 میں یسوع نے واضح طور پر فرمایا، جو کوئی اپنی صلِیب اُٹھا کر میرے پِیچھے نہ آئے وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔
مسیحی شاگردیت میں صلیب یا صلیب اُٹھانا دکھ اور بوجھ برداشت کرنے کے لیے ایک استعارہ ہے اور اِس میں ہمارے اِیمان کی قوت کو آزمانا اور اس کا تجربہ کرنا شامل ہے۔ جان کالون نے تعلیم دی کہ صلیب اُٹھانا مسیحی زندگی کا ایک گہرا حصہ ہے۔ اُس کے مطابق، جو لوگ مسیح کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں، اُنہیں دکھوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اِس کی ایک بڑی وجہ ایمان دار کا مسیح کے ساتھ دائمی اتحاد ہے۔ چونکہ یسوع کی زندگی مسلسل دکھوں اور مصائب سے بھری ہوئی صلیب کی زندگی تھی، اِس لیے ہماری زندگی میں بھی دکھ اور تکالیف لازمی ہیں۔ صلیب اُٹھانے کے ذریعے ہم نہ صرف مسیح کے کفارے کے فوائد میں شامل ہوتے ہیں بلکہ روح القدس کے اُس کام کا بھی تجربہ کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم مسیح کی شبیہ میں تبدیل کئے جاتے ہیں۔
صلیب اُٹھانا ہمارے اِیمان کو آزماتا ہے۔ کالون کے مطابق، صلیب اُٹھانے کے ذریعے ہم امید رکھنے کے لیے بیدار کیے جاتے ہیں، صبر کی تربیت پاتے ہیں، فرماں برداری سیکھتے ہیں اور اپنے غرور کے لیے تادیب پاتے ہیں۔ صلیب اُٹھانا ہماری دوا بھی ہے اور ہماری تادیب بھی۔ اِس کے ذریعے ہماری جسمانی کم زوری ہم پر ظاہر ہوتی ہے اور ہم سیکھتے ہیں کہ راست بازی کی خاطر دکھ برداشت کریں (انسٹی ٹیوٹس، تیسری کتاب، آٹھواں باب، حصص 1 تا 9)۔ اِن تمام وجوہ کی بنا پر صلیب اُٹھانا ہمارے لیے ناگزیر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اپنی صلیب اُٹھانا کیسے سیکھتے ہیں؟
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.