This excerpt is taken from Why Should I Be Interested in Church History? by By Joel R. Beeke and Michael A.G. Haykin, published by Reformation Heritage Books. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
خدا بلاشبہ تاریخ میں سرگرمِ عمل ہے
مصنف: جوئیل رابرٹ بیکی
مترجم: ارسلان الحق
مسیحیوں کے لیے تاریخ وہ مقام ہے جہاں مخلصی کا منصوبہ ظاہر ہوتا ہے۔ اِبتدا میں انسان کا گناہ میں گرنا اور اختتام پر آخری عدالت ہے۔ اِن دونوں کے درمیان سب سے اہم واقعہ یہ ہے کہ ازلی خدا بہ طور ایک انسان کے یعنی یسوع مسیح مجسم کلام کی حیثیت سے زمان و مکان میں داخل ہوا۔ نئے عہدنامے کے نقطۂ نظر سے، تجسم مسیح اُس تاریخِ نجات کا نکتہ عروج ہے جس کا خاکہ پرانے عہدنامے میں پیش کیا گیا ہے (گلتیوں 4:4 ، عبرانیوں 1:1-2)۔ تجسم نے تاریخ کو تقدس بخشا اور نجات کی ایسی تاریخ کا آغاز کیا جس میں نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا شامل ہے (متی 18:28-20 ، مرقس 15:16-16)۔
مسیحی نقطۂ نظر سے، خدا بلاشبہ تاریخ میں سرگرمِ عمل ہے اور اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے (افسیوں 11:1)۔ ٹام ویلز کے مطابق، جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم خدا کے کام کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں (ٹام ویلز، کلیسیائی تاریخ کا مطالعہ کیوں کریں، بینر آف ٹروتھ، صفحہ نمبر 191، 1979ء)۔ اور صرف اِسی وجہ سے تاریخ کا مطالعہ کرنا بالکل درست اور مناسب ہے۔ خدا نہیں چاہتا کہ اُس کے کام بھلا دیے جائیں بلکہ اُس نے اپنے عجائِب کی یادگار قائِم کی ہے (زبور 4:111)۔ اگرچہ زمانے کی ریت پر خدا کے قدموں کے نشانات کو ہر تفصیل کے ساتھ تلاش کرنا ناممکن ہے لیکن خدا کے کام کرنے کا انکار کرنا کفر کے مترادف ہے۔ اُس کا کام اکثر پوشیدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ بائبلی تعلیم ہے کہ ہم اقرار کریں کہ اپنی پروردگاری کے ذریعے وہ اپنے نام کے جلال اور اپنے لوگوں کی بھلائی کے لئے تاریخ کی رہنمائی کر رہا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ خدا کے عدل کو بھی نمایاں کر سکتا ہے، وہ خدا جو ہر روز (شریروں پر) قہر کرتا ہے (زبور 11:7)۔ جان کالون (1509ء-1564ء) نے فرمایا، پس ایمانداروں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ ہر دور کی تاریخ پر غوروخوض کریں تاکہ وہ ہمیشہ کلامِ مقدس کی روشنی میں اُن مختلف ہلاکتوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر بدکاروں پر نازل ہوئی ہیں (پیدائش 18:18 کی تفسیر، جان کالون، تفاسیر، بیکر، 2003ء)۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.