The following exegetical article, Born of God: The Miracle of Spiritual Birth in John 1:12-13, was authored by Justin Hoke and originally published on the CCRMin website. It has been translated into Urdu by Pastor Arslan Ul Haq.
خدا سے پیدا ہونا: یوحنا 12:1-13 میں روحانی پیدائش کا معجزہ
تفسیری مضمون
مصنف: جسٹن ہوک
ترجمہ کار: ارسلان الحق
لیکن جِتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ وہ نہ خون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے (یوحنا 12:1-13)۔
یہ آیات یوحنا کی اِنجیل کے دیباچے سے متعلق ہیں جہاں یوحنا اُس ازلی کلام کا تعارف کراتا ہے جو آدمیوں کا نور اور زندگی ہے۔ آیت 11 میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح اپنے لوگوں کے پاس آیا (یعنی یہودیوں کے پاس) لیکن اُنہوں نے اُسے قبول نہ کیا۔ تاہم، کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ آیات 12-13 میں یوحنا اپنی توجہ اُن لوگوں کی جانب مبذول کرتا ہے جِتنوں نے مسیح کو قبول کیا۔
جتنوں نے اُسے قبول کیا ایک آفاقی (عالم گیر) بیان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ وہ یہودی ہوں یا غیر قومیں۔ یہ الفاظ قبول کیا دیدہ دانستہ، عمداً اور ذاتی طور پر قبول کرنے کا مفہوم رکھتے ہیں۔ یہ محض ذہنی طور پر کسی بات کو درست مان لینا نہیں بلکہ مسیح کو اپنی زندگی میں خوش آمدید کہنا ہے۔
ایسے لوگوں کو مسیح خدا کے فرزند بننے کا حق بخشتا ہے۔ اِس لفظ حق کا ترجمہ اختیار یا سند بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک قانونی اِصطلاح ہے جو ایک جائز حق یا دعوے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں صرف خدا کے فرزند بننے کے لئے امکان پیدا کیا گیا ہے بلکہ اُنہیں یہ حق بخشا گیا ہے کیونکہ خود مسیح نے یہ حق بخشا ہے۔
یہ حق اُن لوگوں کو بخشا جاتا ہے جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ یہ الفاظ اِیمان لاتے ہیں فعل حال میں مستعمل ہیں جو مسلسل عمل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ محض ایک مرتبہ کا واقعہ نہیں بلکہ مسیح پر مسلسل بھروسا رکھنے کا عمل ہے۔ اُس کے نام پر اِس ایمان کے مرکز کو واضح کرتا ہے۔ یہ کسی عمومی عقیدے کی بات نہیں بلکہ یسوع مسیح کی ذات اور اُس کے کام پر خاص بھروسا ہے۔
آیت 13 پھر واضح کرتی ہے کہ خدا کے فرزندوں کے طور پر یہ نئی پیدائش کیسے واقع ہوتی ہے۔ یہ خون سے نہیں یعنی یہ جسمانی نسل یا خاندانی نسب کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ یہ جسم کی خواہش سے بھی نہیں یعنی یہ اِنسانی کوشش یا اِنسانی فیصلے کا نتیجہ نہیں۔ اور یہ انسان کی اِرادہ سے بھی نہیں یعنی کسی دوسرے شخص کے اِنتخاب یا اِرادے سے بھی نہیں ہوتی۔
بلکہ یہ نئی پیدائش خدا سے ہوتی ہے۔ یہ خدا کا خودمختار، حاکمانہ اور معجزانہ کام ہے۔ جس طرح ہماری جسمانی پیدائش کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہم خود منتخب کرتے یا اپنے زور سے وجود میں لاتے ہیں، اُسی طرح ہماری روحانی پیدائش بھی مکمل طور پر خدا کا کام ہے۔
یہ ایک نہایت گہری سچائی ہے جو ہمیں فروتن کرتی اور خدا کے فضل کو جلال دیتی ہے۔ ہم اپنی قابلیت، کوشش یا اِنتخاب کی وجہ سے خدا کے فرزند نہیں بنتے۔ یہ خدا ہی ہے جو ہمیں اپنے فرزند بننے کا حق بخشتا ہے جب ہم مسیح کو قبول کرتے اور اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ جیسا کہ پولس رسول افسیوں 8:2-9 میں لکھتا ہے، کیونکہ تم کو اِیمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں۔ خدا کی بخشِش ہے۔ اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔
اِس سچائی سے ہمارے دِل شکرگزاری اور اطمینان سے معمور ہونے چاہییں۔ ہماری نجات اِبتدا سے اِنتہا تک خدا ہی کا کام ہے۔ اُس نے ہمیں چنا، ہمیں بلایا اور ہمیں اپنے فرزند بننے کا حق بخشا۔ اور اگر یہ خدا کا کام ہے تو یہ ایسا کام ہے جو ناکام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اُسے خراب کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پولس فلپیوں 6:1 میں لکھتا ہے، اور مجھے اِس بات کا بھروسا ہے کہ جِس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دِن تک پورا کر دے گا۔
Discover more from Reformed Church of Pakistan
Subscribe to get the latest posts sent to your email.